سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی فورسز کے ساتھ
دتہ خیل، سپن وام اور بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور شدت پسند نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دتہ خیل، سپن وام اور بنوں کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں، جن میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم شدت پسند تنظیم “فتنہ الخوارج” سے تعلق رکھنے والے 23 دہشت گرد مارے گئے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں خفیہ اطلاعات اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت سے متعلق مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کی گئیں، جن کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا۔
شدید جھڑپوں میں اہم کمانڈر ہلاک
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں “خارجی رنگ” کا اہم کمانڈر جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل ہے، جو سیکیورٹی فورسز کو انتہائی مطلوب تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جان میر عرف طور ثاقب متعدد دہشت گرد حملوں، سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھا۔ اس کی گرفتاری یا ہلاکت کے لیے حکومت کی جانب سے سر کی قیمت بھی مقرر کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق اس شدت پسند کمانڈر کی ہلاکت کو علاقے میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلحہ، بارود اور دیسی بم برآمد
کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم برآمد کیے۔
حکام کے مطابق یہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال کیا جانا تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو بھی تباہ کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال زیر زمین سرنگوں، خفیہ راستوں اور بنکروں کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک کا بھی پتہ چلایا گیا، جسے بعد ازاں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کا عزم
سیکیورٹی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا اور سرحدی و قبائلی علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
فورسز نے واضح کیا کہ علاقے میں موجود باقی دہشت گرد عناصر کے خاتمے تک سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری رہیں گے۔
“عزمِ استحکام” کے تحت آپریشنز جاری
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں قومی ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن عزمِ استحکام کے تحت جاری انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں۔
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، جس کے تحت دہشت گردوں کے نیٹ ورکس، مالی معاونت، سہولت کاروں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقامی آبادی کا تعاون اہم قرار
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مقامی آبادی کا تعاون انتہائی اہم ہے اور عوام کی فراہم کردہ معلومات نے کئی اہم کارروائیوں کو کامیاب بنانے میں مدد دی ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ
پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی اور دہشت گرد عناصر کو کسی صورت دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کامیاب کارروائیاں نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کے لیے بڑا دھچکا ہیں بلکہ اس سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے اور ریاستی رٹ مضبوط ہونے کی توقع بھی بڑھ گئی ہے۔



