غیر ملکی آپریٹرز کے لیے ریل نیٹ ورک کھولنے کی نئی پالیسی کے تحت پاکستان امریکی سرمایہ کاری
سرمایہ کاروں کے لیے وسطی ایشیا-گوادر مال بردار رابطے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزارت برائے ریلوے نے جمعہ کو کہا ہے کہ پاکستان اپنے ریلوے نیٹ ورک کے بعض حصوں کو ایک نئی "ٹریک ایکسیس پالیسی” کے تحت غیر ملکی شراکت کے لیے کھول رہا ہے۔ اسلام آباد ریل کے پرانے ڈھانچے کی جدید کاری اور علاقائی تجارتی روابط بڑھانے کے لیے امریکی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔
جیسا کہ اس وقت حکومت اقتصادی اصلاحات اور علاقائی روابط کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے تو یہ پالیسی پاکستان کی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ریلوے سیکٹر کو بحال کرنے، مال برداری کی صلاحیت بہتر بنانے اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستان نے طویل عرصے سے سرکاری ریل نیٹ ورک پر انحصار کیا ہے جو پرانے انفراسٹرکچر، مالی نقصانات اور مال برداری میں گرتے ہوئے حصص کے مسائل سے دوچار ہے۔
نئی ٹریک ایکسیس پالیسی کے حوالے سے اعلان پاکستان کے وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی اور امریکی سفیر نٹالی بیکر کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران ہوا۔ اس دوران فریقین نے ریلوے کے انفراسٹرکچر، لوکوموٹیوز، مال برداری نظام اور ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی میں دوطرفہ تعاون اور ممکنہ امریکی سرمایہ کاری پر تبادلۂ خیال کیا۔
حنیف عباسی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا، "پاکستان ریلوے عالمی شراکت داروں کے لیے ٹریک ایکسیس پالیسی متعارف کروا رہا ہے اور امریکی سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔”
بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والے ٹریک ایکسیس سسٹم کے تحت نجی یا غیر ملکی آپریٹرز کو ریاست کے زیرِ ملکیت ریلوے انفراسٹرکچر استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے جس کی عموماً فیس وصول کی جاتی ہے۔
وزارت نے کہا کہ بات چیت میں ریلوے آلات اور ٹیکنالوجی بنانے والی امریکی کمپنیوں سے تعاون بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
وزیر نے کہا، "پاکستان ریلوے میں امریکی ساختہ 254 لوکوموٹیوز دوطرفہ تعاون کی روشن مثال ہیں۔”
پاکستانی حکام نے بذریعہ ریل علاقوں کو مربوط کرنے کے ان اقدامات پر بھی روشنی ڈالی جو وسطی ایشیا کو پاکستان کی جنوب مغربی گوادر بندرگاہ سے
ملانے کے لیے جاری ہیں۔ یہ ازبکستان، قازقستان اور سرحدی شہر نوکنڈی کے راستے ہو گا۔
اسلام آباد نے نقل و حمل کے ایسے راستوں کو تیزی سے فروغ دیا ہے جو وسطی ایشیا، چین اور بحیرۂ عرب کو ملانے والے علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر پاکستان کو ایک اہم مقام دلانے کے وسیع تر منصوبوں کا حصہ ہیں۔
وزارت نے کہا کہ امریکی سفیر نے پاکستان ریلوے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے حمایت کی یقین دہانی کروائی اور ریلوے کے انفراسٹرکچر اور جدید ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی میں مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔



