یورپتازہ ترین

یورپ کا 2040 تک چھٹی جنریشن کا فضائی جنگی نظام مشکلات کا شکار

یہ تجویز اس منصوبے کے لیے ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جسے کبھی فرانس اور جرمنی کے فوجی اتحاد کی علامت قرار دیا جاتا تھا۔

مصنفہ: شرشٹی منگل پال

قیادت، فوجی ترجیحات اور صنعتی کنٹرول پر اختلافات کے باعث یورپ کا 116 ارب ڈالر مالیت کا جنگی طیارہ منصوبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ یہ اختلاف اب فرانس اور جرمنی کے مشترکہ ٹینک منصوبے کو بھی اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔

ایئربس کمپنی، جو فیوچر کامبیٹ ایئر سسٹم (ایف سی اے ایس) میں جرمنی اور اسپین کی نمائندگی کرتی ہے، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ برسوں سے جاری سیاسی اور صنعتی تنازعات کے بعد وہ اس پروگرام کی ازسر نو تنظیم کے لیے تیار ہے۔

اس میں ایک ‘دو فائٹر جیٹ حل‘ کی تجویز بھی شامل ہو سکتی ہے، جس کے تحت فرانس اور جرمنی الگ الگ جنگی طیارے تیار کریں گے، جبکہ ڈرونز، سینسرز اور میدان جنگ کو حقیقی وقت میں جوڑنے والے ڈیجیٹل سسٹمز پر باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔

یہ تجویز اس منصوبے کے لیے ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جسے کبھی فرانس اور جرمنی کے فوجی اتحاد کی علامت قرار دیا جاتا تھا۔

یہ تنازعہ اب ایک اور زیادہ اہم سوال کو بھی جنم دے رہا ہے کہ کیا یورپ کی بڑی طاقتیں اب بھی مل کر بڑے ہتھیاروں کے نظام تیار کر سکتی ہیں؟

ایف سی اے ایس کے جوہری عزائم نے اختلاف پیدا کر دیا

ایف سی اے ایس کا آغاز فرانس اور جرمنی نے 2017 میں کیا تھا، بعد میں اسپین بھی اس میں شامل ہو گیا۔ تقریباً 100 ارب یورو (116 ارب ڈالر) مالیت کے اس منصوبے کا مقصد 2040 تک چھٹی جنریشن کا فضائی جنگی نظام تیار کرنا ہے۔

یہ پروگرام صرف ایک جدید جنگی طیارے تک ہی محدود نہیں۔ اس میں ڈرونز، ریموٹ کیریئرز اور انجنز کے ساتھ ساتھ ایک ایسا ’کامبیٹ کلاؤڈ‘ بھی شامل ہے، جس کا مقصد طیاروں، سینسرز اور میدان جنگ کے ڈیٹا کو حقیقی وقت میں آپس میں جوڑنا ہے۔

تاہم خود جنگی طیارہ اس منصوبے میں سب سے بڑی کشیدگی اور اختلاف کا سبب بن گیا ہے۔

فرانس چاہتا ہے کہ مستقبل کا یہ جنگی طیارہ، طیارہ بردار بحری جہازوں سے بھی آپریٹ کر سکے اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ دوسری جانب جرمنی، جو ایک غیر جوہری طاقت ہے، کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے حال ہی میں اس اختلاف کو کھلے عام تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کو جوہری صلاحیت رکھنے والا نئی جنریشن کا جنگی طیارہ درکار ہے، جبکہ جرمنی کو اس وقت اپنی فوج کے لیے ایسی صلاحیت کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دونوں فریق ان اختلافات کو حل نہ کر سکے تو ”ہم اس منصوبے کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔‘‘

Infografik Kampfflugzeuge Bundeswehr EN

سیاسی اختلافات دراصل صنعتی تنازعے کا نتیجہ

فرانسیسی کمپنی داسو ایوی ایشن جو رافال جنگی طیارے تیار کرتی ہے، نئے جنگی طیارے پر مکمل کنٹرول چاہتی ہے جبکہ ایئربس ڈیفنس اینڈ اسپیس، جرمنی اور اسپین کے صنعتی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے اور اس منصوبے میں بڑا کردار چاہتا ہے۔

اس کے نتیجے میں قیادت، کام کی تقسیم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر ایک طویل تنازعہ جاری ہے۔ ان کمپنیوں کے درمیان ثالثی کی کئی کوششیں بھی کسی پیش رفت کا باعث نہ بن سکیں۔

اب ایئربس نے اشارہ دیا ہے کہ شاید حل یہ ہے کہ ایک ہی طیارے پر تمام ضروریات پورا کرنے کا دباؤ ڈالنا بند کر دیا جائے۔

کامبیٹ کلاوڈ سے جنگ کے دوران مختلف جنگی جہازوں کے مابین کمیونیکیشن میں کافی مدد ملے گی
کامبیٹ کلاوڈ سے جنگ کے دوران مختلف جنگی جہازوں کے مابین کمیونیکیشن میں کافی مدد ملے گیتصویر: Airbus

کامبیٹ کلاؤڈ شاید برقرار رہے

بہت سے تجزیہ کاروں کے نزدیک اب ایف سی اے ایس کا سب سے اہم حصہ خود فائٹر جیٹ نہیں رہا۔ کامبیٹ کلاؤڈ، یعنی وہ ڈیجیٹل نظام جو جنگی طیاروں، ڈرونز، سینسرز اور ہتھیاروں کو آپس میں جوڑتا ہے، اب اس شعبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں یورپی تعاون کی اب بھی مضبوط بنیاد موجود ہے۔

دفاعی امور کے ماہر کرسٹیان مؤلنگ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کامبیٹ کلاؤڈ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس میدان میں یورپ اب بھی امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ دیگر ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ ڈرونز، سافٹ ویئر اور میدان جنگ میں نیٹ ورکنگ جیسے شعبے اس وقت بھی جاری رہ سکتے ہیں جب جنگی طیارے والا حصہ تقسیم ہو جائے یا محدود کر دیا جائے۔

یہ اصل منصوبے کے مقابلے میں ایک چھوٹی سیاسی کامیابی ہو گی، لیکن اس سے ایف سی اے ایس کو مکمل طور پر ناکام ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

جرمنی کا لیوپارڈ ٹو ٹینک
ایم جی سی ایس کا مقصد جرمنی کے لیوپارڈ ٹو اور فرانس کے لکلرک ٹینکوں کی جگہ لینا تھاتصویر: Artur Widak/NurPhoto/picture alliance

یورپ کا مستقبل کا ’سپر ٹینک‘ بھی خطرے میں

ایف سی اے ایس کے گرد پیدا ہونے والی مشکلات اب ایک اور اہم فرانسیسی جرمن منصوبے ‘مین گراؤنڈ کامبیٹ سسٹم‘ (ایم جی سی ایس) تک بھی پہنچ رہی ہیں۔

ایم جی سی ایس کا مقصد جرمنی کے لیوپارڈ ٹو اور فرانس کے لکلرک ٹینکوں کی جگہ لینا تھا۔ اسے 2017 میں پیرس اور برلن کے درمیان ایک وسیع سیاسی معاہدے کے تحت شروع کیا گیا تھا۔

کام کی تقسیم واضح تھی۔ فرانس اپنی کمپنی داسو ایوی ایشن کے ذریعے مستقبل کے جنگی طیارے پر کام کرے گا، جبکہ جرمنی اپنی بکتر بند گاڑیوں کی صنعت کی بنیاد پر مستقبل کے ٹینک منصوبے کی قیادت سنبھالے گا۔

مقصد صرف ہتھیار تیار کرنا نہیں تھا بلکہ یورپ کی دو بڑی فوجی طاقتوں کو ایک دوسرے سے مضبوطی سے جوڑنا بھی تھا۔ لیکن اب یہ معاہدہ کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ اگر ایف سی اے ایس منقسم، تشکیل نو یا کمزور ہوتا ہے تو اس سے ایم جی سی ایس کا توازن بھی بگڑ سکتا ہے، اور موجودہ حالات کے پیش نظر یہ نظام 2040 سے پہلے فعال نہیں ہو سکے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button