مشرق وسطیٰتازہ ترین

بھیڑیں چرا لیے جانے سے فلسطینی چرواہوں کی عید کی خوشیاں ماند

راشد نے بتایا کہ اسرائیلی آبادکار علاقے میں چرواہوں پر تقریباً روزانہ حملے کر رہے تھے اور گھروں اور بچوں کی طرف مرچوں والی گیس کا اسپرے کرتے تھے۔

روئٹرز کے ساتھ

فلسطینی خاتون سمیحہ راشد، جو بھیڑیں چرانےکا کام کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ سے قبل یہودی آبادکاروں نے ان کی 45 بھیڑیں چرا لیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

عید کی خوشیاں منانے کے بجائے راشد اب بالکل خالی ہاتھ رہ گئی ہیں اور ان بھیڑوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بھی محروم ہو گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی آبادکاروں نے مسافر یطا میں ان کے گھر سے تقریباً 45 بھیڑیں چرا لیں۔ چوری سے پہلے حملہ آور ان کے محافظ کتوں کو بھی لے گئے، جس کی وجہ سے 21 مئی کو صبح سویرے جب وہ ان کے گھر میں داخل ہوئے اور جانوروں کو ہانک کر ساتھ لے گئے، تو کسی کو خبر نہ ہو سکی۔

راشد، جن کے شوہر کینسر کے مریض ہیں، نے روئٹرز کو بتایا، ”یہی ہمارا ذریعہ معاش ہے۔ میں اور میرے شوہر انہی بھیڑوں کی آمدنی سے زندگی گزارتے تھے۔ اب میرے پاس نہ شوہر کے علاج کے لیے کچھ بچا ہے اور نہ ہی گھر داری پر خرچ کے لیے۔‘‘

محمد ابو فادی خاندان کی بھیڑوں اور بکریوں کے باڑے میں کھڑے نظر آ رہے ہیں
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پولیس بھیڑوں کو چرانے کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔تصویر: Andrea Krogmann

گھروں اور بچوں پر مرچوں والی گیس کا اسپرے

راشد نے بتایا کہ اسرائیلی آبادکار علاقے میں چرواہوں پر تقریباً روزانہ حملے کر رہے تھے اور گھروں اور بچوں کی طرف مرچوں والی گیس کا اسپرے کرتے تھے۔

روئٹرز کو حاصل ہونے والی اور اس نیوز ایجنسی کی تصدیق شدہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نقاب پوش افراد کو رات کے وقت فارم سے بھیڑیں نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔ روئٹرز نے عمارتوں، ڈھانچوں اور زمین کے خدوخال کو پرانی اور سیٹلائٹ تصاویر سے ملا کر مقام کی تصدیق کی، جو مسافر یطا کے قریب ہی واقع ہے۔

اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی قبضے والے مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

بھیڑوں کی چوری کے واقعے کے بارے میں ایک سوال پر اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے علاقے میں فوجی دستے بھیجے تھے، لیکن انہیں وہاں کوئی آبادکار نظر نہیں آیا، اور معاملہ اسرائیلی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کی بلدیاتی کونسلوں کی نمائندہ تنظیم ایشا کونسل کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہ دیا۔

ایک اسرائیلی آبادکار فلسطینی گاؤں راس العین الاوجہ میں گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی مویشیوں کی نگہبانی کر رہا ہے
یورپی یونین کی 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں سات لاکھ سے زیادہ اسرائیلی آبادکار رہتے ہیںتصویر: Andrea Krogmann

اس سال اب تک 4,000 مویشی چوری کیے جا چکے ہیں

فلسطینی وزارت زراعت کے ترجمان محمد فطافتہ کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک وسیٹ بینک میں یہودی آبادکار تقریباً 4,000 مویشی چرا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبادکاروں کے حملوں کے باعث فلسطینی کسانوں کو 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اسرائیل میں حکمران انتہائی دائیں بازو کے اتحاد نے یہودی بستیوں میں تیز رفتار توسیع کو ممکن بنایا ہے، جبکہ بعض وزرا تو کھلے عام مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

فلسطینی طویل عرصے سے مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم میں اپنی ایک آزاد ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں، وہ علاقے جن پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کر لیا تھا۔

یورپی یونین کی 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں 30 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے درمیان سات لاکھ سے زیادہ اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں۔

فلسطینی خاتون سمیحہ راشد نے کہا، ”عیدالاضحیٰ کے دنوں میں جب ہمارے پاس قربانی کے لیے بھیڑیں ہوتی تھیں، تو ہم انہیں فروخت بھی کرتے تھے۔ لیکن اب نہ ہمارے پاس اپنی طرف سے قربانی کے لیے بھیڑیں بچی ہیں اور نہ ہی فروخت کرنے کے لیے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button