روئٹرز کے ساتھ
اس قانون سازی کو بعد میں اپوزیشن سیاستدانوں کے دباؤ کے باعث تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ پابندی کو سروسز ٹریڈ تک بھی وسیع کیا جائے۔ دوسری جانب بین الاقوامی کمپنیوں کے لابی گروپ اس بل کو مکمل طور پر ختم کرانے کی کوشش کرتے رہے۔
معتبر ذرائع نے گزشتہ اکتوبر میں روئٹرز کو بتایا تھا کہ بل کو صرف اشیاء تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے گزشتہ ہفتے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ خدمات کے شعبے تک پابندی کو بڑھانا نہ تو ”عملی طور پر ممکن‘‘ ہے اور نہ ہی ”قابل عمل۔‘‘
صرف اشیا تک پابندی محدود رکھنے سے چند ہی مصنوعات متاثر ہوں گی، جیسے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں سے درآمد کردہ پھل۔ مرکزی دفتر شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایسے پھلوں کی سالانہ مالیت تقریباً 2 لاکھ یورو بنتی ہے۔

کیا آئرلینڈ یہ اقدام کر سکے گا؟
کاروباری تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پابندی کو خدمات کے وسیع شعبے تک بڑھایا گیا، تو اس سے غیر ملکی کثیر القومی کمپنیوں کو ایسے معاشی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو عملی طور پر ناقابل نفاذ ہوں گے۔
میکینٹی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم مسلسل ایک پرامن حل کی حمایت کرتے آئے ہیں، لیکن اسرائیلی حکومت کے حالیہ اقدامات، خاص طور پر آبادکاروں کی طرف سے تشدد میں مسلسل اضافہ، مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیاں، اور لبنان میں جاری تشدد واضح کرتے ہیں کہ ان کی اس راستے پر چلنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔‘‘
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے حکومتی اتحاد نے یہودی بستیوں میں تیزی سے توسیع کو ممکن بنایا ہے، جبکہ بعض وزراء مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی بھی کھلے عام حمایت کرتے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی قبضے والے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ہیلن میکینٹی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ یہ قانون بیلجیم اور نیدرلینڈز اور ممکنہ طور پر سلووینیا کے ساتھ مل کر منظور کیا جائے گا، کیونکہ ان ممالک نے بھی ایسی پابندیاں متعارف کرانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اسپین پہلے ہی ایسی پابندیاں نافذ کر چکا ہے اور اب تک ایسا کرنے والا یورپی یونین کا رکن واحد ملک ہے۔

مجوزہ اقدام کی مخالفت
امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے گزشتہ سال وزیر اعظم مائیکل مارٹن کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ اگر یہ بل منظور کیا گیا تو اس سے امریکہ اور آئرلینڈ کے تعلقات متاثر ہوں گے اور آئرلینڈ میں کام کرنے والی امریکی کمپنیوں پر بھی اثر پڑے گا۔
آئرلینڈ امریکہ کے دباؤ کے معاملے میں خاص طور پر حساس ہے کیونکہ زیادہ تر غیر ملکی کثیر القومی کمپنیاں امریکی ملکیت میں ہیں، جو آئرش معیشت کا بڑا حصہ ہیں اور تقریباً 11 فیصد آئرش کارکنوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔
عالمی برادری کی اکثریت اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ تاہم اسرائیل اس موقف سے اختلاف کرتا ہے اور تاریخی اور مذہبی تعلقات کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور اسٹریٹیجک اہمیت کو اس کا جواز قرار دیتا ہے۔


