پاکستاناہم خبریں

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی اہم ملاقات، پاک امریکہ تعلقات، ایران امریکہ مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

امریکی وزیر خارجہ نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا، اسحاق ڈار کا پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اظہارِ اطمینان

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے اہم ملاقات کی، جس میں پاک امریکہ تعلقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران امریکہ کشیدگی، خطے کے امن و استحکام اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات خوشگوار اور مثبت ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارتی حکام بھی شریک تھے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، سفارتی تعاون، علاقائی استحکام اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان کے سفارتی کردار کو امریکی اعتراف

اس ملاقات کی اہم بات امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور نیک نیتی پر مبنی کردار کا اعتراف تھا۔

دفتر خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

بعد ازاں واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق پایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں پاکستان کے سفیر اور دفتر خارجہ کے سینئر حکام بھی شریک تھے۔

ایران امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کا کردار

اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی جنگ بندی پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہایت سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو فروغ دیا اور 47 برس بعد پہلی مرتبہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن بنایا۔

وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کو ممکن بنانے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا:“پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن حل کی حمایت کی ہے، کیونکہ جنگ اور تصادم کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتے۔”

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو

ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، علاقائی سلامتی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سفارتی روابط میں تیزی لائی ہے تاکہ تنازعات کے پرامن حل کو یقینی بنایا جا سکے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری میں زیادہ فعال نظر آ رہا ہے اور مختلف علاقائی تنازعات میں ثالثی کے کردار کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

فلسطین پر پاکستان کا اصولی مؤقف برقرار

اسحاق ڈار نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ پاکستان فلسطین کے معاملے پر اپنے دیرینہ اور اصولی مؤقف پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزاد فلسطینی ریاست اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کے مطالبے کی مسلسل حمایت کرتا رہے گا۔

وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کے بغیر ممکن نہیں۔

پاکستان کی عالمی سطح پر نئی شناخت

اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مؤثر کردار کے باعث پاکستان کو ایک نئی شناخت ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں عالمی سفارت کاری، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی تعلقات میں مثبت اور فعال کردار ادا کیا ہے جسے دنیا تسلیم کر رہی ہے۔

وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کی قیادت عالمی فورمز پر ملک کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کر رہی ہے جبکہ علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

پاک امریکہ تعلقات میں نئی پیش رفت

تجزیہ کاروں کے مطابق اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک اہم سفارتی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاع، تجارت، انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات موجود ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال، ایران امریکہ کشیدگی، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی کے تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار مزید اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ

اسحاق ڈار نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آئندہ بھی عالمی امن، علاقائی استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

ملاقات کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات، علاقائی تعاون اور عالمی امن کی کوششوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button