مشرق وسطیٰاہم خبریں

اسرائیلی افواج دریائے لیطانی عبور کر چکی ہیں، نیتن یاہو

دوسری جانب اسرائیلی اور لبنانی مذاکرات کاروں میں بات چیت کا ایک اور دور پینٹا گون میں ہو رہا ہے۔

اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو  نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان میں دریائے لیطانی کو عبور کر چکی ہیں، جو دونوں ممالک کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

نیتن یاہو نے سرحد کے قریب فوجی دستوں کے دورے کے دوران جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے ’’اپنی کمانڈ میں موجود علاقہ مزید آگے تک پھیلا دیا ہے،‘‘ اور بیروت، وادی بقاع اور پورے محاذ پر کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی افواج حزب اللہ کے خلاف براہ راست کارروائیاں کر رہی ہیں۔

رواں برس مارچ میں اسرائیلی فوج نے لیطانی دریا پر ایک مرکزی پل کو دھماکے سے اڑا دیا تھا
رواں برس مارچ میں اسرائیلی فوج نے لیطانی دریا پر ایک مرکزی پل کو دھماکے سے اڑا دیا تھاتصویر: Ali Hashisho/Xinhua/picture alliance

نیتن یاہو نے اس پیشرفت کا اعلان ایک ایسے موقع پر کیا ہے، جب اسرائیل اور لبنان کے عسکری حکام آج بروز جمعہ واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) میں سکیورٹی مذاکرات کریں گے۔ یہ بات چیت بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافے کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔

امریکی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات حالیہ تنازعے کے آغاز  کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہ راست سکیورٹی بات چیت ہوں گے۔ اس کے علاوہ اگلے ہفتے مزید وسیع مذاکرات کے چوتھے دور کی بھی توقع ہے۔

پینٹاگون میں ملاقات سے ایک روز قبل اسرائیلی فضائی حملوں میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور جنوبی شہر صور کو نشانہ بنایا گیا، جس میں لبنانی حکام کے مطابق کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی اور مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے 135 سے زائد اہداف کو نشانہ  بنایا، جن میں راکٹ لانچنگ سائٹس اور عسکری تنصیبات شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج  نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے باجود لبنان میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے باجود لبنان میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیںتصویر: Jalaa Marey/AFP

اسرائیلی حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو نے ملکی فوج کو لبنان میں کارروائیاں ’’مزید گہری‘‘ کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ ساتھ ہی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور امن معاہدے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

دوسری جانب حزب اللہ نے ان مذاکرات کو مسترد کرتے  ہوئے لبنان کی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’’اپنے عوام کے خون کی قیمت پر بات چیت‘‘ کر رہی ہے۔ حزب اللہ کے مطابق بیروت کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ اسرائیلی افواج کو پیچھے ہٹا سکے یا جنگ ختم کرا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button