پاکستاناہم خبریں

آزاد جموں و کشمیر انتخابات: دوسرے مرحلے کے نتائج جاری، مسلم لیگ (ن) کو برتری برقرار، سیاسی کشیدگی اور احتجاج کے سائے میں انتخابی عمل جاری

پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق بھی مسلم لیگ (ن) نے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جس سے پارٹی کی مجموعی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی۔

سید عاطف ندیم-ادارت

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جن کے بعد حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مجموعی طور پر اپنی برتری برقرار رکھی ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی مظفرآباد ڈویژن میں اہم کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے انتخابی مقابلے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ تاہم یہ انتخابی عمل ایک ایسے ماحول میں جاری ہے جہاں سیاسی کشیدگی، احتجاج، پرتشدد واقعات اور مواصلاتی پابندیوں نے نہ صرف انتخابی سرگرمیوں بلکہ عوامی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔

الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے مظفرآباد ڈویژن کے سات حلقوں کے سرکاری نتائج جاری کر دیے گئے ہیں، جن میں چار نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ (ن) جبکہ تین نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔ اس طرح پہلے اور دوسرے مرحلے کے مجموعی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اسمبلی میں واضح برتری حاصل کرنے میں کامیاب دکھائی دے رہی ہے۔

دو حلقوں میں پولنگ 4 اگست کو ہوگی

الیکشن کمیشن کے مطابق مظفرآباد ڈویژن کے دو حلقوں، ایل اے 27 کوٹلہ اور ایل اے 28 لچھراٹ کے بعض پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عمل ملتوی ہونے کے باعث اب ان علاقوں میں ووٹنگ 4 اگست کو ہوگی۔ مقامی انتظامیہ نے پولنگ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ علاقوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ سکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کی نمایاں کامیابی

اس سے قبل 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات کے سرکاری نتائج بھی جاری کیے جا چکے ہیں، جہاں 13 جنرل نشستوں میں سے 9 نشستیں مسلم لیگ (ن) جبکہ 4 نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے نام کی تھیں۔

اسی طرح پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق بھی مسلم لیگ (ن) نے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جس سے پارٹی کی مجموعی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی۔

مظفرآباد ڈویژن کے حلقہ وار نتائج

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق:

ایل اے 25 (نیلم 1)

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے شاہ غلام قادر 19 ہزار 201 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے میاں عبد الوحید 13 ہزار 826 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

ایل اے 26 (نیلم 2)

پاکستان پیپلز پارٹی کے میاں عبد الوحید 16 ہزار 524 ووٹ حاصل کرکے فاتح رہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے شاہ غلام قادر 14 ہزار 501 ووٹ حاصل کر سکے۔

ایل اے 29 (مظفرآباد 3)

پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد نے 20 ہزار 45 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی 16 ہزار 507 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔

ایل اے 30 (مظفرآباد 4)

مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر 17 ہزار 895 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ مبشر منیر اعوان 12 ہزار 323 ووٹ حاصل کر سکے۔

ایل اے 31 (مظفرآباد 5)

مسلم لیگ (ن) کے ثاقب مجید راجہ نے 32 ہزار 511 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے چوہدری لطیف اکبر 23 ہزار 657 ووٹ حاصل کر سکے۔

ایل اے 32 (مظفرآباد 6)

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان (مسلم لیگ ن) 21 ہزار 613 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلز پارٹی کے اشفاق ظفر 19 ہزار 274 ووٹ حاصل کر سکے۔

ایل اے 33 (مظفرآباد 7)

پاکستان پیپلز پارٹی کے دیوان علی خان نے 26 ہزار 357 ووٹ حاصل کرکے کامیابی سمیٹی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد رشید 21 ہزار 841 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

مجموعی سیاسی صورتحال

اب تک ہونے والے پہلے اور دوسرے مرحلے کے نتائج کے مطابق آزاد کشمیر کی 45 جنرل نشستوں میں سے 23 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کامیابی حاصل کر چکی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر ہے۔ اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 53 ہے، جبکہ پونچھ ڈویژن کی 11 جنرل نشستوں پر ابھی انتخابات ہونا باقی ہیں۔ ان نشستوں کے نتائج نئی حکومت کی تشکیل اور قائد ایوان کے انتخاب میں اہم کردار ادا کریں گے۔

احتجاج، کشیدگی اور پرتشدد واقعات نے انتخابی ماحول متاثر کیا

دوسرے مرحلے کے انتخابات ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں، خصوصاً مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ اور دیگر شہروں میں سیاسی کشیدگی اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔

پولنگ کے روز مظفرآباد کے علاقوں لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور بالا پیر سمیت مختلف مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ متعدد مقامات پر پتھراؤ، شیلنگ اور فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس کے باعث کئی علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم رہی۔

کم ٹرن آؤٹ اور کاروباری سرگرمیوں کی معطلی

مقامی صحافیوں کے مطابق احتجاجی صورتحال کے باعث کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی تعداد معمول سے کم رہی۔ انتخاب سے قبل کئی روز تک شہر کے اہم کاروباری مراکز بند رہے جبکہ بعض مقامات پر احتجاج کے دوران سیاسی جماعتوں کے انتخابی بینرز اور پوسٹرز بھی نذر آتش کیے گئے۔

انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق کشیدہ حالات نے عوام کی بڑی تعداد کو پولنگ اسٹیشنز تک پہنچنے سے روکے رکھا، جس کے باعث کئی حلقوں میں ووٹنگ کا تناسب توقعات سے کم رہا۔

جانی نقصان سے متعلق متضاد دعوے

گزشتہ چند روز کے دوران مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے نتیجے میں متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران احتجاج اور جھڑپوں میں 40 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے اس تعداد کی تصدیق نہیں کی۔

پیر کے روز کشمیر حکومت کے سیکرٹری اطلاعات راشد حنیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مطابق کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے مسلح عناصر کی فائرنگ کے نتیجے میں 27 سے 31 جولائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 7 اہلکار شہید جبکہ 45 سے زائد زخمی ہوئے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے پاس ایسی اطلاعات موجود نہیں کہ سکیورٹی اداروں کے پاس کسی شہری کی لاش موجود ہو یا بلااشتعال فائرنگ کی گئی ہو۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا۔

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان کی تحریک مکمل طور پر پرامن ہے اور مظاہرین کے خلاف طاقت کا غیر ضروری استعمال کیا جا رہا ہے۔

کالعدم قرار دینے کا پس منظر

حقوق کی تحریک گزشتہ تقریباً تین برسوں سے مختلف مطالبات کے ساتھ جاری ہے، جبکہ گزشتہ دو ماہ کے دوران احتجاج میں مزید شدت دیکھی گئی۔ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کئی ادوار میں مذاکرات بھی ہوئے، تاہم 30 مئی کو مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت نے جون کے پہلے ہفتے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور مختلف علاقوں میں احتجاجی دھرنے، ریلیاں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

مواصلاتی پابندیوں نے انتخابی عمل کو متاثر کیا

انتخابات کے دوران انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولیات کی معطلی بھی ایک بڑا مسئلہ بنی رہی۔ گزشتہ دو ماہ سے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔

31 جولائی کو مظفرآباد میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ جزوی طور پر بحال کیا گیا، تاہم نئے احتجاجی مظاہروں کے بعد اسے دوبارہ بند کر دیا گیا۔ اس صورتحال کے باعث صحافیوں، انتخابی عملے اور عوام کو معلومات کے تبادلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

الیکشن کمیشن نے میڈیا نمائندگان کی سہولت کے لیے اپنے کیمپ آفس میں محدود انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی، تاہم مجموعی طور پر مواصلاتی بندش نے انتخابی عمل کی رفتار اور شفاف معلومات کی فراہمی کو متاثر کیا۔

تیسرے مرحلے پر نظریں

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں منعقد ہوگا، جہاں راولاکوٹ، باغ، سدھنوتی اور دیگر علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں، تاہم بعض علاقوں میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ایل اے 24 پونچھ و سدھنوتی (بلوچ) میں ایک آزاد امیدوار کے انتقال کے باعث ملتوی ہونے والی پولنگ بھی اب 10 اگست کو ہی کرائی جائے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مرحلہ آزاد کشمیر کی نئی حکومت کی تشکیل، قائد ایوان کے انتخاب اور آئندہ سیاسی منظرنامے کے تعین میں فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہوگا، جبکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال اور سیاسی استحکام بھی آنے والے دنوں میں مرکزی موضوع بنے رہیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button