بین الاقوامیتازہ ترین

ایران سے متعلق امریکی مؤقف برقرار، تمام عسکری، اقتصادی اور سفارتی ذرائع استعمال کریں گے: نائب صدر جے ڈی وینس

ان کے خیال میں ایرانی حکومت اندرونی سیاسی دباؤ اور کمزوری کا شکار ہے، جس کے باعث فیصلہ سازی کا عمل پیچیدہ ہو گیا ہے

مدثر احمد-ادارت

واشنگٹن : امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ اپنے تنازع کے حل کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرے گا اور واشنگٹن اس معاملے میں عسکری، اقتصادی اور سفارتی سطح پر مکمل تیاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ امریکی انتظامیہ کے اندر ایران سے متعلق پالیسی پر کسی قسم کے اختلافات موجود ہیں، اور کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں پوری انتظامیہ ایک ہی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد خطے میں استحکام، اپنے اتحادیوں کا تحفظ اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کے خدشات کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس مقصد کے حصول کے لیے طاقت کے استعمال سمیت ہر ممکن آپشن کو میز پر رکھے ہوئے ہے، تاہم سفارت کاری کو بھی برابر اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ کسی ایسے معاہدے تک پہنچا جا سکے جو خطے میں دیرپا امن کا سبب بنے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے معاملے پر مکمل طور پر متحد ہے اور پالیسی سازی یا فیصلوں کے نفاذ میں کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں۔ وینس نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کیا جن میں امریکی قیادت کے اندر ایران کے حوالے سے مختلف آراء یا اختلافات کی بات کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق تمام متعلقہ ادارے صدر ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق مشترکہ حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں۔

ایرانی حکومت میں اندرونی اختلافات کا دعویٰ

جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کے اندر مختلف سوچ رکھنے والے گروہ موجود ہیں۔ ان کے مطابق بعض عناصر موجودہ کشیدگی کا خاتمہ چاہتے ہیں اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کے حامی ہیں، جبکہ سخت گیر حلقے محاذ آرائی اور جنگ کے تسلسل پر زور دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایرانی حکومت اندرونی سیاسی دباؤ اور کمزوری کا شکار ہے، جس کے باعث فیصلہ سازی کا عمل پیچیدہ ہو گیا ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ امریکہ ان اندرونی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی مرتب کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے مذاکرات کو جنگ پر ترجیح دے دی

نائب صدر وینس کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے نسبتاً نرم سفارتی مؤقف اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران بالآخر امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم ایرانی قیادت اس بات کا کھل کر اعتراف نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ اور مزید خونریزی سے گریز چاہتا ہے، لیکن یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایک ایسا معاہدہ ہے جو خطے میں امن کو یقینی بنائے، تاہم اگر امریکی مفادات یا اتحادیوں کو خطرہ لاحق ہوا تو امریکہ اپنے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

آبنائے ہرمز معاہدہ سفارتی پیش رفت قرار

دوسری جانب خلیج میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور سلطنت عمان کے درمیان مشترکہ اعلامیہ اپنی حتمی تدوین کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے نئے بحری راستے کی جغرافیائی حدود اور تکنیکی تفصیلات پر مکمل اتفاق کر چکے ہیں، جبکہ اس معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ نیا بحری راستہ عالمی تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ حالیہ کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے خدشات کو کم کیا جا سکے۔

عارضی بحری راستہ دو ماہ یا اس سے زیادہ فعال رہے گا

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ ایران اور سلطنت عمان کے درمیان طے پانے والا نیا بحری راستہ عارضی نوعیت کا ہوگا۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر اس راستے کو کم از کم دو ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک استعمال کیا جائے گا، جس کے دوران دونوں ممالک اس کے عملی نتائج اور سلامتی کے انتظامات کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے انتظام کا بنیادی مقصد عالمی بحری تجارت کو محفوظ بنانا اور توانائی کی ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ کو روکنا ہے۔

تیسرے فریق کی عدم مداخلت شرط قرار

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ بعض شرائط سے مشروط ہے۔ تہران کے مطابق اس انتظام کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ مخصوص ثالث یا دیگر بیرونی فریق اس عمل میں مداخلت نہ کریں۔

ایران کا کہنا ہے کہ اگر تمام متعلقہ ممالک ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں اور معاہدے کی شرائط کا احترام کریں تو آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت معمول کے مطابق جاری رہ سکے گی اور خطے میں کشیدگی مزید کم ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے۔

عالمی توانائی کی منڈیوں پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں کشیدگی میں کسی بھی قسم کی کمی عالمی توانائی کی قیمتوں، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

دفاعی اور سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کا معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں فوجی تناؤ کم ہو سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہونے کا امکان ہے۔

تاہم مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے، کیونکہ ایک طرف امریکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ سفارتی اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر قائم ہے، جبکہ دوسری جانب ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی مفادات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں واشنگٹن، تہران اور مسقط کے درمیان ہونے والے سفارتی رابطے اس امر کا تعین کریں گے کہ خطہ مزید کشیدگی کی طرف جاتا ہے یا مذاکرات اور مفاہمت کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button