یورپتازہ ترین

برطانیہ میں جیفری ایپسٹین سکینڈل پر عوامی تحقیقات کا امکان مسترد، حکومت نے متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے پولیس تحقیقات جاری رکھنے کی تصدیق کر دی

"ہماری ہمدردیاں جیفری ایپسٹین کے متاثرین کے ساتھ ہیں، جنہوں نے اس تباہ کن صدمے کا سامنا کیا۔"

سید عاطف ندیم-ادارت، اے ایف پی کے ساتھ

لندن: برطانوی حکومت نے سزا یافتہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے برطانیہ میں مبینہ سرگرمیوں اور ان سے متعلق الزامات پر عوامی سطح کی باضابطہ تحقیقاتی کمیشن (پبلک انکوائری) شروع کرنے کے امکانات کو فی الحال مسترد کر دیا ہے۔ وزارتِ انصاف نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ حکومت متاثرین سے مکمل ہمدردی رکھتی ہے اور ان سے ملاقات کے لیے پرعزم ہے، تاہم اس وقت عوامی تحقیقات حکومت کے فعال غور و خوض کا حصہ نہیں ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند روز کے دوران برطانوی میڈیا میں اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ حکومت ممکنہ طور پر ایپسٹین سکینڈل کے برطانوی پہلوؤں پر ایک جامع عوامی تحقیقات شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔

وزارتِ انصاف کا باضابطہ مؤقف

برطانوی وزارتِ انصاف کے ترجمان نے بدھ کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ حکومت کی تمام تر ہمدردیاں ان افراد کے ساتھ ہیں جو جیفری ایپسٹین کے مبینہ جرائم اور جنسی استحصال سے متاثر ہوئے۔

بیان میں کہا گیا:

"ہماری ہمدردیاں جیفری ایپسٹین کے متاثرین کے ساتھ ہیں، جنہوں نے اس تباہ کن صدمے کا سامنا کیا۔”

وزارت نے مزید واضح کیا کہ اگرچہ وزیراعظم متاثرین سے ملاقات کے خواہاں ہیں اور ان کے تحفظات سننے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس مرحلے پر کسی عوامی تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر فعال طور پر غور نہیں کیا جا رہا۔

بیان سے قبل پیدا ہونے والا تاثر

حکومتی وضاحت سے ایک روز قبل برطانیہ کے وزیر برائے متاثرین الیکس ڈیوس جونز نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیراعظم اس معاملے کا "جائزہ لے رہے ہیں”۔

اس بیان کے بعد برطانوی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ حکومت ممکنہ طور پر ایپسٹین سکینڈل پر عوامی تحقیقات کا اعلان کر سکتی ہے، تاہم بعد میں وزارتِ انصاف نے باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے ان قیاس آرائیوں کی تردید کر دی۔

ایپسٹین سکینڈل اور برطانیہ

جیفری ایپسٹین کا نام دنیا کے بڑے جنسی استحصال سکینڈلز میں شمار کیا جاتا ہے۔

ایپسٹین پر الزام تھا کہ اس نے برسوں تک کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا اور اپنے وسیع سماجی و مالی روابط کے ذریعے بااثر شخصیات سے تعلقات قائم رکھے۔

اگرچہ ایپسٹین 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد بھی اس سے متعلق قانونی، سیاسی اور سماجی تنازعات ختم نہیں ہوئے۔

برطانیہ میں بھی اس سکینڈل کے اثرات نمایاں طور پر محسوس کیے گئے، کیونکہ متعدد معروف شخصیات کے نام مختلف رپورٹس اور عدالتی کارروائیوں میں سامنے آتے رہے۔

شاہی خاندان بھی تنازعے کی زد میں

ایپسٹین سکینڈل کے باعث برطانوی شاہی خاندان بھی شدید دباؤ کا شکار رہا۔

خاص طور پر شاہ چارلس سوم کے بھائی پرنس اینڈریو کے ایپسٹین سے تعلقات عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے۔

پرنس اینڈریو نے ماضی میں ایپسٹین سے دوستی کا اعتراف کیا تھا، تاہم انہوں نے جنسی استحصال سے متعلق تمام الزامات کی ہمیشہ تردید کی۔

بعد ازاں ان پر دائر کیے گئے ایک سول مقدمے کا عدالت سے باہر تصفیہ کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری اختیار کر لی اور انہیں عوامی تقریبات میں محدود کردار تک محدود کر دیا گیا۔

برطانوی سیاسی شخصیات بھی زیرِ بحث

ایپسٹین سے وابستہ تنازعات میں برطانیہ کی بعض دیگر بااثر شخصیات کے نام بھی مختلف مواقع پر زیرِ بحث آتے رہے۔

رپورٹس میں سابق برطانوی سفیر اور ممتاز سیاست دان پیٹر مینڈیلسن کے ایپسٹین سے تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے گئے، تاہم ان شخصیات نے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

پولیس کی متعدد تحقیقات جاری

اگرچہ حکومت نے عوامی تحقیقات شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم برطانوی پولیس ایپسٹین سے متعلق متعدد معاملات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

پولیس مختلف نوعیت کے ممکنہ جرائم کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں:

  • بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق الزامات؛
  • خواتین کی مبینہ اسمگلنگ؛
  • برطانیہ کے ہوائی اڈوں کے ذریعے متاثرہ خواتین کی نقل و حرکت؛
  • عوامی اداروں میں ممکنہ بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے پہلو؛
  • دیگر ممکنہ فوجداری جرائم۔

تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی شخص کے خلاف قابلِ قبول شواہد سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

متاثرین کی جانب سے مطالبات

متاثرین کی نمائندگی کرنے والی بعض تنظیمیں طویل عرصے سے مطالبہ کرتی آ رہی ہیں کہ ایپسٹین کے برطانیہ میں ممکنہ نیٹ ورک، بااثر شخصیات سے روابط اور مبینہ سہولت کاروں کے کردار کی آزادانہ اور شفاف عوامی تحقیقات کرائی جائیں۔

ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ صرف فوجداری تحقیقات کافی نہیں بلکہ ایک جامع عوامی تحقیقاتی کمیشن ہی اس سکینڈل کے تمام پہلوؤں کو سامنے لا سکتا ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر سفارشات مرتب کر سکتا ہے۔

سیاسی اور عوامی بحث برقرار

برطانوی حکومت کی جانب سے عوامی تحقیقات سے فی الحال انکار کے باوجود ایپسٹین سکینڈل ایک مرتبہ پھر ملک میں سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت ایک طرف متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری جانب جاری پولیس تحقیقات پر اثرانداز ہونے سے بھی گریز کر رہی ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بعض ارکانِ پارلیمان اس معاملے میں مزید شفافیت، جوابدہی اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مستقبل کا لائحۂ عمل

برطانوی وزارتِ انصاف نے اگرچہ واضح کر دیا ہے کہ فی الحال عوامی تحقیقاتی کمیشن زیرِ غور نہیں، تاہم حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ متاثرین کی بات سنی جائے گی، پولیس اپنی تحقیقات آزادانہ طور پر جاری رکھے گی اور اگر مستقبل میں نئی معلومات یا شواہد سامنے آئے تو قانون کے مطابق مناسب فیصلے کیے جائیں گے۔

اس دوران جیفری ایپسٹین سکینڈل دنیا بھر میں طاقتور شخصیات، جنسی استحصال کے متاثرین کے حقوق، احتساب اور انصاف کے نظام سے متعلق ایک اہم عالمی مثال کے طور پر زیرِ بحث رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button