سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان نے گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھارت کے حالیہ بیانات اور دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایسے بیانات حقیقت کو مسخ کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ایک مسلسل کوشش کا حصہ ہیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے گلگت بلتستان کے بارے میں دیے گئے ریمارکس بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی حقائق کے منافی ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے ایسے بیانات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔
"جعلی بیانیے اور پروپیگنڈے کی سیاست”
پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارت طویل عرصے سے خطے کے حوالے سے جعلی بیانیوں اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا سہارا لیتا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے بارے میں بھارتی دعوے نہ صرف حقائق سے متصادم ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے بھی خلاف ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق بھارت کی حالیہ بیان بازی دراصل ایک منظم سفارتی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر ایک مخصوص بیانیہ قائم کرنا اور خطے کی اصل صورتحال سے توجہ ہٹانا ہے۔
جموں و کشمیر تنازع پر پاکستان کے مؤقف کا اعادہ
پاکستان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور اس مسئلے کا حتمی حل ابھی تک باقی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں اس تنازع کے حل کے لیے موجود ہیں، جن میں کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے کی ضمانت دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کا مؤقف اصولی اور مستقل ہے اور وہ کشمیری عوام کے اس حق کی حمایت جاری رکھے گا کہ وہ اپنی سیاسی اور آئینی حیثیت کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کریں۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ
پاکستان نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق خود ارادیت سے محروم رکھنا خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کی راہ میں سب سے بڑا حل طلب تنازع ہے، جس کا منصفانہ حل خطے کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش
پاکستان نے اپنے بیان میں بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق وہاں شہری آزادیوں پر پابندیاں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، اظہار رائے کی آزادی پر قدغنیں اور سیکیورٹی قوانین کے تحت وسیع اختیارات کا استعمال بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے نافذ کیے گئے سخت قوانین نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور مقامی آبادی کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
پانچ اگست 2019 کے اقدامات پر اعتراض
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئے آئینی اور انتظامی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کیا گیا، جسے پاکستان اور کشمیری قیادت نے مسترد کر رکھا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق ایسے اقدامات خطے کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو غیر مؤثر بنا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کو رسائی دینے کا مطالبہ
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ کے مبصرین، غیر جانبدار عالمی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کو آزادانہ رسائی فراہم کرے تاکہ زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ شفافیت اور بین الاقوامی نگرانی ہی انسانی حقوق سے متعلق خدشات کو دور کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
خطے میں امن کے لیے مذاکرات کی ضرورت
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور تعمیری سفارت کاری کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی حمایت کرے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔



