پاکستاناہم خبریں

پاکستان آبنائے ہرمز معاہدے سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے پُرامید

پاکستان کا آبنائے ہرمز معاہدے کا خیرمقدم، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امید، خطے میں کشیدگی میں کمی کے امکانات روشن

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور سلطنت عمان کے درمیان طے پانے والے نئے بحری انتظامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لیے بھی مثبت ماحول فراہم کرے گی۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اس پیش رفت کو علاقائی استحکام، عالمی توانائی کی سلامتی اور سفارتی کوششوں کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

جمعرات کو وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اس بات کا خیرمقدم کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ہونے والی پیش رفت خطے میں اعتماد سازی کے اقدامات کو تقویت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالخصوص تکنیکی سطح پر مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے، جو مستقبل میں وسیع تر سفارتی رابطوں اور سیاسی مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق پاکستان مسلسل اس مؤقف کا حامی رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ مسائل کا حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کو فروغ دے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ موجودہ پیش رفت ایک ایسی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کے فریم ورک کے تحت سامنے آئی ہے، جسے طے کرانے میں پاکستان نے ثالثی اور سفارتی سہولت کاری کا کردار ادا کیا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد نے مختلف فریقوں کے درمیان اعتماد سازی اور رابطوں کی بحالی کے لیے خاموش سفارت کاری کے ذریعے اہم کردار ادا کیا، جس کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے سلطنت عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایک نئے بحری راستے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس نئے انتظام کا مقصد عالمی تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی محفوظ اور بلا تعطل آمدورفت کو یقینی بنانا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے خدشات کو بھی کم کرنا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل، مائع قدرتی گیس (LNG) اور دیگر توانائی کے وسائل عالمی منڈیوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ایک الگ بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مشترکہ اعلامیہ اپنی حتمی تشکیل کے مرحلے میں ہے اور دونوں ممالک نے نئے بحری راستے کی جغرافیائی حدود اور تکنیکی تفصیلات پر اتفاق کر لیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ انتظام بین الاقوامی بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک عارضی لیکن مؤثر اقدام ہوگا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور سلطنت عمان کے درمیان طے پانے والا نیا بحری راستہ عارضی نوعیت کا ہوگا، جس کے تحت کم از کم دو ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک تجارتی اور توانائی بردار جہازوں کی نقل و حمل جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران متعلقہ ادارے اس انتظام کی مؤثریت، سلامتی اور تکنیکی پہلوؤں کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں گے۔

غریب آبادی نے مزید بتایا کہ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک عملی اقدام ہے، تاہم اس کا مکمل نفاذ بعض شرائط سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ اس انتظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کوئی بھی تیسرا فریق اس عمل میں مداخلت نہ کرے اور تمام متعلقہ ممالک معاہدے کی روح کے مطابق ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران، عمان اور دیگر علاقائی فریق اس عبوری انتظام کو کامیابی سے نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف عالمی توانائی کی سپلائی محفوظ ہوگی بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعطل ختم ہونے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے مذاکرات اور ثالثی کی حمایت اس کی روایتی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد علاقائی تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کرنا اور خلیجی خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق اگر آبنائے ہرمز سے متعلق موجودہ معاہدہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ایران، عمان، امریکہ اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان ہونے والے سفارتی رابطے اس امر کا تعین کریں گے کہ آیا یہ عارضی بحری انتظام مستقل تعاون اور وسیع تر سیاسی مفاہمت کی بنیاد بن سکے گا یا نہیں، تاہم موجودہ پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی جانب ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button