بین الاقوامیاہم خبریں

راجوری میں تیرہویں روز بھی محاصرہ برقرار، بھارتی فورسز کا معصوم شہریوں پر وحشیانہ تشدد

مقامی شہریوں کے مطابق بھارتی اہلکار گھر گھر تلاشی کی آڑ میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فوجی کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل تیرہویں روز بھی جاری رہا، جہاں قابض بھارتی افواج نے پورے علاقے کو عملاً جنگی زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ علاقے میں مسلسل دھماکوں، شدید فائرنگ اور فوجی نقل و حرکت کے باعث خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے جبکہ مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارتی فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے "آپریشن شیراوالی” کے نام سے ضلع راجوری کے مختلف علاقوں، خصوصاً گمبھیر مغلان اور ڈوری مال مانجاکوٹ میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران جدید جنگی ساز و سامان اور بھاری نفری کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے پورا خطہ فوجی محاصرے کی کیفیت اختیار کر چکا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن کے لیے جنگی ہیلی کاپٹرز، جدید ڈرونز، سراغ رساں کتوں اور پیرا کمانڈوز کو تعینات کر رکھا ہے۔ متعدد دیہات اور آبادیوں کو گھیرے میں لے کر داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی ہے۔

مقامی شہریوں کے مطابق بھارتی اہلکار گھر گھر تلاشی کی آڑ میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو گھنٹوں گھروں سے باہر کھڑا رکھا جاتا ہے جبکہ متعدد افراد سے سخت پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل فوجی کارروائیوں کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں، تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں اور کاروباری مراکز بھی بند پڑے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے راجوری کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی آپریشنز کے دوران شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق اور جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسی خطے میں مزید بے چینی اور عدم استحکام کو جنم دے رہی ہے۔

سیاسی مبصرین اور ماہرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے استعمال، فوجی محاصروں اور سخت سیکیورٹی اقدامات کے ذریعے عوامی جذبات اور آزادی کی خواہش کو دبانے کی کوششیں کئی دہائیوں سے جاری ہیں، تاہم یہ پالیسی اب تک اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام اپنے سیاسی اور بنیادی حقوق کے مطالبے پر آج بھی قائم ہیں اور مسلسل دباؤ کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔

دوسری جانب راجوری کے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ شدید مشکلات، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود اپنے گھروں اور زمینوں پر قائم ہیں۔ مقامی آبادی کا مؤقف ہے کہ بھارتی فورسز کی کارروائیوں نے علاقے میں انسانی بحران کی کیفیت پیدا کر دی ہے، لیکن اس کے باوجود لوگ اپنے حقِ خودارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کے مطالبے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔

راجوری میں جاری فوجی محاصرہ اور سرچ آپریشن خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کے تحفظ اور انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button