پاکستاناہم خبریں

ڈاکٹر ماہنور پر تیزاب گردی: معاشرہ کب تک خاموش رہے گا؟رپورٹ

تیزاب پھینکنے کا یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ انسانیت، اخلاقیات اور قانون کی عملداری پر بھی حملہ ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کیا انسانیت کی خدمت کرنا جرم ہے؟ کیا رات دن مریضوں کی تکلیف دور کرنا گناہ ہے؟ پاکستان کی ایک اور بیٹی، ایک معزز لیڈی ڈاکٹر، درندگی کا نشانہ بن گئی۔ ان کی آنکھوں کے آنسو پورے معاشرے سے سوال کر رہے ہیں: “میرا قصور کیا تھا؟
ڈاکٹر ماہ نور نے برسوں کی محنت کے بعد لوگوں کے زخم بھرنے کا عہد کیا تھا، مگر آج وہ خود ایک ایسے زخم کا شکار ہیں جو دلوں کو رُلا گیا۔ایک لمحے کی درندگی نے ایک بیٹی کے خواب، ایک خاندان کی خوشیاں اور ہزاروں لوگوں کی امیدیں چھین لیں۔
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں خواتین، اساتذہ، ڈاکٹرز اور دیگر خدمتِ خلق سے وابستہ افراد کو کتنا تحفظ حاصل ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں آئے روز پیش آنے والے تشدد، ہراسگی اور انتقامی کارروائیوں کے واقعات اس سوال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں کہ آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے؟ ڈاکٹر ماہنور ناصر پر ہونے والا تیزاب حملہ بھی اسی زنجیر کی ایک دردناک کڑی ہے جس نے نہ صرف طبی برادری بلکہ پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔
ڈاکٹر ماہنور ناصر ایک نوجوان، باصلاحیت اور فرض شناس لیڈی ڈاکٹر ہیں جنہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ روزانہ سینکڑوں مریضوں کا علاج کرتی تھیں، ان کے دکھ درد بانٹتی تھیں اور زندگی کی امید بن کر سامنے آتی تھیں۔ لیکن افسوس کہ ایک سفاک اور بے رحم شخص نے ان کی زندگی کو عذاب میں بدلنے کی کوشش کی۔ تیزاب پھینکنے کا یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ انسانیت، اخلاقیات اور قانون کی عملداری پر بھی حملہ ہے۔
ڈاکٹر ماہنور کے جسم کا تقریباً تیرہ فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔ اگرچہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان کی بینائی محفوظ رہی اور وہ خطرے سے باہر ہیں، لیکن جسمانی زخموں کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی تکلیف کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ تیزاب گردی کے متاثرین اکثر زندگی بھر جسمانی معذوری، نفسیاتی صدمے اور سماجی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے زخم صرف جلد کو نہیں جلاتے بلکہ انسان کے اعتماد، خوابوں اور مستقبل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ہمارے اسپتال، تعلیمی ادارے اور دیگر عوامی مقامات کتنے محفوظ ہیں؟ اگر ایک ڈاکٹر، جو ریاستی ادارے میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہو، محفوظ نہیں تو عام خواتین کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اسپتال وہ جگہ ہوتی ہے جہاں لوگ زندگی بچانے کے لیے آتے ہیں، لیکن اگر وہاں بھی تشدد اور انتقام کی آگ پہنچ جائے تو یہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
واقعے کے بعد بلوچستان بھر میں ڈاکٹرز کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے نہ صرف واقعے کی مذمت کی بلکہ اسپتالوں میں سکیورٹی کے مؤثر انتظامات کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا موقف بالکل درست ہے، کیونکہ طبی عملہ ہر روز مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا کرتا ہے۔ انہیں ایسا ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جہاں وہ بلا خوف و خطر اپنی خدمات انجام دے سکیں۔
اس افسوسناک سانحے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کبھی گھریلو تشدد، کبھی ہراسگی، کبھی غیرت کے نام پر قتل اور کبھی تیزاب گردی جیسے لرزہ خیز واقعات۔ سوال یہ ہے کہ قوانین کی موجودگی کے باوجود ایسے جرائم کیوں نہیں رک رہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ قانون پر مؤثر عملدرآمد کا فقدان اور مجرموں کو بروقت اور سخت سزا نہ ملنا ہے۔ جب تک مجرم کو یقین ہو کہ وہ سزا سے بچ سکتا ہے، ایسے واقعات کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتا۔
معروف اداکارہ ماہرہ خان سمیت مختلف سماجی، سیاسی اور عوامی شخصیات نے ڈاکٹر ماہنور پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ ردعمل قابل ستائش ہے، لیکن محض مذمت کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پورا معاشرہ خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف متحد ہو اور اسے ایک قومی مسئلہ سمجھ کر اس کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔
حکومت بلوچستان نے ڈاکٹر ماہنور کے علاج کی ذمہ داری اٹھانے اور واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن اصل امتحان اس وقت ہوگا جب حملہ آور کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انصاف صرف متاثرہ فرد کا حق نہیں بلکہ معاشرے کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹر ماہنور کے آنسو دراصل ہر اس خاتون کے آنسو ہیں جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ان کا سوال "میرا قصور کیا تھا؟” صرف ایک فرد کا سوال نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی پکار ہے۔ اس سوال کا جواب صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں دینا ہوگا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموش تماشائی بننے کے بجائے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ خواتین، ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ور افراد کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست، اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر آج ڈاکٹر ماہنور کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ہم متحد نہ ہوئے تو کل کسی اور بیٹی، بہن یا ماں کو اسی المیے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈاکٹر ماہنور کی جلد صحت یابی کے لیے پوری قوم دعاگو ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قوم انصاف کی بھی منتظر ہے۔ کیونکہ صرف علاج کافی نہیں، زخم دینے والوں کا احتساب بھی ضروری ہے۔ یہی ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔
پاکستان میں ڈاکٹروں کی بے عزتی اور ان پر حملے خطرناک حد تک بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت ڈاکٹروں پر مزید سخت قوانین لگا رہی ہے، حتیٰ کہ ڈیوٹی کے دوران موبائل فون استعمال نہ کرنے کی بات کی جا رہی ہے، حالانکہ موبائل مریضوں کے ریکارڈ دیکھنے، رابطے اور علاج کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹروں کی حفاظت کے لیے مناسب سیکیورٹی موجود نہیں۔
مریض اور ان کے رشتہ دار غصے میں آ کر ڈاکٹروں پر حملے کرتے ہیں، لیکن اکثر ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں ہوتی۔ کسی بھی مہذب ملک میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر پر حملہ کرنے والا سیدھا جیل جاتا ہے۔بڑے اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں مناسب پولیس سیکیورٹی ہونی چاہیے، اور جو بھی ڈاکٹر پر حملہ کرے اسے فوراً گرفتار کر کے سزا دی جانی چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button