
”جنگ کا میدان نہیں چھوڑیں گے…‘‘ بنجامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست سے بوکھلایا اسرائیل، ایران معاہدہ کو مسترد کردیا
دوسری طرف اسے حزب اللہ کے حملے نہیں ہوں گے، اس کی گارنٹی نہیں ملی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوجیوں کولبنان سے واپس بھی جانا ہوگا۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی سفارتی شکست کودیکھتے ہوئے تل ابیب نے عجیب وغریب فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے میدان سے باہرنہ نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی لبنان پراسرائیل کا حملہ جاری رہے گا۔ اس سے امریکہ کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ایران اورامریکہ کے درمیان نیوکلیئرمعاہدہ کواسرائیل نے ماننے سے انکارکردیا ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ کوفون کرکے اس کی جانکاری دی ہے۔ نیتن یاہونے ٹرمپ سے کہا کہ اسرائیل کی فوج لبنان سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
اسرائیل ایران نیوکلیئرمعاہدہ کوماننے کے لئے مجبورنہیں ہے۔ اس طرح سے اسرائیل نے معاہدہ میں خود کوالگ تھلگ کئے جانے کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔ دراصل، ایران معاہدہ میں امریکہ نے تل ابیب کی ایک بھی شرط کوشامل نہیں کیا ہے۔ اسے اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے لئے جھٹکا مانا جا رہا ہے۔
ایران ڈیل نتین یاہوکی سب سے بڑی ہار!
ایران سے جب معاہدہ پربات چیت چل رہی تھی، تب امریکہ نے اسرائیل کواس سے باہرکردیا، جس کی وجہ سے اسرائیل کی شرائط کوڈیل میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان میں ایران کے پراکسی کو ختم کرنا، لمبی دوری کے میزائل بنانے پرروک لگانا شامل ہیں۔ ایران سے معاہدہ کی شرط میں لبنان کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ یعنی اسرائیل لبنان پرحملہ نہیں کرسکتا ہے۔ دوسری طرف اسے حزب اللہ کے حملے نہیں ہوں گے، اس کی گارنٹی نہیں ملی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوجیوں کولبنان سے واپس بھی جانا ہوگا۔
اسرائیل کو کامیابی نہیں ملی!
جنگ کے آغازمیں، نیتن یاہونے مزاحمتی ممالک (ایکسس آف ریسیڈینٹ ممالک) کے محورمیں تختہ پلٹ کی بات کہی تھی، لیکن اس میں انہیں کامیابی نہیں ملی۔ ایران میں ابھی بھی اسلامی جمہوریہ کی حکومت ہے۔ اسی طرح لبنان میں حزب اللہ کافی موثرہے۔ اسرائیل نے ایران جنگ میں 12 بلین ڈالرخرچ کئے تھے۔ ابتدا میں اسے امریکہ کی بھرپورحمایت حاصل ہوئی، لیکن آخری وقت میں امریکہ نے اسے اکیلا چھوڑدیا۔ اتنا ہی نہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پراسرائیلی وزیراعظم کوکمزورکرنے کی کوشش کی۔ نیتن یاہوٹرمپ کوجواب دینے سے بھی قاصررہے ہیں۔
اب آگے کیا کرے گا اسرائیل؟
اسرائیل نے لبنان سے پیچھے نہیں ہٹنے کی بات کہی ہے۔ یعنی آنے والے دنوں میں اسرائیل لبنان پرحملہ کرسکتا ہے۔ ایران اس کی مخالفت میں معاہدہ توڑسکتا ہے۔ حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دن پہلے اپنے بیان میں کہا کہ میری وجہ سے اسرائیل کا وجود ہے۔ وہیں دوسری طرف تل ابیب ایئرپورٹ پرامریکہ کے کچھ تیل بھرنے والے جہاز کھڑے ہیں۔ اسرائیل کے وزیرٹرانسپورٹ نے ان جہازوں کو فوراً ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔



