بین الاقوامیاہم خبریں

امریکہ ایران کو 300 ملین ڈالر کی ادائیگی نہیں کرے گا، ٹرمپ نے دعوے کو مسترد کر دیا، کہا۔۔ایران جوہری ہتھیارنہیں رکھے گا

ٹرمپ نے 300 ملین ڈالر کی ادائیگی کے دعوے کو مسترد کردیا۔ انھوں نے اسے فیک نیوز قرار دیا۔

https://vogurdunews.de/our-team/

 

By Voice of Germany Urdu News Team

Published : June 16, 2026 at 10:49 AM IST

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو (مقامی وقت کے مطابق) کہا کہ ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن نئے اعلان کردہ امن معاہدے کے تحت تہران کو 300 ملین ڈالر ادا کرے گا۔ ٹرمپ نے اس جھوٹ پر مبنی خبر قرار دیا۔

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے اس موقف کو دہرایا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تہران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ٹرمپ نے لکھا، "ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے!” ان کا یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے حوالے سے جاری بات چیت کے درمیان آیا ہے۔

امریکی صدر کے بعد امریکی نائب صدر نے بھی امریکہ کے ذریعہ ایران کو مالی امداد کی خبر کو جھوٹا قرار دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ تہران کے لیے براہ راست مالی امداد پر غور کر رہا ہے، وینس نے کہا، "اس رقم کا ایک پیسہ بھی امریکہ سے نہیں جائے گا۔”

ایران کے ممکنہ مالیاتی انتظامات کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کو کہا کہ ایران میں مستقبل کی کوئی بھی سرمایہ کاری امریکہ کے بجائے خلیجی عرب ممالک سے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران "ایک عام ملک کی طرح” برتاؤ کرتا ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ماحول پیدا کرتا ہے تو خلیجی ممالک وہاں سرمایہ کاری کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر کے جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کے ایک بار پھر نتائج سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا معاہدے کا بنیادی مقصد ہے۔

ایکس پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں، وینس نے کہا، "صدر پہلے دن سے ہی واضح ہیں: ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ ایک بار پھر، صدر ٹرمپ کی امن سازی کی کوششیں امریکی عوام کے لیے کامیاب ہوئیں، امریکہ سے نفرت کرنے والوں اور صدر ٹرمپ کو روکنے کی بے شمار کوششوں کے باوجود۔”

اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اعلان کیا تھا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے کوئی بھی معاہدہ کیوں نہ ہو۔ نیتن یاہو نے کہا کہ "کئی سالوں سے میں نے جوہری ہتھیار بنانے کی ایران کی کوششوں کی مخالفت کی ہے۔ میں اسے اپنی زندگی کا مشن کہہ سکتا ہوں۔ میں نے اب تک اس موقف کو برقرار رکھا ہے، اور آئندہ بھی رکھوں گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ڈیل ہو یا نہ ہو، ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔ جب تک میں اسرائیل کا وزیر اعظم ہوں، ایسا نہیں ہو گا۔”

نائب صدر وینس نے پہلے کہا تھا کہ پابندیوں میں ریلیف صرف اس صورت میں دی جائے گی، جب ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرے اور ایک مضبوط معائنہ کے نظام کو قبول کرے۔ اس معاہدے پر اس ہفتے کے آخر میں جنیوا میں باضابطہ طور پر دستخط کیے جانے کی امید ہے، جس میں امریکہ سوئٹزرلینڈ میں ایران، پاکستان اور قطر کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے معاہدے کو ایک انتہائی طاقتور دستاویز قرار دیتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ دستخط کی تقریب کے بعد اسے عام کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button