
پاکستان میں گورو ارجن دیو جی جوڑ میلہ کی مرکزی تقریب گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں منعقد، بھارتی سکھ یاتریوں کا پاکستان میں انتظامات پر بھرپور اطمینان
حکومت پاکستان نے کبھی کسی سکھ یاتری کو پاکستان آنے سے نہیں روکا بلکہ ہمیشہ مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: پانچویں سکھ گورو، شری گورو ارجن دیو جی کے جوڑ میلہ کی مرکزی تقریب تاریخی گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں انتہائی عقیدت، احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منعقد ہوئی۔ تقریب میں ملک بھر سے سکھ رہنماؤں، متروکہ وقف املاک بورڈ کے اعلیٰ حکام، پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے عہدیداروں اور بھارت سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب میں چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمرالزمان، ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق، پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی و صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور پنجاب سردار رمیش سنگھ اروڑہ، سیکرٹری جنرل پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی ستونت کور، ڈاکٹر ممپال سنگھ، سردار تارا سنگھ اور بھارتی سکھ جتھے کے رہنما سردار بھوپندر سنگھ سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
پاکستان سکھ قوم کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، رمیش سنگھ اروڑہ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان سکھ مذہب کی جنم بھومی ہے اور دنیا بھر کے سکھوں کے لیے انتہائی روحانی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دروازے سکھ قوم کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں اور حکومت پاکستان مذہبی سیاحت کے فروغ اور سکھ یاتریوں کی سہولت کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود تقریباً 50 تاریخی گوردواروں کو مرحلہ وار فعال کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے جبکہ ابتدائی طور پر 17 گوردواروں کی بحالی اور تزئین و آرائش پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان اقلیتوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور مختلف مندروں کی بحالی کے منصوبے بھی جاری ہیں۔
سردار رمیش سنگھ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یاتریوں کے لیے رہائش، لنگر، سفری سہولیات، طبی امداد اور سکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں، جس پر پوری سکھ برادری پاکستان کی شکر گزار ہے۔
سکھوں کا پہلا گھر پاکستان ہے، ناصر مشتاق
ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے اپنے خطاب میں کہا کہ سکھی کی بنیاد اور اس کی تاریخ پاکستان کی سرزمین سے جڑی ہوئی ہے، اسی لیے پاکستان سکھوں کا پہلا گھر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے کبھی کسی سکھ یاتری کو پاکستان آنے سے نہیں روکا بلکہ ہمیشہ مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ویزا رکھنے کے باوجود سکھ یاتریوں کو دیگر وجوہات کی بنا پر پاکستان آنے سے روک دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے تمام یاتریوں کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

ناصر مشتاق نے کہا کہ وفاقی حکومت کی خصوصی ہدایات کے مطابق یاتریوں کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی۔ میڈیکل کیمپس، ایمبولینس سروس، فوری طبی امداد، صاف ستھری رہائش، معیاری لنگر اور ٹرانسپورٹ کے خصوصی انتظامات کیے گئے تاکہ یاتری اپنی مذہبی رسومات مکمل سکون اور سہولت کے ساتھ ادا کر سکیں۔
بھارتی سکھ جتھہ لیڈر کا انتظامات پر بھرپور اطمینان
بھارتی سکھ جتھے کے لیڈر سردار بھوپندر سنگھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پاکستان، متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی محبت، مہمان نوازی اور مذہبی مقامات پر کیے گئے انتظامات قابلِ تعریف ہیں۔ رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات نے یاتریوں کے دل جیت لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکھ یاتری پاکستان سے خوبصورت یادیں لے کر واپس جائیں گے اور اپنے ملک میں پاکستان کے مثبت اور پرامن تشخص کو اجاگر کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تاریخی گوردواروں کی دیکھ بھال اور تحفظ کا معیار قابلِ ستائش ہے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے مثالی انتظامات
تقریب کے دوران یاتریوں نے گوردوارہ ڈیرہ صاحب میں صفائی ستھرائی، رہائش اور دیگر سہولیات کے اعلیٰ معیار کو بھی سراہا۔ یاتریوں کا کہنا تھا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کا عملہ، سکیورٹی اہلکار اور رضاکار مسلسل ان کی خدمت میں مصروف رہے اور ہر ضرورت کا فوری طور پر خیال رکھا گیا۔

چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمرالزمان کی ہدایات پر یاتریوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے جن میں رہائش، لنگر، طبی سہولیات، سفری انتظامات اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی شامل تھی۔
فول پروف سکیورٹی اور ضلعی انتظامیہ کا تعاون
جوڑ میلہ کی تقریبات کے دوران متروکہ وقف املاک بورڈ، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ گوردوارہ ڈیرہ صاحب اور دیگر مذہبی مقامات کے اطراف سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے تاکہ یاتریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں پاکستان کا کردار
بھارتی سکھ یاتریوں نے اس موقع پر پاکستان میں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔ یاتریوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود مذہبی مقامات پہلے سے زیادہ خوبصورت، محفوظ اور پرامن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی کوششوں نے سکھ برادری اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
19 جون کو واپسی
بھارت سے آئے ہوئے سکھ یاتری اپنے دس روزہ مذہبی دورے کے دوران مختلف مقدس مقامات کی یاترا مکمل کرنے کے بعد 19 جون کو واپس بھارت روانہ ہوں گے۔ یاتریوں نے پاکستان میں قیام کے دوران ملنے والی محبت، احترام اور بہترین انتظامات پر حکومت پاکستان، متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستانی عوام کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔



