
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
جمہوریہ گھانا کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ولیم اگیا پونگ نے پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف پاکستان سے اہم ملاقات کی۔
جی ایچ کیو آمد پر معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ تقریب کے دوران دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ گھانا کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی اور پاکستان کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور لیفٹیننٹ جنرل ولیم اگیا پونگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورتحال، دفاعی شعبے میں تعاون اور پیشہ ورانہ عسکری روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی عسکری قیادت نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور گھانا کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس ضمن میں مشترکہ فوجی مشقوں، تربیتی پروگراموں، انسداد دہشت گردی کے تجربات کے تبادلے، امن مشنز میں تعاون اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں روابط کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور گھانا کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کے تربیتی اداروں اور دفاعی صنعت میں موجود صلاحیتوں سے بھی معزز مہمان کو آگاہ کیا۔
گھانا کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف
اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل ولیم اگیا پونگ نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری، انسداد دہشت گردی کے میدان میں حاصل کردہ کامیابیوں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ادا کیے جانے والے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گراں قدر تجربات حاصل کیے ہیں جن سے افریقی ممالک سمیت دنیا کی دیگر افواج بھی استفادہ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
نیول ہیڈ کوارٹرز میں بحری تعاون پر بات چیت
بعد ازاں جمہوریہ گھانا کے نیشنل سیکیورٹی کوآرڈینیٹر عزت مآب عبدالرزاق عثمان نے نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی۔
ملاقات میں بحری سلامتی، سمندری تجارت کے تحفظ، میری ٹائم سیکیورٹی، انسداد قزاقی اقدامات اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سمندری شعبے میں تربیتی مواقع اور پیشہ ورانہ تبادلوں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر گھانا کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ولیم اگیا پونگ بھی موجود تھے، جنہوں نے پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور خطے میں بحری سلامتی کے لیے اس کے کردار کو سراہا۔
ائیر ہیڈ کوارٹرز میں فضائی دفاعی شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ
گھانا کے نیشنل سیکیورٹی کوآرڈینیٹر عبدالرزاق عثمان نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں چیف آف دی ائیر اسٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران فضائی دفاع، عسکری تربیت، ایوی ایشن ٹیکنالوجی، فضائی آپریشنز اور دفاعی صنعت میں تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے فضائیہ کے شعبے میں باہمی روابط کو مزید مستحکم بنانے اور تربیتی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاکستان ائیر فورس کی جدید پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور خود انحصاری کے مختلف منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ گھانا کے وفد نے پاکستان ائیر فورس کی آپریشنل تیاریوں اور تکنیکی مہارت کو سراہا۔
پاکستان اور گھانا کے تعلقات میں نئی پیش رفت
دفاعی ماہرین کے مطابق گھانا کے اعلیٰ سطحی عسکری وفد کا یہ دورہ پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور سیکیورٹی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دورے سے نہ صرف دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے گا بلکہ تربیت، دفاعی پیداوار، انسداد دہشت گردی اور امن مشنز کے شعبوں میں بھی نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت اور گھانا کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں دفاعی شراکت داری کے نئے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
یہ خبر اخباری انداز میں تیار کی گئی ہے اور اسے قومی یا دفاعی امور کے صفحے پر بطور تفصیلی نیوز اسٹوری شائع کیا جا سکتا ہے۔



