
وزارتِ اطلاعات نے افغان طالبان کے دعوؤں کو مسترد کردیا، خیبر کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ
طالبان حکومت مسلسل ایسے بیانات جاری کرکے نہ صرف عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے توجہ بھی ہٹانا چاہتی ہے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،فیکٹ چیک ونگ پاکستان کے ساتھ
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک ونگ نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ طور پر داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیانات اور پروپیگنڈہ مہم کا مقصد خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی سے متعلق اپنے کردار پر پردہ ڈالنا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیکر کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے زیرِ اثر بعض اخبارات، میڈیا پلیٹ فارمز اور سرکاری ذرائع نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ طالبان فورسز نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں داعش خراسان کے مبینہ مراکز کے خلاف ڈرون کارروائی کی ہے۔ تاہم حقائق اس دعوے کے بالکل برعکس ہیں۔
بیان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت کا ایک ابتدائی نوعیت کا ڈرون خیبر کے قریب شینکو کے علاقے میں پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا، جسے پاک فضائیہ کے جدید اور مؤثر فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر شناخت کر لیا۔ پاکستان ایئر فورس کے الرٹ ایئر ڈیفنس نیٹ ورک نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈرون کو غیر مؤثر بنا دیا اور اسے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کا کوئی موقع نہیں دیا۔

وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر فعال اور مؤثر ہیں، جبکہ ملکی سلامتی کے ادارے ہر قسم کی فضائی یا زمینی دراندازی سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
فیکٹ چیک رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے اندر داعش خراسان کے مبینہ کیمپوں کی موجودگی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ درحقیقت داعش خراسان سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کے مراکز، تربیتی ڈھانچے اور نیٹ ورکس افغانستان کے اندر ان علاقوں میں سرگرم ہیں جو طالبان حکومت کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ وزارت کے مطابق دو درجن سے زائد دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں مختلف سطحوں پر موجود ہیں اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں متعدد بین الاقوامی رپورٹس میں بھی تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت مسلسل ایسے بیانات جاری کرکے نہ صرف عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے توجہ بھی ہٹانا چاہتی ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق داعش، ایف اے کے، ایف اے ایچ اور دیگر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے افغان طالبان حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اس کے برعکس پروپیگنڈہ اور الزام تراشی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے اس نوعیت کے "جعلی اور مذموم” بیانات کا اجرا کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی متعدد مواقع پر ایسے دعوے سامنے آتے رہے ہیں جن کی بعد ازاں کوئی مصدقہ بنیاد سامنے نہیں آسکی۔ وزارت کے مطابق خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی اور انتہا پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات سے توجہ ہٹانے کے لیے اس قسم کی اطلاعات پھیلائی جاتی ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ملکی سلامتی کے اداروں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی سرحدی نگرانی، فضائی دفاع اور انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتیں خطے میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں، جس کا مظاہرہ خیبر کے قریب پیش آنے والے حالیہ واقعے میں بھی دیکھنے میں آیا۔
وزارتِ اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر جنگ صرف ذمہ دارانہ رویے، علاقائی تعاون اور عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے، جبکہ بے بنیاد دعوے اور پروپیگنڈہ نہ صرف حقائق کو مسخ کرتے ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی سلامتی سے متعلق کسی بھی چیلنج کا بروقت اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔



