
پاکستان میں امریکی نژاد خاتون اور تین بچوں کی ہلاکت کا معمہ حل، ماں ہی مرکزی ملزمہ قرار، زہریلا کیمیکل فراہم کرنے والے سمیت دو افراد گرفتار
واقعے کے بعد پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کے حکام نے بھی پولیس سے رابطہ کیا اور تحقیقات میں تعاون کیا۔
کاشف ندیم
لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں رواں ماہ امریکی نژاد خاتون اور اُن کے تین کمسن بچوں کی پُراسرار ہلاکت کے مقدمے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ لاہور پولیس کی تحقیقات، جدید فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ڈیٹا، پولی گرافک ٹیسٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے سامنے آنے والے حقائق کے مطابق بچوں کی ماں نے مبینہ طور پر پہلے اپنے تینوں بچوں کو زہریلی آئس کریم کھلا کر قتل کیا اور بعد ازاں خود بھی وہی زہر کھا کر خودکشی کر لی، جبکہ زہریلا کیمیکل فراہم کرنے اور اس کی ترسیل میں ملوث دو افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
جمعے کے روز ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے ایک تفصیلی پریس کانفرنس میں کیس کی تحقیقات سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ تمام سائنسی، فرانزک اور تکنیکی شواہد اس نتیجے کی تصدیق کرتے ہیں کہ واقعے کی مرکزی ملزمہ خود مقتولہ علینہ تھیں، جو طویل عرصے سے ذہنی عارضے میں مبتلا تھیں اور واقعے سے قبل آن لائن خودکشی اور موت کے مختلف طریقوں سے متعلق مسلسل معلومات حاصل کرتی رہی تھیں۔
17 جولائی کو سامنے آنے والا لرزہ خیز واقعہ
یہ افسوسناک واقعہ 17 جولائی کو اس وقت منظر عام پر آیا جب لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں کرائے کے ایک مکان سے 40 سالہ امریکی نژاد خاتون علینہ اور ان کے تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی تحقیقات میں کھانے یا آئس کریم میں زہر ملانے کا شبہ ظاہر کیا گیا، جس کے بعد مقتولہ کے شوہر ناصر ڈوگر کو بھی شامل تفتیش کیا گیا۔
ابتدائی مرحلے میں شوہر نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کی اہلیہ نے مبینہ طور پر آئس کریم میں زہر ملا کر بچوں کو کھلایا تھا۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کی تصدیق کے لیے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کا آغاز کیا۔
امریکہ سے پاکستان آمد اور ذہنی کیفیت
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق علینہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ امریکہ سے پاکستان آئی تھیں اور لاہور کے ویلنشیا ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں مقیم تھیں۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے امریکہ اور کینیڈا میں مقیم مقتولہ کی بہنوں کے بیانات بھی قلمبند کیے، جنہوں نے تصدیق کی کہ علینہ کافی عرصے سے ذہنی بیماری میں مبتلا تھیں اور پاکستان روانگی سے قبل انہوں نے اپنی نفسیاتی ادویات کا استعمال بھی کم کر دیا تھا، جس سے ان کی ذہنی حالت مزید متاثر ہوئی۔
واقعے کے بعد پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کے حکام نے بھی پولیس سے رابطہ کیا اور تحقیقات میں تعاون کیا۔
آن لائن زہریلا کیمیکل خریدنے کا انکشاف
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ مقتولہ نے انٹرنیٹ پر مختلف زہریلے کیمیکلز اور خودکشی کے طریقوں سے متعلق معلومات تلاش کرنے کے دوران ایک ایسے آن لائن کیمیکل فروش سے رابطہ کیا جو ممنوعہ اور انتہائی خطرناک کیمیکل فروخت کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق خاتون نے پوٹاشیم سائنائیڈ خریدنے کے لیے آن لائن آرڈر دیا، جس کے بدلے ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے منی گرام کے ذریعے ادا کیے گئے۔
ڈی آئی جی سید ذیشان رضا کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کیمیکل فروش نے تمام قانونی ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے انتہائی مہلک کیمیکل خاتون کو فراہم کیا۔
پارسل دوست کے گھر منگوایا گیا
پولیس کے مطابق ملزمہ نے زہریلے کیمیکل پر مشتمل پارسل براہِ راست اپنے گھر منگوانے کے بجائے اپنی ایک دوست کے گھر منگوایا تاکہ کسی قسم کا شبہ نہ ہو۔
تحقیقات کے مطابق 16 جولائی کو مقتولہ اپنی دوست کے ہمراہ ایک نجی پیزا ریسٹورنٹ گئی جہاں دونوں نے کھانا کھایا اور اسی دوران وہ زہریلے کیمیکل والا پارسل بھی وصول کیا۔
پولیس نے اس پورے سلسلے کی تصدیق سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر تکنیکی ذرائع سے کی۔
آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر بچوں کو کھلایا گیا
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ 17 جولائی کو خاتون نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر پہلے اپنے تینوں بچوں کو کھلایا۔
جب بچوں کی حالت غیر ہونے لگی تو خاتون نے خود بھی وہی زہریلی آئس کریم کھائی اور بعد ازاں اپنے شوہر ناصر ڈوگر کو بھی وہ آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹ، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ موت کی وجہ پوٹاشیم سائنائیڈ سے زہر خورانی تھی۔
شوہر بے گناہ قرار
تحقیقات کے دوران مقتولہ کے شوہر ناصر ڈوگر سے کئی روز تک مختلف زاویوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔
پولیس نے ان کا پولی گرافک (Lie Detector) ٹیسٹ بھی کرایا اور ان کے بیانات کا فرانزک شواہد سے موازنہ کیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے واضح کیا کہ مکمل تحقیقات کے بعد ناصر ڈوگر کے خلاف کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ان کے واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق ہوتی ہو، لہٰذا انہیں اس مقدمے میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
دو ملزمان گرفتار
پولیس نے اس کیس میں دو مزید افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں:
- آن لائن زہریلا کیمیکل فروخت کرنے والا دکان دار۔
- کیمیکل کی ترسیل میں ملوث ایک رائیڈر۔
پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کو جدید تفتیشی مہارت، موبائل فون ریکارڈ، مالی لین دین، ڈیجیٹل شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کر کے گرفتار کیا گیا۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ کیمیکل فروش نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر انتہائی مہلک کیمیکل فروخت کیا، جس کے باعث یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔
مضبوط چالان تیار کیا جائے گا
ڈی آئی جی سید ذیشان رضا نے کہا کہ لاہور پولیس پراسیکیوشن کے تعاون سے دونوں گرفتار ملزمان کے خلاف مضبوط چالان مرتب کرے گی تاکہ عدالت میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ممنوعہ زہریلے کیمیکلز کی غیر قانونی فروخت ایک سنگین جرم ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
تفتیشی ٹیم کے لیے انعام
کیس کو جدید سائنسی بنیادوں پر حل کرنے پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور نے تفتیشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے لیے نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان بھی کیا۔
ذہنی صحت پر توجہ کی ضرورت
ماہرین کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ذہنی صحت کے مسائل، نفسیاتی امراض کے بروقت علاج، ادویات کے تسلسل اور انتہائی خطرناک کیمیکلز کی غیر قانونی آن لائن فروخت جیسے اہم پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ یا نفسیاتی بیماری میں مبتلا افراد کی بروقت تشخیص، علاج اور خاندانی معاونت ایسے المناک واقعات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکی ہے اور تمام شواہد اس نتیجے کی تائید کرتے ہیں کہ بچوں کو زہر دینے کے بعد خاتون نے خود بھی زہریلا مادہ استعمال کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، جبکہ مہلک کیمیکل کی غیر قانونی فراہمی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔



