اہم خبریںپاکستان

وفاقی وزیر داخلہ کی ایرانی وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں، خطے میں امن، استحکام اور سفارتی تعاون کے فروغ پر اتفاق

دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ خطے کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون، مسلسل رابطے اور سفارتی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

تہران: پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک اہم سرکاری دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے، جہاں ایرانی حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے کے بعد خطے میں نئی سیاسی اور سفارتی صورتحال جنم لے رہی ہے اور مختلف ممالک مستقبل کے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کے حوالے سے مشاورت میں مصروف ہیں۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تہران پہنچنے پر ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا سرکاری استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔


پاک ایران تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے داخلہ نے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ خطے کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون، مسلسل رابطے اور سفارتی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں پر روشنی ڈالی جبکہ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔


امریکہ۔ایران معاہدے کا خیرمقدم

ملاقات کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے حالیہ مفاہمتی معاہدے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

پاکستان اور ایران دونوں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کے خاتمے، امن کے فروغ اور سفارتی حل کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

دونوں وزراء نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے کے نتیجے میں نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔


محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بعد ازاں ایرانی وزارت خارجہ کا دورہ کیا جہاں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان کا خیر مقدم کیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی استحکام اور امریکہ۔ایران معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کا تسلسل ضروری ہے جبکہ پاکستان اور ایران کو باہمی رابطوں اور مشاورت کے عمل کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا جبکہ محسن نقوی نے ایران کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔


ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کا کردار

بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دورے سے قبل بتایا تھا کہ پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ محسن نقوی اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے حالیہ مہینوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کے فروغ میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں معاونت فراہم کی گئی جبکہ قطر نے بھی ان کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔


جنگ کے پس منظر اور علاقائی اثرات

یاد رہے کہ موجودہ سفارتی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ حالیہ مہینوں میں شدید کشیدگی اور فوجی تصادم کا مشاہدہ کر چکا ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی تھی۔ ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے جواب میں ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہوئے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی تھی جبکہ تیل کی منڈیوں، عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔

تاہم اپریل میں ہونے والی جنگ بندی اور بعد ازاں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے نے کشیدگی میں نمایاں کمی پیدا کی اور ایک بڑے علاقائی تصادم کے خدشات کو وقتی طور پر ٹال دیا۔


خطے میں نئے سفارتی دور کا آغاز؟

سیاسی مبصرین کے مطابق محسن نقوی کا تہران کا دورہ صرف ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ خطے میں ابھرنے والے نئے سیاسی منظرنامے کا اہم حصہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد پاکستان، ایران، سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک مستقبل کے سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے نئے فریم ورک پر غور کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق اگر موجودہ سفارتی رفتار برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بجائے تعاون، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے اسی وسیع تر سفارتی عمل کا حصہ تصور کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد خطے کو تنازعات سے نکال کر امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button