پاکستاناہم خبریں

امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کا آغاز، "We Love Pakistan, Thank You”، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر نے مزید کہا:"ہمیں پاکستان سے محبت ہے اور آپ نے جو کچھ کیا ہے، اس کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔"

https://vogurdunews.de/our-team/

 

 

By Voice of Germany Urdu News Team

امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سوئٹزرلینڈ میں تاریخی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر اہم ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس عمل کو ایک "تاریخی موقع” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک ماضی کی کشیدگی کو پس پشت ڈال کر تعلقات کا نیا باب شروع کر سکتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کی خوبصورت جھیل لوسرن کے کنارے واقع برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ سینئر امریکی مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف بھی موجود ہیں۔ ایرانی وفد کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔

پاکستان کے کردار کا امریکی اعتراف

مذاکرات کے آغاز سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے فروغ اور امریکہ و ایران کے درمیان رابطے بحال کرنے کے لیے انتہائی مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

ایک صحافی کے سوال پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"We Love Pakistan, Thank You.”

امریکی نائب صدر نے مزید کہا:"ہمیں پاکستان سے محبت ہے اور آپ نے جو کچھ کیا ہے، اس کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔”

امریکی قیادت کے ان بیانات کو پاکستان کی سفارتی کامیابی اور عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے کردار کا اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔

مذاکراتی ماحول اور نشستوں کی منفرد ترتیب

ذرائع کے مطابق مذاکراتی میز کو "یو” (U) کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے۔ ایک جانب امریکہ اور قطر کے نمائندے موجود ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان اور ایران کے وفود بیٹھے ہیں۔ ہر فریق کے لیے تین نشستیں مختص کی گئی ہیں جبکہ میز کے مرکزی حصے میں پاکستان اور قطر کے وزرائے اعظم کی نشستیں رکھی گئی ہیں تاکہ وہ ثالثی اور رابطہ کاری کے فرائض انجام دے سکیں۔

پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم Shehbaz Sharif جبکہ قطر کی نمائندگی وزیراعظم Mohammed bin Abdulrahman Al Thani کر رہے ہیں۔

شہباز شریف کا پرامن مستقبل کا وژن

مذاکرات کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری لائیں گے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا:

"ہمیں امید ہے کہ آج کی بات چیت انتہائی مفید ثابت ہوگی اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔”

وزیراعظم نے مزید کہا:

"جب ہم یہاں سے واپس جائیں گے تو ہمارے ہاتھ میں ایک ایسی دستاویز ہوگی جو دنیا بھر میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کا ذریعہ بنے گی۔”

جے ڈی وینس: کیا تعلقات کا نیا باب شروع ہو سکتا ہے؟

مذاکراتی کمرے میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر JD Vance نے اس ملاقات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا:

"اب اصل سوال یہ ہے کہ ہم کتنی دور تک جا سکتے ہیں؟ کیا ہم تعلقات کا نیا باب شروع کر سکتے ہیں؟ کیا ہم مشرقِ وسطیٰ میں حالات کو مستقل طور پر تبدیل کر سکتے ہیں؟ یا پھر ہم دوبارہ پرانے طریقہ کار کی طرف لوٹ جائیں گے؟”

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے عوام کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی شروعات کے خواہاں ہیں، تاہم اس کے لیے ایران کو اپنے علاقائی طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔

امریکہ کی شرائط

جے ڈی وینس کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران:

  • خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے دستبردار ہو؛
  • مسلح پراکسی گروپوں کی حمایت ختم کرے؛
  • جوہری ہتھیاروں کے حصول کے عزائم ترک کرے؛
  • مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران یہ اقدامات کرتا ہے تو امریکہ تعلقات کو بنیادی سطح پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ کی سخت وارننگ

ایک جانب مذاکرات جاری ہیں تو دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایران کو خبردار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو لبنان میں موجود حزب اللہ کو فوری طور پر قابو میں رکھنا ہوگا، بصورت دیگر امریکہ سخت کارروائی کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا:

"اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم ایران پر دوبارہ بہت سخت حملہ کریں گے، بالکل اسی طرح جیسے گزشتہ ہفتے کیا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ۔”

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مذاکراتی عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں داخل ہوا ہے اور عالمی برادری اس کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی وفد کی خاموشی

مذاکرات کے آغاز کے بعد ایرانی وفد نے میڈیا سے گفتگو سے گریز کیا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نہ تو صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے اور نہ ہی امریکی نائب صدر، پاکستانی وزیراعظم اور قطری وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ تصویری سیشن میں شرکت کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی وفد کا محتاط رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران مذاکرات میں اپنی پوزیشن کو محتاط انداز میں آگے بڑھانا چاہتا ہے اور کسی قبل از وقت بیان سے گریز کر رہا ہے۔

پاکستان کی سفارتی کامیابی

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران جیسے دیرینہ حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان اور قطر کا کردار ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں، جبکہ پاکستان ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button