پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

اپ ڈیٹ: کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر دہشت گرد حملہ ناکام، تین حملہ آور ہلاک، ایک زخمی حالت میں گرفتار، تین اہلکار شہید

حملہ آور کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں "بھارتی حمایت یافتہ عناصر" قرار دیا گیا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کراچی: پاکستان رینجرز (سندھ) کے ایک کیمپ پر 27 جون 2026 کو ہونے والے دہشت گرد حملے کو سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ سرکاری بیان کے مطابق حملے میں تین دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ایک زخمی حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔ کارروائی کے دوران پاکستان رینجرز کے تین اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق دہشت گردوں نے کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے پہلے مرکزی دروازے کے قریب دھماکہ کیا تاکہ حفاظتی حصار کو نقصان پہنچایا جا سکے، جس کے بعد انہوں نے کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم، وہاں تعینات رینجرز اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین حملہ آور موقع پر ہی مارے گئے، جبکہ ایک زخمی دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق گرفتار شخص افغان شہری ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاروں اور ممکنہ نیٹ ورک کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔
سرکاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں "بھارتی حمایت یافتہ عناصر” قرار دیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران دستیاب شواہد کی بنیاد پر مزید معلومات مناسب وقت پر عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں پاکستان رینجرز کے تین اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ چار دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی فوجی اور سول اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
سرکاری بیان میں شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران غیر معمولی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ حکام کے مطابق ان کی قربانی دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جدوجہد میں ایک روشن مثال ہے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے حملے کے مقام اور اس کے اطراف میں فوری طور پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ممکنہ سہولت کاروں، فرار ہونے والے عناصر اور دہشت گرد نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کو تلاش کرنا ہے۔ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مربوط حکمتِ عملی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیان کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی اور ملک سے دہشت گردی کے خطرے کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
سرکاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CDF) نے شہید اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جن میں حملہ آوروں کی شناخت، ان کے رابطوں، مالی معاونت، سہولت کاروں اور حملے کی منصوبہ بندی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے تناظر میں سیکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button