پاکستاناہم خبریں

سیکورٹی ذرائع: پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر حملے میں زخمی گرفتار مبینہ دہشت گرد کے اہم انکشافات، تحقیقات کا دائرہ وسیع

گرفتار ملزم نے خود کو دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کا رکن قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تنظیم کے ایک کمانڈر، جسے اس نے "احرار مولوی" کے نام سے شناخت کیا، کی نگرانی میں مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی تھیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر حالیہ دہشت گرد حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے ایک مبینہ دہشت گرد نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں، جن کی روشنی میں تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے پس منظر، منصوبہ بندی، سہولت کاروں اور ممکنہ بین الاقوامی روابط کی مختلف پہلوؤں سے چھان بین جاری ہے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار زخمی ملزم نے اپنا نام عثمان علی بتایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے شہر جلال آباد سے پاکستان آیا تھا۔ اس کے مطابق حملے میں اس کے ساتھ تین دیگر افراد بھی شریک تھے جن کے نام عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق بتائے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نے بیان دیا کہ حملے کے دوران اس کا ساتھی عبدالہادی مارا گیا، جبکہ اس کے بقول جانان نے پاکستان رینجرز کے کیمپ پر دھماکہ خیز مواد پھینکا۔ ملزم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ اور اس کے ساتھی حملے سے تقریباً سات روز قبل پاکستان پہنچے تھے اور انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں رکھا گیا تھا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار شخص نے تفتیش کے دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لے کر آیا تھا۔ اس کے بقول کارروائی کے دوران جب وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا تو اسے گولی لگی، جس کے باعث وہ زخمی ہو کر موقع پر ہی گر گیا اور بعد ازاں سیکورٹی اہلکاروں کی تحویل میں آ گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے خود کو دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کا رکن قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تنظیم کے ایک کمانڈر، جسے اس نے "احرار مولوی” کے نام سے شناخت کیا، کی نگرانی میں مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی تھیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور متعلقہ ادارے ان کی جانچ کر رہے ہیں۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق ملزم نے مزید دعویٰ کیا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو افغانستان میں خودکش حملوں، دھماکہ خیز جیکٹس کی تیاری اور دیگر عسکری سرگرمیوں کی تربیت دی گئی۔ اس کے مطابق یہ تربیت ایک شخص "قاری عمر” کے زیرِ نگرانی فراہم کی گئی، جبکہ حملے سے قبل تمام انتظامات پہلے سے مکمل کیے گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے بیانات کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے حملے میں ملوث مقامی سہولت کاروں، مالی معاونت، لاجسٹک سپورٹ اور سرحد پار روابط کی مختلف جہتوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ڈیٹا اور دیگر دستیاب معلومات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حملے کے تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
دفاعی امور کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے اور مختلف مواقع پر افغان حکام کے ساتھ معلومات اور شواہد بھی شیئر کرنے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کی عبوری طالبان حکومت متعدد مواقع پر اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان رینجرز کے کیمپ پر حملے کی جامع تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ ادارے اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ گرفتار ملزم سے منسوب بیانات اور سیکورٹی ذرائع کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button