پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

آپریشن "غضب للحق” کے تحت سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی، متعدد کیمپ تباہ، اسلحہ و گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ بھی نذرِ آتش

ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی آپریشنل صلاحیت کو کمزور کرنا اور سرحد پار سے دراندازی کے امکانات کو محدود کرنا تھا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی ذرائع کے ساتھ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن "غضب للحق” کے تحت 28 اور 29 جون کی درمیانی شب ایک منظم اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کے سرحدی علاقوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں موجود دہشت گردوں کے مبینہ کیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کا ہدف ان عناصر کے مبینہ مراکز تھے جنہیں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے وابستہ قرار دیا گیا۔ کارروائی میں دہشت گردوں کے مبینہ تربیتی مراکز، اسلحہ کے ذخائر اور لاجسٹک سہولیات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بڑی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔

انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جن کے مطابق مذکورہ مقامات کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی، تربیت، پناہ گاہوں اور لاجسٹک معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی آپریشنل صلاحیت کو کمزور کرنا اور سرحد پار سے دراندازی کے امکانات کو محدود کرنا تھا۔

دہشت گردوں کے مبینہ انفراسٹرکچر کو نقصان

ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سازوسامان کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو نمایاں نقصان پہنچا ہے اور ان کی مستقبل کی کارروائیوں کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیموں، ان کے سہولت کاروں اور محفوظ ٹھکانوں کے خلاف بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے رہیں گے تاکہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔

علاقائی امن کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت

دفاعی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سرحدی سلامتی، انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر علاقائی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق سرحد پار موجود ایسے عناصر، جو کسی بھی ملک کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

سرکاری تصدیق کا انتظار

اس خبر میں بیان کردہ تفصیلات سیکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں۔ خبر کی اشاعت تک افغانستان کی عبوری حکومت یا کسی آزاد بین الاقوامی ذریعے کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اگر مزید سرکاری معلومات یا بیانات جاری کیے گئے تو خبر کو اس کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button