پاکستاناہم خبریں

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ردالفتن 3 جاری، پنجگور میں 5 دہشت گرد ہلاک

انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی میں فتنہ الہندستان کا اہم کمانڈر وزیر بھی مارا گیا، بھاری اسلحہ، گولہ بارود اور 4 موٹر سائیکلیں برآمد

سید عاطف ندیم-پاکستان،ادارت

بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور آپریشن ردالفتن 3 کے تحت دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پنجگور کے علاقوں سرکانی اور چیڈگی میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران فتنہ الہندستان سے وابستہ 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں تنظیم کا اہم کمانڈر وزیر بھی شامل تھا، جسے علاقے میں دہشت گرد سرگرمیوں کی نگرانی اور مختلف جرائم میں ملوث عناصر کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا تھا۔

انٹیلی جنس معلومات پر آپریشن

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پنجگور کے علاقوں سرکانی اور چیڈگی میں آپریشن کیا۔

کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کو گھیرے میں لیا اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی۔ سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں پانچ دہشت گرد مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد علاقے میں بدامنی پھیلانے، شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور مختلف جرائم کے ذریعے مقامی آبادی اور کاروباری طبقے کو نشانہ بنانے کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

اہم کمانڈر وزیر بھی ہلاک

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں ہلاک ہونے والا وزیر فتنہ الہندستان کا اہم کمانڈر تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر دہشت گرد گروہ کی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کر رہا تھا اور پنجگور کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد کارروائیوں اور جرائم سے منسلک نیٹ ورک کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا تھا۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اہم کمانڈر کی ہلاکت کو دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ایسے کمانڈرز مقامی سطح پر دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں، رابطوں اور مالی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

بھاری اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق برآمد ہونے والے سامان میں:

  • چار موٹر سائیکلیں
  • مشین گنیں
  • بھاری اسلحہ
  • گولہ بارود

شامل ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے برآمد ہونے والے اسلحے اور گولہ بارود کو تحویل میں لے لیا ہے، جبکہ دہشت گردوں کے دیگر ممکنہ ساتھیوں اور سہولت کاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کارروائی کے بعد سرچ اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کو بھی جاری رکھا گیا۔

پنجگور میں جرائم اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد صرف مسلح کارروائیوں تک محدود نہیں تھے بلکہ پنجگور میں مختلف جرائم اور دہشت گرد سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردوں پر ڈکیتی، بھتہ خوری اور اغوا سمیت مختلف وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ اس کے علاوہ مقامی تاجروں اور دیگر شہریوں کو بھی مختلف طریقوں سے نشانہ بنانے کی کوششیں کی جاتی رہی تھیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد گروہ کی ایسی سرگرمیوں کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پیدا کرنا، کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنا اور مقامی آبادی کو دباؤ میں رکھنا تھا۔

تاجروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں

پنجگور ایک اہم تجارتی علاقہ ہے اور یہاں کاروباری سرگرمیوں کا براہ راست تعلق مقامی معیشت اور سرحدی تجارت سے بھی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد عناصر کی جانب سے مقامی تاجروں کو بھتہ خوری، دھمکیوں اور دیگر جرائم کے ذریعے دباؤ میں رکھنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایسے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے جو دہشت گرد گروہوں کے لیے مالی وسائل اور مقامی سہولت کاری کا ذریعہ بنتے ہیں۔

آپریشن ردالفتن 3 کا دائرہ کار

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف کارروائیاں مختلف علاقوں میں جاری ہیں۔ آپریشن ردالفتن 3 کے تحت انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق انٹیلی جنس بنیاد پر ہونے والی کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کو منظم ہونے اور شہری علاقوں میں کارروائیاں کرنے سے پہلے ہی روکنا ہے۔

پنجگور میں حالیہ کارروائی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دی جا رہی ہے، جس میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرکے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

بلوچستان میں امن و امان کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو مختلف نوعیت کے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ صوبے کے بعض علاقوں میں دہشت گرد عناصر کی جانب سے سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔

پنجگور میں ہونے والی کارروائی کے بعد بھی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں نگرانی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کو جاری رکھا گیا ہے تاکہ ہلاک دہشت گردوں کے ممکنہ ساتھیوں اور سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی

حالیہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں پر توجہ بڑھائی جا رہی ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کے لیے بروقت انٹیلی جنس معلومات، جدید نگرانی اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ انتہائی اہم ہے۔

پنجگور کے سرکانی اور چیڈگی علاقوں میں کارروائی کے دوران پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی کو اسی حکمت عملی کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

شہریوں کے تحفظ کو ترجیح

سیکیورٹی فورسز کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کے تحفظ کو بنیادی ترجیح حاصل ہے۔ مقامی آبادی، تاجروں اور کاروباری طبقے کے لیے پرامن ماحول کی فراہمی بلوچستان میں معاشی اور سماجی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے بھی ضروری ہے۔

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک علاقے میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور معاون ڈھانچے کو مؤثر انداز میں ختم نہیں کر دیا جاتا۔

پنجگور کے سرکانی اور چیڈگی میں ہونے والی کارروائی میں پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت، اہم کمانڈر وزیر کی ہلاکت اور بھاری اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی سیکیورٹی فورسز کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button