بین الاقوامیاہم خبریں

افغان طالبان کھربوں ڈالر کی معدنی دولت ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے لگے،امریکی تھنک ٹینک کا انکشاف

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کی معدنی دولت موجود ہے، جبکہ 34 صوبوں میں 1,400 سے زائد ذخائر کی نشاندہی ہوچکی ہے

مدثر احمد-ادارت
واشنگٹن: امریکی تھنک ٹینک نے انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان کھربوں ڈالر کی معدنی دولت ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔ معروف امریکی تھنک ٹینک، جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن نے افغان طالبان رجیم کی بدعنوانی، اقرباپروری اور معدنی دولت پر اجارہ داری کی ایک اور داستان سے پردہ اٹھا دیا۔
امریکی تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ کےمطابق طالبان رجیم افغانستان کی ایک ٹریلین ڈالر کی معدنی دولت کو قومی ترقی کے بجائے اشرافیہ کی سرپرستی اور سیاسی کنٹرول کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ جون میں طالبان رجیم نے بدخشاں میں 1 ہزر فوجی اہلکار تعینات کیے تاکہ قیمتی معدنیات کی کانوں پر کنٹرول مزید مضبوط ہو۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کی معدنی دولت موجود ہے، جبکہ 34 صوبوں میں 1,400 سے زائد ذخائر کی نشاندہی ہوچکی ہے۔ افغان طالبان نے 150 سے زائد کمپنیوں کو 205 کان کنی معاہدے دیے، ساڑھے6 ارب ڈالر کے منصوبوں کا اعلان کیا جبکہ تفصیلات تاحال خفیہ ہیں۔
جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ کان کنی کے لائسنس اور معاہدے شفاف نہیں، افغان طالبان سے منسلک نیٹ ورکس اور منرل مافیا معدنی آمدن پر قابض ہیں۔ افغان طالبان کان کنی کی زمینوں پر جبری قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں، صوبہ بدخشاں اور تخار میں مقامی آبادی کی بے دخلی اور خونریز جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
طالبان رجیم میں مائننگ منافع کیلیے کمزور طبقات کا استحصال جاری یے، کم سن بچے حفاظتی سہولیات کے بغیر کوئلے کی خطرناک کانوں میں مزدوری پر مجبور ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق صوبہ بدخشاں میں جاری مزاحمتی تحریکوں اور افغان طالبان پر حملوں کی بنیادی وجہ معدنی وسائل پر جبری قبضہ بھی ہے۔ افغان طالبان کا مائننگ معاہدوں کی تفصیلات خفیہ رکھنا شفافیت پر سوالیہ نشان ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معدنی آمدن دہشتگرد نیٹ ورکس، ٹیرر فنانسنگ اور نارکو اکانومی کو منتقل کی جا رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button