کالمزپیر مشتاق رضوی

ھم کیا چاھتے ؟ ” ھارڈ سٹیٹ” یا "فلاحی ریاست” پیر مشتاق رضوی

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو اگر سنجیدہ لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب ریاست خود بھی مان رہی ہے کہ اصل طاقت آئین میں ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر کا حالیہ بیان کہ "کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہیں؟ نہیں، ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب یہ ہے کہ جس میں آئین، قانون سب کے لیے برابر ہو، اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ ملٹری ریاست چلا رہی ہے” ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں گڈ گورننس، قانون کی حکمرانی اور اداروں کے کردار پر بحث اپنے عروج پر ہے۔ یہ بیان دراصل پاکستان کے ریاستی ماڈل کو نئے سرے سے سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ "ہارڈ اسٹیٹ” کی تعریف کیا ہے۔ مغربی سیاسی نظریات میں ہارڈ اسٹیٹ سے مراد وہ ریاست لی جاتی ہے جو قانون نافذ کرنے میں غیر متزلزل ہو، جس میں جرائم، ٹیکس چوری، بدعنوانی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ سنگاپور، چین اور روس کی مثالیں اکثر دی جاتی ہیں۔ یعنی ہارڈ اسٹیٹ سختی سے قانون نافذ کرتی ہے لیکن خود بھی قانون کی پابند ہوتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اسی نکتے پر زور دیا کہ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب ملٹری رول نہیں بلکہ قانون کی برابری ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ابھی ہمیں اس منزل تک پہنچنے میں کافی فاصلہ طے کرنا ہے۔ اور پوچھنا یہ ہے کہ فیصلے کون کر رہا ہے؟۔ ٹیکس نیٹ میں صرف تنخواہ دار طبقہ آتا ہے جبکہ بڑے بڑے کاروباری اور زمیندار بچ نکلتے ہیں۔ عدالتوں میں ایک عام آدمی کو انصاف کے لیے سالوں لگ جاتے ہیں جبکہ طاقتور کے کیس مہینوں میں نمٹ جاتے ہیں۔ اگر قانون کی برابری ہی ہارڈ اسٹیٹ کی پہچان ہے تو پھر ہم ابھی "سافٹ اسٹیٹ” ہی ہیں، جہاں قانون کتابوں تک محدود ہے اور عمل میں طاقت، سفارش اور اثر و رسوخ چلتا ہے۔دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ہارڈ اسٹیٹ اور ملٹری اسٹیٹ کو مکس کر دینا سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاست نے قانون کے بجائے بندوق کو پالیسی کا ذریعہ بنایا تو وہ وقتی طور پر استحکام تو دے سکی لیکن طویل المدتی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی اعتماد پیدا نہ کر سکی۔ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ فوج حکومت چلائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سول ادارے اتنے مضبوط ہوں کہ وہ قانون کو بلا تفریق نافذ کریں۔ پولیس بغیر سیاسی دباؤ کے کام کرے، نیب بغیر انتقام کے احتساب کرے، بیوروکریسی میرٹ پر فیصلے کرے اور پارلیمنٹ واقعی قانون سازی کرے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، دنیا ہمیں ہارڈ اسٹیٹ نہیں مانے گی چاہے ہم کتنے ہی بیانات دے دیں۔تیسرا نکتہ گڈ گورننس سے جڑا ہے۔ ہارڈ اسٹیٹ کے بغیر گڈ گورننس ممکن نہیں اور گڈ گورننس کے بغیر ہارڈ اسٹیٹ بے معنی ہے۔ ہم نے انفراسٹرکچر تو بنا لیا مگر اسے چلانے کے لیے شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی اصلاحات نہیں کیں۔ ہارڈ اسٹیٹ صرف سزا نہیں دیتی، وہ نظام بھی بناتی ہے جس میں سزا کی نوبت ہی نہ آئے۔پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج آج یہ ہے کہ ہم اپنی ریاست کو "جوابدہ” بنائیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو اگر سنجیدہ لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب ریاست خود بھی مان رہی ہے کہ اصل طاقت آئین میں ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر عملی اقدامات نظر آنے چاہئیں۔ اسمبلیوں میں قانون سازی کا معیار بہتر ہو، عدلیہ کے فیصلے وقت پر آئیں، پولیس اور انتظامیہ سیاست سے پاک ہو، یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کو نہ تو "سافٹ اسٹیٹ” رہنے کا متحمل ہے جہاں ہر کوئی قانون توڑ کر نکل جائے، اور نہ ہی "ملٹری اسٹیٹ” بننے کا۔ ہمیں ایک "آئینی ہارڈ اسٹیٹ” چاہیے۔ ایسی ریاست جو نرم دل ہو عوام کے لیے اور سخت ہو قانون توڑنے والوں کے لیے۔ جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان صرف بیان نہ رہے بلکہ اسکول، ہسپتال، تھانے اور بجلی کے دفتر تک اتر جائے۔کیونکہ ریاست تب ہی مضبوط ہوتی ہے جب اس کا کمزور ترین شہری بھی یہ کہہ سکے کہ "ہاں، یہاں قانون سب کے لیے برابر ہے”۔ اور یہی اصل ہارڈ اسٹیٹ ہے۔ اگر ہارڈ اسٹیٹ کا ایک لفظ میں خلاصہ کرنا ہو تو وہ ہے "قانون کی برابری”۔ اور قانون کی برابری تبھی ممکن ہے جب ریاست میں انصاف اور احتساب دونوں موجود ہوں۔ ان دونوں کے بغیر ہارڈ اسٹیٹ محض ایک نعرہ یا بندوق کی طاقت بن کر رہ جاتی ہے۔
سب سے پہلے انصاف کو دیکھتے ہیں۔ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست عوام پر سختی کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست خود قانون کی سب سے بڑی پابند ہو۔ جب ایک غریب مزدور اور ایک وزیر ایک ہی جرم کریں تو دونوں کے لیے سزا ایک جیسی ہو۔ ۔ جب عدالت میں کمزور کی بھی اتنی ہی شنوائی ہو جتنی طاقتور کی۔ یہی انصاف ہے۔ اگر انصاف نہیں ہوگا تو عوام ریاست کو اپنا دشمن سمجھنے لگیں گے۔ پھر چاہے جتنی مرضی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں، لوگ قانون توڑتے رہیں گے کیونکہ انہیں یقین ہوگا کہ "ہم سے پہلے بڑے لوگ بچ جائیں گے”۔ انصاف کے بغیر ہارڈ اسٹیٹ خوف کی ریاست بن جاتی ہے، اور خوف سے قومیں نہیں بنتیں، نفرتیں جنم لیتی ہیں۔
احتساب کا مطلب ہے جوابدہی۔ ہارڈ اسٹیٹ میں ہر عہدے دار، چاہے وہ کلرک ہو یا صدر پاکستان ، ایم این اے ہو یا وزیرا عظم۔، اپنے ہر فیصلے کا جواب دینے کا پابند ہوتا ہے۔ بجٹ کہاں خرچ ہوا؟ CPEC کے منصوبے لیٹ کیوں ہوئے؟ سرکلر ڈیٹ کیوں بڑھا؟ بجلی کیوں بند کی جاتی ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب دینا پڑے گا۔ جب احتساب ہوگا تو کرپشن خود بخود کم ہو جائے گی۔ جب ایک افسر کو پتہ ہوگا کہ غلط کام پر اسے بچانے والا کوئی نہیں تو وہ رشوت لینے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ احتساب کے بغیر ہارڈ اسٹیٹ "اشرافیہ کی ریاست” بن جاتی ہے جہاں قانون صرف نیچے والوں کے لیے ہے اور اوپر والے قانون سے بالاتر۔
اصل بات یہ ہے کہ انصاف اور احتساب ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ اگر انصاف ہے لیکن احتساب نہیں تو حکمران ظلم کر کے بچ نکلیں گے۔ اور اگر احتساب ہے لیکن انصاف نہیں تو چھوٹے لوگ پکڑے جائیں گے اور بڑے بچ جائیں گے۔ ہارڈ اسٹیٹ تبھی کامیاب ہوتی ہے جب دونوں ساتھ چلیں۔ سنگاپور کی مثال لے لیں۔ وہاں قانون سخت ہے، لیکن اس سے پہلے قانون سب کے لیے برابر ہے۔ وہاں وزیر بھی جیل جاتا ہے اگر کرپشن کرے۔ اسی لیے دنیا اسے ہارڈ اسٹیٹ مانتی ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہاں فوج حکومت چلاتی ہے۔ پاکستان کے حالات کے تناظر میں دیکھیں تو ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ ہمارے پاس قانون موجود ہے، ادارے موجود ہیں، لیکن انصاف اور احتساب کی کمی نے ریاست کو کمزور کر دیا ہے۔ ایک طرف عام آدمی تھانے کے چکر کاٹتا ہے اور دوسری طرف طاقتور کی سفارش پر فیصلے پلٹ جاتے ہیں۔ ایک طرف مزدور ٹیکس دیتا ہے اور دوسری طرف بڑے بڑے لوگ ایمنسٹی لے لیتے ہیں۔ اس عدم مساوات کی وجہ سے ہی عوام کا ریاست پر اعتماد اٹھ گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے درست کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب ملٹری رول نہیں۔ بالکل درست۔ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب ہے "آئینی ریاست”۔ اور آئینی ریاست کی بنیاد دو ستونوں پر کھڑی ہے: عوام کے لیے انصاف اور حکمرانوں کے لیے اور احتساب ،جس دن یہ دونوں ستون مضبوط ہو گئے، اس دن پاکستان خود بخود ہارڈ اسٹیٹ بن جائے گا۔ نہ کسی کو بندوق اٹھانے کی ضرورت ہوگی نہ کسی کو احتجاج کرنا پڑے گا۔ ریاست تب مضبوط ہوتی ہے جب اس کا کمزور ترین فرد بھی یہ کہہ سکے کہ "مجھے انصاف ملے گا”۔ اور ریاست تب ہی پائیدار ہوتی ہے جب اس کا طاقتور ترین فرد بھی یہ جانے کہ "مجھ سے حساب ہوگا”۔ یہی ہارڈ اسٹیٹ ہے، اور یہی گڈ گورننس ہے۔
یہ بات طے ہے کہ ایک ہارڈ اسٹیٹ خود بخود مثالی ریاست نہیں بن جاتی۔ ہارڈ اسٹیٹ دراصل ایک ضروری شرط ہے لیکن کافی شرط نہیں۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب ہے قانون کی سختی سے حکمرانی، جرائم پر کنٹرول، ٹیکس چوری کا خاتمہ، ریاست کی رٹ کا قیام اور قانون کا سب کے لیے برابر ہونا۔ دوسری طرف مثالی ریاست کا تصور اس سے کہیں وسیع ہے۔ مثالی ریاست میں قانون کے ساتھ انصاف، رحم، فلاح، علم، عدل اور انسانی وقار بھی شامل ہوتے ہیں۔ راقم ایک معلم بھی رہا ہے اسے ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کریں ایک استاد کلاس میں بہت سخت ہے۔ کوئی بچہ بات نہیں کر سکتا اور ہوم ورک نہ کرنے پر سخت سزا ملتی ہے۔ یہ ایک "ہارڈ کلاس” تو ہو سکتی ہے جہاں نظم و ضبط قائم ہو، لیکن کیا اس کلاس سے بچے محبت، تخلیق اور شعور لے کر نکلیں گے؟ یہ ضروری نہیں۔ بالکل اسی طرح صرف سختی سے ریاست نہیں چلتی۔ہارڈ اسٹیٹ کی تین بنیادی کمزوریاں ہیں جو اسے مثالی بننے سے روکتی ہیں۔ پہلی کمزوری یہ ہے کہ اگر ہارڈ اسٹیٹ میں انصاف نہ ہو تو وہ ظلم میں بدل جاتی ہے۔ اگر قانون سخت ہے لیکن امیر کے لیے نرم اور غریب کے لیے سخت ہے تو وہ ہارڈ اسٹیٹ نہیں بلکہ مافیاز کی ریاست بن جاتی ہے۔ مثالی ریاست میں قانون کے ساتھ میزان بھی ضروری ہے۔ دوسری کمزوری یہ ہے کہ ہارڈ اسٹیٹ اگر فلاح سے خالی ہو تو وہ خوف کی علامت بن جاتی ہے۔ صرف ڈنڈے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ مثالی ریاست وہ ہے جہاں ریاست رات 12 بجے بجلی بند نہ کرے، اسکول کھولے، ہسپتال چلائے اور مزدور کو روزگار دے۔ لوگ ڈر سے نہیں بلکہ محبت سے ریاست کو مانیں۔ تیسری کمزوری آزادی کا فقدان ہے۔ اگر قانون تو موجود ہو لیکن بولنے، لکھنے اور سوال کرنے کی آزادی نہ ہو تو وہ ریاست جیل بن جاتی ہے۔ اسلام کی ریاست مدینہ اس کی بہترین مثال ہے جو جرائم کے معاملے میں سخت تھی لیکن انسانوں کے لیے نرم تھی۔
مثالی ریاست دراصل تین چیزوں کا مجموعہ ہے۔ ہارڈ اسٹیٹ، گڈ گورننس اور انسانی اقدار۔ ہارڈ اسٹیٹ کا حصہ ہے قانون کی حکمرانی، کرپشن پر زیرو ٹالرنس اور ٹیکس کا نظام۔ گڈ گورننس کا حصہ ہے جوابدہی، شفافیت، میرٹ اور عوامی شرکت۔ اور انسانی اقدار کا حصہ ہے انصاف، تعلیم، صحت، رحم، اقلیتوں کے حقوق اور عورت کا احترام۔ جب یہ تینوں مل جائیں تو ریاست مثالی بنتی ہے۔پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں آج ہارڈ اسٹیٹ کی شدید ضرورت ہے تاکہ بجلی چوری رکے، دہشتگردی کا خاتمہ ہو اور ٹیکس کا نظام بہتر ہو۔ لیکن اگر ہم صرف یہیں رک گئے تو ہم ایک سخت ریاست تو بن جائیں گے لیکن عظیم ریاست نہیں بن پائیں گے۔ عظیم ریاست وہ ہے جس کے بارے میں حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو عمر سے پوچھا جائے گا۔ یہی مثالی ریاست ہے جہاں سخت قانون کے ساتھ نرم دل بھی ہو۔ نبی کریم ﷺ کی ریاست مدینہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ وہاں قانون بھی تھا اور اخلاق بھی، طاقت بھی تھی اور رحم بھی، حساب بھی تھا اور عفو و درگزر بھی۔ ہارڈ اسٹیٹ عمارت کی بنیاد کی مانند ہے۔ اس کے بغیر عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ لیکن صرف بنیاد سے گھر نہیں بنتا۔ بنیاد کے اوپر اینٹیں، کھڑکیاں، روشنی اور سجاوٹ بھی چاہیے تبھی وہ گھر بنتا ہے جس میں انسان سکون سے رہ سکے۔ اس لیے ہمیں ہارڈ اسٹیٹ چاہیے لیکن ہماری منزل مثالی فلاحی ریاست ہونی چاہیے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں نظام کے کولیپس ہونے کی اصل وجہ کوئی نئے قانون یا نئے نظام کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ حکمرانوں، بااختیار قوتوں اور تمام اداروں کا آئینِ پاکستان پر عملدرآمد نہ کرنا ہے۔ ہمارے پاس 1973ء کا ایک جامع آئین موجود ہے جس میں ریاست، حکومت، عدلیہ، فوج اور عوام کے حقوق و فرائض کا واضح تعین کر دیا گیا ہے۔ اس آئین میں فلاحی ریاست کا تصور، بنیادی انسانی حقوق، معاشی انصاف اور اختیارات کی تقسیم سب کچھ درج ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے آئین کو کتابوں تک محدود کر دیا ہے۔ جب قانون بنانے والے خود قانون کی پاسداری نہیں کرتے، جب ادارے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہیں، اور جب طاقتور طبقہ آئین کو اپنی سہولت کے مطابق توڑتا مروڑتا ہے تو پھر کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ آئین کے آرٹیکل 38 جیسے اصول جو عوامی فلاح اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا حکم دیتے ہیں، وہ فائلوں میں بند رہ جاتے ہیں۔
دستور پاکستان کے آرٹیکل 9 سے 28 تک جو بنیادی حقوق دیے گئے ہیں، وہ عام شہری کے لیے خواب بن کر رہ جاتے ہیں۔آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 ہر شہری اور ہر ادارے پر لازم کرتا ہے کہ وہ آئین کی اطاعت کرے اور قانون کا احترام کرے۔ اسی طرح آرٹیکل 38 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ عوام کی فلاح کے لیے ایسے اقدامات کرے جن سے معاشی عدم مساوات ختم ہو اور قومی دولت چند ہاتھوں میں مرکوز نہ ہو۔ لیکن بدقسمتی سے ان دونوں بنیادی شقوں پر عمل نہیں ہو رہا۔ جب ریاست خود آئین کی شقوں کو نظرانداز کرے گی تو عوام کا آئین پر اعتماد کیسے بحال ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کسی نئے نظام کی ضرورت نہیں۔ ہمیں ضرورت ہے اسی آئین پر خلوصِ نیت سے عمل کرنے کی۔ اگر پارلیمنٹ، عدلیہ، ایگزیکٹو اور تمام باختیار ادارے آئین کی بالادستی تسلیم کر لیں، اگر حکمران ذاتی مفاد کے بجائے آئینی حلف کو مقدم رکھیں، اور اگر قانون سب کے لیے برابر ہو جائے تو پاکستان خود بخود ایک فلاحی اور مضبوط ریاست بن جائے گا۔لہٰذا نظام کی خرابی کا علاج انقلاب یا نیا نظام نہیں، بلکہ آئین کی پاسداری ہے۔ جس دن ہم نے آئین کو کتاب سے نکال کر ایوانوں اور دفتروں میں نافذ کر دیا، اسی دن پاکستان کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے۔ کیونکہ آئین پر عملدرآمد اور آئین کی مکمل پاسداری ہی اصل میں قوموں کی ترقی کی ضمانت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button