صحتتازہ ترین

سوڈان میں ہیضے کی وبا سے 120 افراد ہلاک ہو گئے، عالمی ادارہ صحت

سوڈانی حکومت نے حالیہ وبا کا اعلان مغربی علاقے کردفان میں کیا ہے، جو فوج اور اس سے متحارب آر ایس ایف کے زیرِ اثر علاقوں کے درمیان ایک متنازعہ خطہ ہے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ سوڈان میں ہیضے کی وبا کے نتیجے میں 120 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مئی سے اب تک 1,102 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، زیادہ تر کیسز جنگ سے متاثرہ اور دور دراز علاقوں میں سامنے آئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ سوڈان میں فوج اور اس کی مخالف نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان تین سال سے جاری جنگ نے ملک کے صحت کے نظام کو شدید طور پر مفلوج کر رکھا ہے۔

یہ سوڈان میں گزشتہ تین برسوں میں ہیضے کی تیسری بڑی لہر ہے، جو مارچ میں آخری وبا کے خاتمے کے صرف دو ماہ بعد دوبارہ شروع ہوئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 سے مارچ 2026 کے دوران گزشتہ لہر میں 124,400 سے زائد افراد متاثر اور 3,500 ہلاک ہوئے تھے۔

ڈبلیو ایچ او کے سوڈان میں نمائندے ڈاکٹر شبلی صاحبانی نے صحافیوں کو بتایا کہ ہیضہ پہلے ملک میں ہر تین سال بعد ایک مخصوص چکر میں سامنے آتا تھا تاہم اب جنگ، رسائی میں مشکلات اور طبی وسائل کی کمی کے باعث صورتحال مسلسل بحران میں بدل چکی ہے۔

سوڈان کے شہر تاویلا میں ہیضے کی ایک عمر رسیدہ مریضہ اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام کلینک میں زیرِ علاج
ڈبلیو ایچ او کے مطابق زیادہ تر کیسز جنگ سے متاثرہ اور دور دراز علاقوں میں سامنے آئے ہیںتصویر: Mohammed Jamal/REUTERS

انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے ہفتوں میں بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے، جس کے دوران صاف پانی کی کمی اور نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

سوڈانی حکومت نے حالیہ وبا کا اعلان مغربی علاقے کردفان میں کیا ہے، جو فوج اور اس سے متحارب آر ایس ایف کے زیرِ اثر علاقوں کے درمیان ایک متنازعہ خطہ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق دونوں فریقوں کی جانب سے مسلسل ڈرون حملوں نے اس خطے میں امدادی سرگرمیوں اور تجارتی رسائی کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے، جبکہ ہزاروں افراد قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر  نے کہا کہ شہر کے بجلی گھروں پر حملے پینے کے صاف پانی اور بجلی کی فراہمی میں شدید خلل ڈال رہے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر انسانی المیے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سوڈان میں صحت کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے، جہاں 40 فیصد طبی مراکز مکمل طور پر بند ہیں جبکہ باقی 60 فیصد بھی محدود سطح پر خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button