
سری لنکا میں گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری ایمرجنسی کا خاتمہ
حکام کے مطابق طوفان سے جزیرے بھر میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں نے تقریباً 4.1 ارب ڈالر مالیت کے بنیادی شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔
By Voice of Germany Urdu News Team
سری لنکا کی حکومت نے آٹھ ماہ قبل آنے والے تباہ کن سمندری طوفان کے بعد نافذ کی گئی ملک گیر ایمرجنسی ختم کر دی ہے۔ وزیر اطلاعات نالندا جیاتیسا نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’اب ملک میں ہنگامی حالت نافذ نہیں رہے گی۔‘‘
نومبر 2025 میں آنے والے سائیکلون ڈٹواہ کے نتیجے میں 643 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ اس دوران فوج کو امدادی سرگرمیوں، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، شاہراہوں اور ریلوے لائنوں کی بحالی اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ایمرجنسی کی مدت ہر ماہ پارلیمان کی منظوری سے بڑھائی جاتی رہی۔
حکام کے مطابق طوفان سے جزیرے بھر میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں نے تقریباً 4.1 ارب ڈالر مالیت کے بنیادی شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔

اپوزیشن کے مرکزی اتحاد نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایمرجنسی قوانین کو سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا تاہم حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ ایمرجنسی قوانین کے تحت حکومت کو تباہ شدہ املاک کو اپنی تحویل میں لینے کا اختیار بھی حاصل تھا تاکہ لوٹ مار اور ناجائز قبضوں کو روکا جا سکے۔
سری لنکا کے آئین کے مطابق صدر ایک وقت میں ایک ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں، جس میں توسیع پارلیمان کی منظوری سے کی جا سکتی ہے۔
یہ طوفان گزشتہ دو دہائیوں میں سری لنکا میں آنے والی بدترین قدرتی آفت تھا اور یہ ایک ایسے وقت آیا، جب ملک 2022 کے شدید معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔
بعد ازاں سری لنکا نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 2.9 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج حاصل کیا، جبکہ گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 6.8 فیصد رہ گئی، جو ستمبر 2022 میں 69.8 فیصد تھی۔





