
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کی ٹیکنالوجی برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت نے ایک اہم اور طویل المدتی حکمت عملی کا آغاز کرتے ہوئے امریکی پبلک پروکیورمنٹ مارکیٹ کو ہدف بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان مقامی آئی ٹی کمپنیوں کو امریکہ کی تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر مالیت کی اسٹیٹ، لوکل اینڈ ایجوکیشن (SLED) پروکیورمنٹ مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کر رہا ہے۔ حکومت کا مقصد ملک کی ٹیکنالوجی برآمدات میں نمایاں اضافہ، قیمتی زرِ مبادلہ کا حصول، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مضبوط مقام دلانا ہے۔
انہوں نے یہ بات بدھ کے روز پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے حکومت کے تعاون سے منعقد کیے گئے خصوصی تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پہلے ہی پاکستان کی ٹیکنالوجی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے جہاں ملک کی مجموعی آئی ٹی برآمدات کا تقریباً 62 فیصد جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی پبلک سیکٹر کی اس وسیع مارکیٹ تک پاکستانی کمپنیوں کی رسائی انہیں نئی کاروباری کامیابیوں سے ہمکنار کر سکتی ہے اور یہ پاکستان کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکی پبلک پروکیورمنٹ مارکیٹ کیا ہے؟
شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت اس مرتبہ صرف وفاقی امریکی اداروں کے بجائے اسٹیٹ، لوکل اینڈ ایجوکیشن (SLED) مارکیٹ پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، جو امریکہ بھر میں تقریباً 90 ہزار سرکاری اداروں، ریاستی حکومتوں، بلدیاتی اداروں، پبلک اسکول ڈسٹرکٹس، کالجز اور جامعات پر مشتمل ہے۔ ان اداروں کی جانب سے ہر سال سافٹ ویئر، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ڈیٹا مینجمنٹ، آئی ٹی سپورٹ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی خدمات کی خریداری پر تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مارکیٹ دنیا کی سب سے بڑی عوامی خریداری کی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستانی کمپنیوں کے لیے اس میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔
پاکستانی کمپنیوں کی خصوصی تربیت
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے ایک پائلٹ پروگرام کے تحت 74 پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو خصوصی تربیت فراہم کی ہے تاکہ وہ امریکی پبلک سیکٹر کے معیار، قوانین، ٹینڈرنگ سسٹم، معاہدوں کے طریقہ کار اور تکنیکی تقاضوں کو سمجھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام پر حکومت نے تقریباً چھ سے سات ملین روپے خرچ کیے ہیں، تاہم اس سرمایہ کاری کے ابتدائی مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور متعدد کمپنیوں نے امریکی اداروں کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا اصل مقصد صرف تربیت دینا نہیں بلکہ پاکستانی کمپنیوں کو حقیقی کاروباری مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر کامیاب ہو سکیں۔
کارکردگی جانچنے کا نیا نظام
شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری فنڈنگ سے چلنے والے آئی ٹی تربیتی پروگراموں کی جانچ کا نظام بھی مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
اب کسی پروگرام کی کامیابی کا اندازہ صرف تربیت مکمل کرنے والے افراد کی تعداد سے نہیں لگایا جائے گا بلکہ چھ ماہ بعد آزادانہ جائزہ لیا جائے گا جس میں دیکھا جائے گا کہ:
- کتنی کمپنیوں نے بین الاقوامی معاہدے حاصل کیے۔
- کتنی نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
- کتنی برآمدی آمدنی حاصل ہوئی۔
- کتنے شرکاء نے اپنے کاروبار شروع کیے۔
- کتنے افراد کو ملکی یا غیر ملکی کمپنیوں میں روزگار ملا۔
وزیر کا کہنا تھا کہ اس نئی پالیسی سے حکومتی سرمایہ کاری کے حقیقی معاشی نتائج سامنے آئیں گے اور مستقبل کے پروگرام زیادہ مؤثر انداز میں ترتیب دیے جا سکیں گے۔
آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (BPO)، فری لانسنگ، موبائل ایپلیکیشنز، کلاؤڈ سروسز اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں پاکستانی کمپنیوں نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
پاکستانی آئی ٹی ماہرین نسبتاً کم لاگت، اعلیٰ معیار کی خدمات اور انگریزی زبان پر عبور کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں اپنی الگ شناخت بنا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں پاکستانی سافٹ ویئر کمپنیوں کی خدمات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومت کی ڈیجیٹل معیشت پالیسی
وفاقی حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کو اپنی اقتصادی پالیسی کا اہم ستون قرار دیا ہے۔ حکومت کا ہدف صرف آئی ٹی برآمدات میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ پاکستان کو خطے کا ایک بڑا ٹیکنالوجی ہب بنانا بھی ہے۔
اس مقصد کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے، جن میں شامل ہیں:
- آئی ٹی پارکس کا قیام
- اسٹارٹ اپس کی مالی معاونت
- عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنا
- نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دینا
- مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں مہارت پیدا کرنا
- خواتین کی آئی ٹی شعبے میں شمولیت بڑھانا
- بین الاقوامی مارکیٹوں تک رسائی آسان بنانا
معیشت کے لیے اہم پیش رفت
معاشی ماہرین کے مطابق اگر پاکستانی کمپنیاں امریکی SLED مارکیٹ میں مؤثر انداز میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس کے نتیجے میں نہ صرف اربوں ڈالر کی نئی برآمدات ممکن ہوں گی بلکہ ملک میں ہزاروں نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی برآمدات روایتی برآمدی شعبوں کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش اور تیزی سے بڑھنے والی صنعت ہیں، جو پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی
حکومت کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ پائلٹ پروگرام کامیاب ثابت ہوا تو مزید پاکستانی کمپنیوں کو امریکی اور دیگر عالمی سرکاری خریداری کی منڈیوں میں داخل ہونے کے لیے تربیت اور مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی موجودگی بڑھانے کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان کی نوجوان افرادی قوت، تیزی سے ترقی کرتا ہوا آئی ٹی سیکٹر اور حکومتی سرپرستی ملک کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک نمایاں مقام دلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ امریکی 1.5 ٹریلین ڈالر کی پبلک پروکیورمنٹ مارکیٹ تک رسائی اس سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔



