
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی (Global Counter-Terrorism Strategy – GCTS) کے نویں جائزے پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کو مزید مؤثر، جامع اور غیر امتیازی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حکمتِ عملی میں موجود خامیوں کو دور کیے بغیر دہشت گردی جیسے پیچیدہ اور مسلسل بدلتے ہوئے خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹا نہیں جا سکتا۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ایک سرحدوں سے ماورا، کثیرالجہتی اور مسلسل ارتقا پذیر خطرہ بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو حقیقت پسندانہ، متوازن اور مسلسل اپ ڈیٹ ہونے والی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گرد حملوں میں 1,200 سے زائد پاکستانی شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں محض ایک شراکت دار نہیں بلکہ صفِ اول کا ملک ہے۔
پاکستان کی قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم کی جائیں
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف غیر معمولی قربانیاں دے رہا ہے۔ ہزاروں شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، جبکہ ملک کو اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات بھی برداشت کرنا پڑے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔
GCTS کے نویں جائزے پر تحفظات
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر اپنے تحفظات بھی کھل کر بیان کیے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ تین سال سے جاری مذاکرات کے باوجود اس جائزے میں کئی اہم مسائل کو مؤثر انداز میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے متعدد اہم نکات کو حتمی دستاویز میں مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور OIC نے مذاکرات کے دوران لچک اور تعمیری کردار کا مظاہرہ کیا، تاہم اس کے باوجود مطلوبہ پیش رفت نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔
حل طلب تنازعات اور حقِ خودارادیت پر زور
پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پائیدار کامیابی صرف عسکری اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ان بنیادی عوامل کو بھی حل کرنا ہوگا جو انتہا پسندی اور تشدد کو جنم دیتے ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حل طلب سیاسی تنازعات، غیر ملکی قبضہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھنا ایسے عوامل ہیں جو بدامنی کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی انسدادِ دہشت گردی فریم ورک میں غیر ملکی قبضے کے خاتمے اور اقوام کے حقِ خودارادیت کے احترام کو بنیادی اصولوں میں شامل کیا جائے۔
آزادی کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے نہ جوڑا جائے
پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے لیے کی جانے والی جائز جدوجہد کو دہشت گردی قرار دینا یا اس سے جوڑنے کی ہر کوشش ناقابلِ قبول ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ آزادی، خودمختاری اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے عوام کو دہشت گرد قرار دینا نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔
ریاستی دہشت گردی کے خلاف بھی عالمی مؤقف اختیار کیا جائے
پاکستان نے اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کو صرف غیر ریاستی عناصر ہی نہیں بلکہ ایسے حالات کا بھی جائزہ لینا چاہیے جہاں غیر ملکی قبضے کے تحت عوام کے خلاف مبینہ ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہوں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ عالمی انسدادِ دہشت گردی کا نظام اس وقت تک مکمل اور متوازن نہیں ہو سکتا جب تک تمام اقسام کے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا یکساں انداز میں جائزہ نہ لیا جائے۔
اسلاموفوبیا اور مذہبی نفرت کے بڑھتے رجحانات پر تشویش
پاکستان نے دنیا بھر میں اسلاموفوبیا، مذہبی منافرت، نسل پرستی اور عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مختلف ممالک میں مساجد پر حملے، قرآنِ مجید کی بے حرمتی، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات اور انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیاں عالمی امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری ایسے تمام واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر، عملی اور مشترکہ اقدامات کرے۔
"اسلامک ٹیررازم” جیسی اصطلاحات کے استعمال پر اعتراض
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ "اسلامک ٹیررازم”، "ریڈیکل اسلام” اور اسی نوعیت کی دیگر اصطلاحات کا استعمال بند کیا جانا چاہیے کیونکہ ایسی زبان پوری مسلم دنیا کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کو فروغ دینے کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کے مطابق دہشت گردی کا کسی مذہب، نسل یا تہذیب سے تعلق نہیں، اس لیے کسی بھی مذہب کو دہشت گردی سے منسلک کرنا غیر منصفانہ اور نقصان دہ عمل ہے۔
اقوامِ متحدہ کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے ادارہ جاتی نظام اور پابندیوں کے موجودہ طریقہ کار میں اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ موجودہ نظام کو زیادہ شفاف، غیر جانبدار، جوابدہ اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تمام ممالک کو مساوی بنیادوں پر انصاف اور اعتماد حاصل ہو سکے۔
ڈیجیٹل دنیا میں دہشت گردی کے نئے چیلنجز
پاکستان نے سوشل میڈیا، آن لائن پلیٹ فارمز اور جدید ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے انتہا پسندانہ نظریات کے فروغ پر بھی تشویش ظاہر کی۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا کو بھرتی، فنڈنگ، پروپیگنڈا، رابطہ کاری اور انتہا پسندانہ مواد کی تشہیر کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر سخت اور مربوط ضابطہ کاری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کمپنیوں، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت آن لائن انتہا پسندی کا مؤثر سدباب کرنا ہوگا۔
کرپٹو کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کی نگرانی
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گرد تنظیمیں جدید مالیاتی نظام، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس لیے عالمی سطح پر ایسے مالیاتی نظام کے لیے مؤثر قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں تاکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور غیر قانونی فنڈنگ کے تمام راستے بند کیے جا سکیں۔
FATF سمیت عالمی اداروں کو غیر سیاسی بنایا جائے
پاکستان نے اپنے بیان میں زور دیا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق کام کرنے والے بین الحکومتی اداروں، بالخصوص فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)، کو مکمل طور پر غیر سیاسی، شفاف، منصفانہ اور یکساں معیار پر کام کرنا چاہیے۔
پاکستان کا مؤقف تھا کہ ایسے اداروں کے فیصلے صرف شواہد، بین الاقوامی قوانین اور تکنیکی معیار کی بنیاد پر ہونے چاہییں، نہ کہ سیاسی یا جغرافیائی مفادات کے تحت۔
عالمی برادری کے لیے ویک اپ کال
اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے جائزے میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونا پوری عالمی برادری کے لیے ایک "ویک اپ کال” ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی نوعیت مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے عالمی برادری کو اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ، متوازن اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ دہشت گردی، انتہا پسندی، نفرت انگیز بیانیے اور ان کی مالی معاونت کا مؤثر خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں اپنا فعال کردار جاری رکھے گا اور ایک ایسے بین الاقوامی نظام کے قیام کے لیے کام کرتا رہے گا جو انصاف، انسانی حقوق، خودارادیت، مذہبی احترام اور مؤثر کثیرالجہتی تعاون کے اصولوں پر استوار ہو۔



