
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزیراعظم محمد شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ ترکی کے اہم سرکاری دورے کریں گے، جہاں وہ دونوں برادر اسلامی ممالک کی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی صورتحال، اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران وزیراعظم کے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے اہم ارکان اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی دورے میں شریک ہوں گے۔
ترجمان کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایران اور ترکی کی اہمیت، برادر اسلامی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کے فروغ اور خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے عزم کا مظہر ہے۔
ایران کا دورہ: تعزیت، یکجہتی اور برادرانہ تعلقات کا اظہار
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں اسلامی جمہوریہ ایران پہنچیں گے، جہاں وہ مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم اس موقع پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کریں گے۔ وہ اس موقع پر اس بات کا اعادہ بھی کریں گے کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
توقع ہے کہ وزیراعظم ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، تجارت، توانائی، علاقائی سلامتی، افغانستان کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری پیش رفت سمیت اہم علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، سرحدی تجارت میں اضافہ کرنے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔
ترکی کا دورہ: اقتصادی شراکت داری پر خصوصی توجہ
ایران کے دورے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں رہنما پاکستان اور ترکی کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے تفصیلی مذاکرات کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں سیاسی، سفارتی، اقتصادی، دفاعی، تجارتی، سرمایہ کاری، تعلیمی، ثقافتی اور عوامی روابط سمیت دوطرفہ تعاون کے تمام پہلو زیر غور آئیں گے۔
دونوں رہنما علاقائی اور عالمی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، جنوبی ایشیا کی سلامتی، اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز اور باہمی دلچسپی کے دیگر بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ
حکومت پاکستان اس دورے کے دوران ترکی کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف استنبول میں پاکستان کی جانب سے منعقد کی جانے والی ایک اہم بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے، جس میں ترکی کے ممتاز صنعت کار، سرمایہ کار، کاروباری شخصیات، حکومتی نمائندے، چیمبرز آف کامرس کے عہدیدار اور مختلف شعبوں کے ماہرین شرکت کریں گے۔
وزیراعظم اپنے خطاب میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، معاشی اصلاحات، نجکاری پروگرام اور حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالیں گے۔
ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت
بزنس کانفرنس کے دوران پاکستان درج ذیل اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرے گا:
- اسپیشل اکنامک زونز (SEZs)
- توانائی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے
- انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت
- تجارت اور برآمدات
- مینوفیکچرنگ سیکٹر
- بنیادی ڈھانچے کی ترقی
- نجکاری کے مختلف منصوبے
- زراعت اور فوڈ پروسیسنگ
- لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ
حکومت کو امید ہے کہ اس کانفرنس کے ذریعے ترک سرمایہ کار پاکستان کے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی لیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
پاکستان۔ترکی اقتصادی تعلقات
پاکستان اور ترکی کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے مضبوط سیاسی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک کی قیادت تجارتی حجم کو موجودہ سطح سے کئی گنا بڑھانے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔
دونوں ممالک آزاد تجارتی معاہدے، مشترکہ صنعتی منصوبوں، دفاعی پیداوار، انفراسٹرکچر، سیاحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر کام کر رہے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ ان اقتصادی اہداف کے حصول میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
علاقائی امن اور سفارتی مشاورت
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقاتوں میں صرف دوطرفہ تعلقات ہی نہیں بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔
توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، اسلامی دنیا کو درپیش سیاسی اور انسانی چیلنجز، افغانستان کی صورتحال، علاقائی استحکام، انسداد دہشت گردی اور اقتصادی روابط کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی خطے میں امن، مذاکرات، اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط کے فروغ پر مرکوز ہے، اور وزیراعظم کا یہ دورہ اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کا مؤقف
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ایران اور ترکی کا دورہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، اقتصادی روابط بڑھانے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے قریبی مشاورت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
اہمیت اور ممکنہ نتائج
سفارتی ماہرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ موجودہ علاقائی حالات میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ترکی کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے کی کوشش پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور صنعتی تعاون کے شعبوں میں عملی پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ خطے میں اقتصادی روابط کو بھی نئی تقویت مل سکتی ہے۔
دوسری جانب دونوں برادر ممالک کی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورت سے علاقائی امن، سیاسی استحکام اور اسلامی دنیا کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔



