پاکستاناہم خبریں

افغان طالبان کے پاکستان پر اسلحہ اسمگلنگ کے الزامات، اسلام آباد کا سخت ردعمل، افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کا ٹھکانہ: پاکستان

افغانستان کی موجودہ حکومت نے ماضی میں یہ یقین دہانیاں کرائی تھیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان سے افغانستان میں اسلحے کی اسمگلنگ اور اسے مبینہ طور پر تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کے دعوے پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان میں موجود اسلحے کے بڑے ذخائر کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان سے اسلحہ اسمگلنگ کو دہشت گردی یا تخریبی سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔

پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری جنگوں کے باعث پہلے ہی بڑے پیمانے پر اسلحے اور فوجی سازوسامان کا مرکز بن چکا ہے۔ سوویت دور کے ہتھیاروں اور مختلف ادوار میں افغانستان میں موجود رہنے والی غیر ملکی افواج کے چھوڑے گئے فوجی سازوسامان کے علاوہ، امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد بھی قابل ذکر مقدار میں جدید ہتھیار، گاڑیاں، گولہ بارود اور دیگر فوجی آلات افغانستان میں رہ گئے تھے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق ایسے حالات میں افغانستان میں موجود وسیع اسلحہ ذخیرے کے تناظر میں پاکستان سے مبینہ اسلحہ اسمگلنگ کو تخریبی سرگرمیوں کی بنیادی وجہ قرار دینا قابلِ سوال ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اسلحے کی موجودگی ایک نئی صورتحال نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط جنگی حالات کا نتیجہ ہے۔

افغانستان میں اسلحے کے وسیع ذخائر

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سوویت دور سے ہی مختلف نوعیت کے ہتھیار موجود رہے ہیں۔ سوویت فوج کے خلاف افغان جنگ، اس کے بعد خانہ جنگی، طالبان کے پہلے دور حکومت، 2001 کے بعد امریکی اور نیٹو افواج کی طویل موجودگی اور پھر غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی سازوسامان افغانستان میں موجود رہا۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے جدید امریکی ساختہ ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی مالیت کے حوالے سے مختلف اندازے سامنے آتے رہے ہیں، جن میں تقریباً 7.2 ارب امریکی ڈالر کا تخمینہ بھی شامل ہے۔ اس میں مختلف اقسام کی فوجی گاڑیاں، ہتھیار، مواصلاتی آلات، گولہ بارود اور دیگر دفاعی سامان شامل رہا ہے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود اسلحے کے اس وسیع ذخیرے کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان سے اسلحے کی مبینہ اسمگلنگ کو ملک میں دہشت گردی یا تخریبی کارروائیوں سے جوڑنے کے لیے استعمال کرنا ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہے جو اصل مسئلے سے توجہ ہٹا سکتا ہے۔

پاکستان کا بنیادی اعتراض: افغان سرزمین سے دہشت گردی

پاکستانی مؤقف میں سب سے اہم نکتہ افغان سرزمین پر موجود مسلح گروہوں کی سرگرمیاں ہیں۔ اسلام آباد متعدد مواقع پر یہ کہ چکا ہے کہ پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں، سہولت کاری اور آپریشنل آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے مختلف علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت نے ماضی میں یہ یقین دہانیاں کرائی تھیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم اسلام آباد کے مطابق پاکستان کے خلاف ہونے والے متعدد حملوں اور سرحد پار دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ان یقین دہانیوں پر مؤثر عمل درآمد ایک بنیادی سوال بن چکا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مبینہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کس حد تک کیے گئے ہیں۔

الزام تراشی کے بجائے عملی اقدامات پر زور

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود مسائل کو الزام تراشی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل سرحد موجود ہے جس پر غیر قانونی آمدورفت، اسمگلنگ، عسکریت پسندی اور سرحدی سلامتی جیسے مسائل کئی برسوں سے موجود ہیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ باہمی الزامات کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد، مؤثر سرحدی انتظام، انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات پر توجہ دیں۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اگر افغان حکام کو پاکستان سے افغانستان میں اسلحے کی اسمگلنگ کے حوالے سے کوئی ٹھوس معلومات یا شواہد حاصل ہیں تو انہیں متعلقہ فورمز پر پیش کیا جانا چاہیے تاکہ ان دعوؤں کی غیر جانب دارانہ جانچ ممکن ہو سکے۔

افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کا معاملہ

پاکستان کے مطابق اصل تشویش افغان سرزمین پر موجود ان مسلح گروہوں سے متعلق ہے جو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر علاقائی تعاون اسی وقت ممکن ہے جب تمام ممالک اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

پاکستانی حکام کے مطابق کسی بھی ملک کے لیے یہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی سرزمین سے دوسرے ملک کے شہریوں یا سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے کیے جائیں۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت نے عالمی برادری اور ہمسایہ ممالک کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ پاکستان اسی وعدے پر عملی پیش رفت کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سرحدی سلامتی اور اسمگلنگ کا چیلنج

پاکستانی مؤقف کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد کی وجہ سے غیر قانونی تجارت، انسانی اسمگلنگ، منشیات اور اسلحے کی غیر قانونی نقل و حرکت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے دونوں جانب مؤثر سرحدی نگرانی ضروری ہے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اگر سرحد پار اسلحے کی اسمگلنگ کا کوئی نیٹ ورک موجود ہے تو اسے دونوں ممالک کے تعاون سے بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ تاہم محض الزامات کی بنیاد پر کسی ایک ملک کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے ٹھوس شواہد اور تحقیقات کے ذریعے اصل نیٹ ورک تک پہنچنا ضروری ہے۔

پاکستان کے مطابق دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی الزام تراشی کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

علاقائی امن کے لیے باہمی ذمہ داری ضروری

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا براہ راست اثر دونوں ممالک کے عوام کے علاوہ پورے خطے کی سلامتی اور معاشی صورتحال پر پڑتا ہے۔ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام نہ صرف دہشت گردی کے خاتمے بلکہ تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

پاکستانی مؤقف یہ ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب وہاں موجود تمام مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو مؤثر طریقے سے روکا جائے اور افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کا خواہاں ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے بجائے سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیں اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔

پاکستان کا واضح پیغام

پاکستانی مؤقف کا خلاصہ یہ ہے کہ افغانستان میں موجود وسیع اور تاریخی اسلحہ ذخائر کے تناظر میں پاکستان سے اسلحے کی مبینہ اسمگلنگ کو افغانستان میں تخریبی سرگرمیوں کی بنیادی وجہ قرار دینا قابلِ قبول نہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اصل توجہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر، ان کے مبینہ ٹھکانوں، سہولت کاری کے نیٹ ورکس اور پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں پر مرکوز ہونی چاہیے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکام کو الزامات اور الزام تراشیوں کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ عمل اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے چاہییں۔

اسلام آباد کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل عرصے تک بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کیا ہے اور وہ اپنی سرزمین، شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی بنیاد باہمی احترام، سرحدی سلامتی، عدم مداخلت اور اس اصول پر ہونی چاہیے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

نوٹ: افغانستان کی جانب سے پاکستان کے اس مؤقف اور الزامات پر کوئی تفصیلی جواب یا مستند شواہد سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جانا چاہیے، تاکہ معاملے کے دونوں فریقوں کا مؤقف مکمل طور پر سامنے آ سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button