
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پلاننگ ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ ترقیاتی اور معاشی اپ ڈیٹس رپورٹس نے مالی سال 2025-26 کی اقتصادی کارکردگی کی مجموعی تصویر کو نسبتاً مثبت قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق معاشی نمو میں بہتری، افراطِ زر میں کمی، مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور بڑے پیمانے کی صنعتوں کی بحالی جیسے اہم اشاریے ملکی معیشت میں استحکام کی جانب پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم انہی رپورٹس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ معیشت اب بھی کئی دیرینہ ساختی مسائل سے دوچار ہے، جن میں برآمدات کی کمزور کارکردگی، درآمدات میں تیز رفتار اضافہ، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور بیرونی کھاتوں کا ترسیلاتِ زر پر غیر معمولی انحصار شامل ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ اعداد و شمار گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں حوصلہ افزا ہیں، لیکن پائیدار ترقی کے لیے صرف معاشی استحکام کافی نہیں بلکہ برآمدات، صنعتی پیداوار، زرعی اصلاحات، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کی ترقی میں بھی مستقل پیش رفت ناگزیر ہے۔
معاشی نمو میں بہتری، صنعتی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز
سرکاری رپورٹس کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی مجموعی معاشی نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر تصور کی جا رہی ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعت (Large Scale Manufacturing) میں بھی طویل جمود کے بعد دوبارہ ترقی کا رجحان دیکھنے میں آیا، جس سے صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے۔
اسی عرصے میں مالیاتی خسارہ کم ہوا، زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اوسط مہنگائی بھی حکومتی ہدف کے اندر رہی، جسے معاشی استحکام کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برآمدات میں کمی، درآمدات میں نمایاں اضافہ
اگرچہ مجموعی معاشی اشاریے بہتر ہوئے، لیکن بیرونی تجارت کے شعبے میں صورتحال تشویش کا باعث رہی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:
- اشیا کی برآمدات میں 4.6 فیصد کمی واقع ہوئی۔
- اشیا کی درآمدات میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات تقریباً 40.9 ارب ڈالر رہیں۔
- درآمدات بڑھ کر 76.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.5 فیصد زیادہ ہیں۔
اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ تقریباً 6 ارب ڈالر بڑھ گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے 1.84 ارب ڈالر سرپلس کے مقابلے میں کرنٹ اکاؤنٹ 139 ملین ڈالر خسارے میں چلا گیا۔
اگرچہ خسارے کا حجم نسبتاً محدود ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کے پس منظر میں موجود رجحانات مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
ترسیلاتِ زر نے بیرونی کھاتوں کو سہارا دیا
رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مالی سال کے دوران ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس نے بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ نہ ہوتا تو بیرونی کھاتوں پر دباؤ کہیں زیادہ شدید ہو سکتا تھا۔
تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی بھی معیشت کے لیے مستقل بنیادوں پر ترسیلاتِ زر پر انحصار پائیدار حل نہیں، بلکہ برآمدات اور پیداواری سرمایہ کاری میں اضافہ ہی طویل المدتی معاشی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی
معاشی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں تقریباً ایک تہائی کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کا حجم گھٹ کر 1.6 ارب ڈالر رہ گیا۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ معاشی استحکام بہتر ہوا ہے، لیکن سرمایہ کاروں کا اعتماد ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔
درآمدات میں اضافے کی وجوہات
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ درآمدات میں اضافہ صرف کھپت بڑھنے کا نتیجہ نہیں بلکہ صنعتی بحالی کے لیے خام مال، مشینری اور درمیانی درجے کی مصنوعات (Intermediate Goods) کی درآمد بھی اس کا ایک اہم سبب ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صنعتی سرگرمیاں مستقبل میں برآمدات میں اضافے کی صورت اختیار نہ کر سکیں تو درآمدی بل میں مسلسل اضافہ بیرونی کھاتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
آئی ٹی برآمدات نے امید کی نئی کرن دکھائی
رپورٹ میں خدمات کے شعبے، خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی، کی کارکردگی کو انتہائی مثبت قرار دیا گیا ہے۔
مالی سال کے دوران آئی ٹی اور دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ شعبہ پاکستان کے لیے مستقبل میں زرمبادلہ کمانے کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے، تاہم اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے توانائی، ٹیکس، ضابطہ جاتی اصلاحات، ہنرمند افرادی قوت اور جدید انفراسٹرکچر پر مزید سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔
مہنگائی میں کمی، لیکن خوراک کی قیمتوں میں اضافہ برقرار
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے جولائی کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی مہنگائی (Headline Inflation) جون کے 11.1 فیصد سے کم ہو کر 9.2 فیصد پر آ گئی۔
تاہم ماہانہ بنیاد پر صارفین کی قیمتوں میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق:
- خوراک کی قیمتوں میں 4.16 فیصد اضافہ ہوا۔
- خراب ہونے والی اشیا (پھل، سبزیاں وغیرہ) کی قیمتوں میں 17.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- حساس قیمتوں کا اشاریہ (SPI) ماہانہ بنیاد پر 2.4 فیصد بڑھا جبکہ سالانہ بنیاد پر 12 فیصد بلند رہا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق مجموعی افراطِ زر میں کمی کے باوجود خوراک کی مہنگائی عام شہریوں پر بدستور بھاری بوجھ ڈال رہی ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں جہاں خوراک کی قیمتوں میں نسبتاً زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
زرعی شعبے کو درپیش مسائل
وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں زرعی شعبے کو بھی متعدد چیلنجز کا سامنا قرار دیا گیا ہے۔
خریف سیزن کے دوران:
- ڈی اے پی کھاد کے استعمال میں 37.3 فیصد کمی آئی۔
- کم بارشیں۔
- پانی کی قلت۔
- زرعی لاگت میں اضافہ۔
- ذخیرہ اندوزی اور لاجسٹکس کے مسائل۔
ماہرین کے مطابق یہی عوامل خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور زرعی پیداوار میں سست روی کا باعث بن رہے ہیں۔
ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات
پلاننگ ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کا 97 فیصد سے زیادہ حصہ پہلے سے جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ 60 فیصد سے زائد وسائل انفراسٹرکچر منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل زیادہ مؤثر حکمت عملی ہوگی۔
مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی
سرکاری رپورٹ کے مطابق جولائی تا مئی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3.8 فیصد سے کم ہو کر 1.6 فیصد رہ گیا۔
یہ بہتری:
- ٹیکس آمدنی میں اضافے،
- قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں کمی،
- اور اخراجات پر کنٹرول کے باعث ممکن ہوئی۔
تاہم اسی عرصے میں ترقیاتی اخراجات میں 8.9 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقیاتی سرمایہ کاری مسلسل کم ہوتی رہی تو مستقبل کی معاشی استعداد متاثر ہو سکتی ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے چیلنجز
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد معاشی نمو کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اصل امتحان صرف یہ نہیں ہوگا کہ یہ ہدف حاصل ہوتا ہے یا نہیں، بلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہوگا کہ:
- کیا برآمدات درآمدات کے ساتھ رفتار ملا سکیں گی؟
- کیا غیر ملکی سرمایہ کاری دوبارہ بڑھ سکے گی؟
- کیا زرعی شعبہ خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کر سکے گا؟
- کیا صنعتی ترقی پائیدار بنیادوں پر جاری رہ سکے گی؟
ماہرین کی رائے
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت نسبتاً مضبوط زرمبادلہ ذخائر، بہتر مالیاتی نظم و ضبط اور پالیسی گنجائش کے ساتھ نئے مالی سال میں داخل ہو رہا ہے، لیکن معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں موجود دیرینہ کمزوریاں اب بھی برقرار ہیں۔
ان کے مطابق اگر برآمدات، سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، زرعی اصلاحات اور پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو موجودہ معاشی بحالی بھی ماضی کی طرح عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایسی جامع اصلاحات ناگزیر ہیں جو معیشت کو درآمدات اور ترسیلاتِ زر پر انحصار سے نکال کر برآمدات، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، صنعت اور زرعی پیداوار پر مبنی مضبوط بنیاد فراہم کریں۔



