پاکستاناہم خبریں

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا نیا دفاعی اتحاد: مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی منظرنامے میں کیا بدل سکتا ہے؟

ان تینوں ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر آنا خطے میں طاقت کے توازن، دفاعی تعاون اور سکیورٹی ترجیحات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

سید عاطف ندیم -ادارت،تجزیہ

بین الاقوامی تجزیہ: سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والا نیا مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر اسلامی دنیا کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے میں شامل اجتماعی دفاع کی شق نے اسے معمول کے دفاعی تعاون سے آگے بڑھا کر ایک ممکنہ نئے علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی شکل دے دی ہے۔

معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہی شق اس نئے دفاعی بندوبست کو خاص اہمیت دیتی ہے اور اسے بعض مبصرین نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مشابہ قرار دے رہے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ تینوں ممالک فوری طور پر کسی جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ عملی طور پر شامل ہو جائیں گے۔ موجودہ علاقائی حالات میں تینوں ریاستیں سفارتی رابطوں، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کو بھی اہم ترجیح قرار دیتی رہی ہیں۔

سعودی عرب میں ہونے والے اس اجلاس اور دفاعی معاہدے کو صرف تین ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے طور پر دیکھنے کے بجائے خطے میں سکیورٹی شراکت داری کے ایک نئے تصور کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

سعودی عرب ایک بڑی معاشی اور سیاسی طاقت کے طور پر خلیجی خطے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ترکیہ اپنی دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، عسکری پیداوار اور نیٹو رکنیت کے باعث ایک اہم فوجی طاقت ہے، جبکہ پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک بڑی عسکری قوت ہونے کے ساتھ جوہری صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

ان تینوں ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر آنا خطے میں طاقت کے توازن، دفاعی تعاون اور سکیورٹی ترجیحات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

معاہدے کی سب سے اہم خصوصیت اجتماعی دفاع سے متعلق شق ہے۔

اس کے تحت اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ اصول بظاہر اجتماعی دفاع کے تصور کو مضبوط بناتا ہے اور ممکنہ مخالفین کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی ایک رکن کے خلاف کارروائی کی صورت میں اسے صرف ایک ملک کے ساتھ تنازع نہیں سمجھا جائے گا۔

تاہم عملی سطح پر اس شق کی تشریح اور اطلاق مستقبل میں انتہائی اہم ہوگا۔

یہ واضح نہیں کہ کسی حملے کی صورت میں تینوں ممالک کس نوعیت کا ردعمل دیں گے، کیا مشترکہ فوجی کارروائی ہوگی، یا ہر ملک اپنی صلاحیت اور سیاسی فیصلے کے مطابق ردعمل دے گا۔

اسی لیے ماہرین کے نزدیک معاہدے کی اصل اہمیت اس کے الفاظ سے زیادہ اس کے مستقبل میں عملی نفاذ سے واضح ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے باوجود فوری طور پر کسی بڑے فوجی تصادم کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تینوں ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطوں اور سیاسی حل کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

لہٰذا دفاعی معاہدے کو لازماً جارحانہ فوجی اتحاد تصور کرنا درست نہیں ہوگا۔

یہ ممکن ہے کہ اس معاہدے کا ایک بنیادی مقصد ہی یہ ہو کہ تینوں ممالک کے خلاف ممکنہ فوجی دباؤ یا حملے کی صورت میں ایک مشترکہ سیاسی اور دفاعی ڈیٹرنس قائم ہو۔

یعنی معاہدہ جنگ شروع کرنے کے بجائے جنگ روکنے کے لیے طاقت کے توازن کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

یہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید سکیورٹی بحران سے گزر رہا ہے۔

خطے میں جاری جنگ اور ایران و اس کے اتحادیوں سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کے روایتی سکیورٹی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔

آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم سمندری راستوں میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔

خلیج فارس سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل اور گیس فراہم ہوتی ہے، اس لیے کسی بڑے سکیورٹی بحران کا اثر صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی معیشت تک پہنچ سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں امریکہ کے روایتی سکیورٹی کردار پر بھی بحث بڑھ گئی ہے۔

کئی دہائیوں سے امریکہ خلیجی خطے میں ایک اہم سکیورٹی ضامن کے طور پر موجود رہا ہے۔ امریکی فوجی موجودگی، بحری بیڑے اور دفاعی معاہدوں نے خطے کے کئی ممالک کو تحفظ فراہم کیا۔

تاہم موجودہ علاقائی حالات میں بعض ممالک اپنی سکیورٹی ضروریات کو صرف ایک بیرونی طاقت پر منحصر رکھنے کے بجائے متبادل شراکت داریاں قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا نیا دفاعی فریم ورک اسی وسیع تر رجحان کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔

اس ممکنہ سکیورٹی اتحاد میں سعودی عرب کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

سعودی عرب نہ صرف دنیا کی بڑی توانائی معیشتوں میں شامل ہے بلکہ اسلامی دنیا میں بھی اسے غیر معمولی مذہبی اور سیاسی اہمیت حاصل ہے۔

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی وجہ سے سعودی عرب کو مسلم دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل ہے، جبکہ خلیجی سیاست میں اس کا معاشی اور سفارتی اثر بھی نمایاں ہے۔

سعودی عرب کی مالی صلاحیت اسے دفاعی ٹیکنالوجی، جدید ہتھیاروں، انٹیلی جنس اور فوجی بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔

اس لیے ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری سعودی عرب کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید متنوع بنانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

ترکیہ اس نئے فریم ورک میں دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری صنعت کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں ڈرونز، بغیر پائلٹ فضائی نظام، بحری ٹیکنالوجی، بکتر بند گاڑیوں اور مختلف دفاعی مصنوعات کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔

ترکیہ کی دفاعی صنعت نہ صرف ملکی ضروریات پوری کر رہی ہے بلکہ متعدد ممالک کو دفاعی مصنوعات برآمد بھی کر رہی ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں ترکیہ اپنی دفاعی ٹیکنالوجی، تربیتی تجربے اور عسکری صنعتی صلاحیت کو بروئے کار لا سکتا ہے۔

پاکستان اس دفاعی فریم ورک میں اپنی طویل فوجی تاریخ، جنگی تجربے، تربیتی صلاحیت اور دفاعی اداروں کے باعث اہم سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج نے کئی دہائیوں کے دوران مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کیا ہے، جبکہ ملک دہشت گردی کے خلاف طویل فوجی کارروائیوں کا تجربہ بھی رکھتا ہے۔

پاکستان کی جوہری صلاحیت بھی اسے خطے میں ایک منفرد تزویراتی حیثیت فراہم کرتی ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق پاکستان کی شمولیت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی بھی علاقائی تنازع میں فوری طور پر فوجی کردار اختیار کرے گا۔

اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں علاقائی امن، سفارت کاری اور قومی مفادات کے تحفظ کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔

نئے دفاعی معاہدے کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اسے ایران کے لیے براہ راست پیغام سمجھا جائے۔

خطے میں ایران اور بعض عرب ممالک کے درمیان تاریخی سکیورٹی خدشات موجود رہے ہیں، جبکہ ایران کی علاقائی سرگرمیوں اور اس کے اتحادی گروہوں کے حوالے سے سعودی عرب اور بعض دیگر ریاستوں کے تحفظات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

تاہم ترکیہ اور پاکستان کے ایران کے ساتھ اپنے الگ سفارتی، اقتصادی اور علاقائی تعلقات ہیں۔

اس لیے دونوں ممالک کے لیے ایران کے خلاف کسی براہ راست فوجی کارروائی کا حصہ بننا ایک انتہائی پیچیدہ فیصلہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے کہ معاہدہ ایران کے خلاف براہ راست جنگی اتحاد کے بجائے ایک ڈیٹرنس میکانزم کے طور پر کام کرے۔

اس کے باوجود تہران کے لیے اس معاہدے کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تینوں اہم مسلم اکثریتی ممالک ہیں اور ان کا مشترکہ دفاعی فریم ورک ایران کو یہ پیغام دے سکتا ہے کہ خطے کے بڑے ممالک اپنی سکیورٹی ضروریات کے لیے نئے باہمی انتظامات تشکیل دے رہے ہیں۔

تاہم اگر یہ اتحاد سفارتی چینلز کو بھی کھلا رکھتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایران اور ان تینوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کے بجائے مذاکرات اور توازن کی سیاست کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔

یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی ایک اہم علاقائی پیش رفت ہو سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی طویل عرصے سے ایران، اس کے اتحادیوں اور مختلف علاقائی مسلح گروہوں کے حوالے سے مرکوز رہی ہے۔

اگر سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان دفاعی تعاون کو مستقل اور ادارہ جاتی شکل دیتے ہیں تو خطے میں ایک نیا سکیورٹی بلاک ابھر سکتا ہے۔

تاہم اس اتحاد کی سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک اسے صرف دفاعی تعاون تک محدود رکھتے ہیں یا اسے وسیع تر مشترکہ سکیورٹی حکمت عملی میں تبدیل کرتے ہیں۔

امریکہ کے لیے بھی یہ معاہدہ ایک اہم سفارتی اور تزویراتی پیغام سمجھا جا سکتا ہے۔

خلیج میں امریکی فوجی موجودگی بدستور اہم ہے، لیکن خطے کے بعض ممالک اب اپنی سکیورٹی ضروریات کے لیے ایک سے زیادہ شراکت داروں پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔

سعودی عرب کا ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنے دفاعی تعلقات کو مزید متنوع بنانا چاہتے ہیں۔

یہ رجحان امریکہ کے روایتی اثر و رسوخ کو فوری طور پر ختم نہیں کرتا، لیکن علاقائی طاقتوں کے درمیان زیادہ خودمختار سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔

اگرچہ اجتماعی دفاع کی شق نیٹو کے اصول سے مشابہ دکھائی دیتی ہے، لیکن دونوں کو مکمل طور پر ایک جیسا قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

نیٹو ایک طویل عرصے سے موجود ادارہ جاتی فوجی اتحاد ہے، جس کے پاس مشترکہ کمان، منصوبہ بندی، فوجی ڈھانچے اور متعدد مستقل ادارے موجود ہیں۔

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان موجودہ معاہدے کی اصل طاقت کا اندازہ اس وقت ہوگا جب تینوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی پیداوار، مشترکہ تربیت اور بحران کے دوران فیصلہ سازی کے مستقل طریقہ کار کو عملی شکل دیں گے۔

اس معاہدے کا ایک اہم پہلو دفاعی صنعت میں تعاون بھی ہو سکتا ہے۔

ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی، پاکستان کی دفاعی پیداوار اور سعودی عرب کی سرمایہ کاری کی صلاحیت ایک دوسرے کے لیے تکمیلی حیثیت رکھتی ہیں۔

اگر تینوں ممالک مشترکہ منصوبوں کی طرف بڑھتے ہیں تو ڈرونز، فضائی دفاع، بحری نظام، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک وارفیئر اور دیگر جدید شعبوں میں تعاون کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ تعاون طویل مدت میں تینوں ممالک کو مغربی یا دیگر بیرونی دفاعی سپلائرز پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں بھی مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مشترکہ مشقوں کے ذریعے فوجی دستے ایک دوسرے کے آپریشنل طریقہ کار، کمانڈ سسٹم اور دفاعی صلاحیتوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔

اس سے کسی ہنگامی صورتحال میں باہمی تعاون کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے۔

خصوصاً انسداد دہشت گردی، شہری دفاع، سائبر سکیورٹی، بحری سلامتی اور ڈرون مخالف نظام جیسے شعبوں میں مشترکہ تربیت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں بحری سلامتی بھی اس دفاعی شراکت داری کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔

سعودی عرب خلیجی سمندری راستوں کے حوالے سے براہ راست مفاد رکھتا ہے، ترکیہ کے پاس بحری طاقت اور بحری صنعت کی صلاحیت موجود ہے جبکہ پاکستان بحری سکیورٹی اور بحر ہند کے تناظر میں اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔

اگر تینوں ممالک سمندری نگرانی، بحری تربیت، انٹیلی جنس شیئرنگ اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھاتے ہیں تو اس کے علاقائی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔

اس نئے دفاعی اتحاد کی اصل آزمائش کسی فوری فوجی جنگ کے بجائے سیاسی اختلافات اور مختلف قومی مفادات کے انتظام میں ہوگی۔

تینوں ممالک کے مفادات ہر مسئلے پر یکساں نہیں ہیں۔

سعودی عرب کی ترجیحات خلیجی سلامتی اور توانائی کے تحفظ سے جڑی ہیں، ترکیہ کی اپنی علاقائی اور یورپی سکیورٹی ترجیحات ہیں جبکہ پاکستان کی بنیادی سکیورٹی توجہ جنوبی ایشیا اور اپنی قومی سلامتی کے مسائل پر مرکوز ہے۔

لہٰذا اتحاد کو مؤثر بنانے کے لیے تینوں ممالک کو مشترکہ مفادات کی واضح حدود متعین کرنا ہوں گی۔

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آیا یہ معاہدہ عملی دفاعی اتحاد بنے گا یا صرف سیاسی اور سفارتی علامت تک محدود رہے گا۔

اگر تینوں ممالک مستقل مشترکہ ادارے قائم نہیں کرتے، دفاعی منصوبہ بندی کو مربوط نہیں کرتے اور عملی فوجی تعاون میں اضافہ نہیں کرتے تو معاہدے کا اثر زیادہ تر سیاسی سطح تک محدود رہ سکتا ہے۔

اس کے برعکس اگر مشترکہ کمانڈ، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی پیداوار، فوجی مشقوں اور بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر عملی پیش رفت ہوتی ہے تو یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی منظرنامے کو حقیقی طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔

یہ معاہدہ مسلم دنیا میں طاقت کے توازن کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔

سعودی عرب مذہبی اور معاشی اثر و رسوخ رکھتا ہے، ترکیہ عسکری اور صنعتی صلاحیت کا حامل ہے جبکہ پاکستان بڑی فوجی اور جوہری طاقت ہے۔

ان تینوں صلاحیتوں کا امتزاج ایک ایسے علاقائی فریم ورک کو جنم دے سکتا ہے جو مستقبل میں مسلم دنیا کے بعض سکیورٹی معاملات میں زیادہ خودمختار کردار ادا کرے۔

تاہم اس کے لیے سیاسی ہم آہنگی اور طویل مدتی ادارہ جاتی تعاون ضروری ہوگا۔

معاہدے کا سب سے فوری ممکنہ فائدہ ڈیٹرنس یعنی ممکنہ حملے کو روکنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اگر کسی ممکنہ مخالف کو یہ یقین ہو کہ ایک رکن کے خلاف کارروائی تینوں ممالک کے ردعمل کو جنم دے سکتی ہے تو وہ کسی فوجی اقدام سے پہلے زیادہ محتاط ہو سکتا ہے۔

اس طرح اجتماعی دفاع کی شق جنگ شروع کرنے کے بجائے جنگ روکنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

تاہم خطے میں پائیدار استحکام صرف فوجی طاقت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان اگر دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں کو بھی جاری رکھتے ہیں تو یہ نیا فریم ورک علاقائی کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

خصوصاً ایران، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا اس اتحاد کو ایک متوازن علاقائی سکیورٹی پلیٹ فارم بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

نتیجہ

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس معاہدے کی سب سے نمایاں خصوصیت اجتماعی دفاع کی وہ شق ہے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق ممکنہ مخالفین کے لیے ایک مضبوط ڈیٹرنس پیغام بن سکتی ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا اندازہ وقت کے ساتھ ہی ہوگا۔

سعودی عرب کی معاشی اور سیاسی طاقت، ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری صنعت، اور پاکستان کی فوجی مہارت اور جوہری صلاحیت اس شراکت داری کو منفرد بناتی ہیں۔

اس کے باوجود اسے فوری طور پر کسی ملک، بالخصوص ایران، کے خلاف جنگی اتحاد قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ترکیہ اور پاکستان دونوں کے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں اور تینوں ممالک کے لیے علاقائی استحکام اور کشیدگی میں کمی بھی اہم ترجیحات ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ آیا مکہ مکرمہ میں ہونے والا یہ معاہدہ صرف ایک مضبوط سیاسی پیغام ثابت ہوتا ہے یا مستقبل میں مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت، انٹیلی جنس تعاون، بحری سلامتی اور مشترکہ سکیورٹی منصوبہ بندی کے ذریعے ایک باقاعدہ علاقائی دفاعی ڈھانچے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اگر یہ شراکت داری ادارہ جاتی شکل اختیار کرتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت اور ڈیٹرنس کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صرف سیاسی سطح تک محدود رہی تو اس کے اثرات علامتی نوعیت کے رہیں گے۔

یوں مکہ مکرمہ کا یہ نیا دفاعی معاہدہ صرف تین ممالک کے درمیان تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسے نئے سکیورٹی دور کے آغاز کی علامت بھی بن سکتا ہے، جس میں علاقائی طاقتیں اپنی سلامتی کے لیے نئے شراکت دار، نئے دفاعی ڈھانچے اور نئے تزویراتی راستے تلاش کر رہی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button