
15ویں بین الاقوامی 100 سیکنڈ فلم فیسٹیول کے انٹرنیشنل سیکشن کا آغاز، "دنیا کے بچوں کے لیے جنگ” مرکزی تھیم قرار، مختصر فلموں کے ذریعے جنگ کے انسانی المیے کو اجاگر کرنے کا عزم
وہ ان والدین کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں جو آج بھی بمباری، دھماکوں اور چیخ و پکار کی آوازوں کو اپنے ذہنوں سے نہیں نکال سکے,ڈائریکٹر علی اکبر جیناب زادہ
15ویں بین الاقوامی 100 سیکنڈ فلم فیسٹیول کے انٹرنیشنل سیکشن کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع "دنیا کے بچوں کے لیے جنگ” (The Battle for the World’s Children) رکھا گیا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں جنگوں، مسلح تنازعات اور تشدد کے نتیجے میں بچوں کی زندگیوں، مستقبل، تعلیم، نفسیات اور انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے گہرے اثرات کو مختصر مگر مؤثر فلموں کے ذریعے عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔
منتظمین کے مطابق فیسٹیول نہ صرف فلم سازوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرے گا بلکہ یہ ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم بھی ثابت ہوگا جہاں مختلف ممالک کے ہدایت کار، مصنفین، فنکار اور نوجوان فلم ساز جنگ اور امن جیسے اہم انسانی موضوعات پر اپنی سوچ اور تجربات دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
جنگ کے انسانی پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش
فیسٹیول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سال کا موضوع اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور مسلح تنازعات کا سب سے زیادہ اثر معصوم بچوں پر پڑتا ہے، جو نہ صرف اپنے پیاروں سے محروم ہوتے ہیں بلکہ تعلیم، صحت، نفسیاتی سکون اور محفوظ مستقبل جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔
منتظمین کے مطابق مختصر دورانیے کی فلمیں اپنے محدود وقت کے باوجود طاقتور بصری اظہار کے ذریعے ایسے انسانی المیوں کو دنیا کے سامنے لا سکتی ہیں جنہیں اعداد و شمار یا سرکاری بیانات مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے۔
انٹرنیشنل سیکشن کے ڈائریکٹر کا جذباتی پیغام
فیسٹیول کے انٹرنیشنل سیکشن کے ڈائریکٹر علی اکبر جیناب زادہ نے افتتاح کے موقع پر ایک جذباتی نوٹ جاری کیا، جس میں انہوں نے گزشتہ سال ایران کے شہر لامرد میں ایک کھیلوں کے ہال پر ہونے والے حملے کا ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہال میں بچے کھیلوں کی سرگرمیوں میں مصروف تھے جبکہ والدین اپنے بچوں کی کامیابیوں پر خوشیاں منا رہے تھے، لیکن اچانک حملے نے اس خوشگوار ماحول کو خوف، تباہی اور خاموشی میں بدل دیا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ ایسے سانحات صرف عمارتوں کو نہیں گراتے بلکہ خاندانوں، خوابوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان والدین کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں جو آج بھی بمباری، دھماکوں اور چیخ و پکار کی آوازوں کو اپنے ذہنوں سے نہیں نکال سکے، جبکہ بہت سی مائیں آج بھی ملبے کے قریب سے گزرتے ہوئے اپنے بچوں کی یاد میں غمزدہ ہو جاتی ہیں۔
خاموش آوازوں کو عالمی پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش
فیسٹیول انتظامیہ کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد ان کہانیوں کو دنیا کے سامنے لانا ہے جو اکثر عالمی میڈیا اور سیاسی مباحث میں نظر انداز ہو جاتی ہیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران عام شہری، خصوصاً بچے، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لیکن ان کی تکالیف اور نفسیاتی زخموں پر کم توجہ دی جاتی ہے۔
اسی مقصد کے تحت مختصر فلموں کے ذریعے ایسے انسانی تجربات، جذبات اور حقائق کو پیش کیا جائے گا جو جنگ کی اصل قیمت کو دنیا کے سامنے واضح کریں۔
مرکزی موضوعات کا اعلان
فیسٹیول انتظامیہ نے اس سال مقابلے کے لیے تین بنیادی موضوعات کا اعلان کیا ہے:
- دنیا کے بچوں کے لیے جنگ (The Battle for the World’s Children)
- مستقبل کی جنگ (The Future War)
- وطن کی جنگ (The Homeland War)
منتظمین کے مطابق پہلے دو موضوعات کے تحت جمع کرائی جانے والی فلموں کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ 100 سیکنڈ ہوگا، جبکہ "وطن کی جنگ” کے زمرے میں فلم ساز 300 سیکنڈ (پانچ منٹ) تک کی فلمیں جمع کرا سکیں گے۔
مختصر فلموں کے ذریعے مؤثر پیغام رسانی
فیسٹیول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ 100 سیکنڈ فلم فیسٹیول کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مختصر ترین وقت میں بھی ایک مضبوط اور مؤثر کہانی بیان کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق جدید دور میں مختصر فلمیں نہ صرف نوجوان فلم سازوں کے لیے اظہار کا بہترین ذریعہ بن چکی ہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی انہیں وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
عالمی فلم سازوں کی شرکت متوقع
فیسٹیول میں دنیا کے مختلف ممالک سے فلم سازوں، ہدایت کاروں، طلبہ، میڈیا پروفیشنلز اور تخلیقی شعبوں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
منتظمین کے مطابق بین الاقوامی سیکشن مختلف ثقافتوں اور معاشروں کے فلم سازوں کو ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گا جہاں وہ امن، انسانیت، بچوں کے حقوق اور جنگ کے اثرات جیسے عالمی موضوعات پر اپنے خیالات کا تبادلہ کر سکیں گے۔
فن اور انسانیت کا امتزاج
منتظمین کا کہنا ہے کہ فلم محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی شعور بیدار کرنے، انسانی جذبات کو اجاگر کرنے اور عالمی مسائل پر مکالمے کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
اسی سوچ کے تحت 15ویں بین الاقوامی 100 سیکنڈ فلم فیسٹیول کا انٹرنیشنل سیکشن جنگ کے انسانی پہلو، معصوم بچوں کی زندگیوں پر اس کے اثرات اور امن کے فروغ جیسے موضوعات کو مختصر مگر مؤثر فلمی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرے گا، تاکہ عالمی برادری ان کہانیوں کو نہ صرف دیکھے بلکہ ان سے سبق بھی حاصل کرے۔



