
جو ہونا ہے وہ ہو کررہے گا !……ناصف اعوان
ملک کی خاطر تھوڑا بہت ہی دے دیں تو ہمارے حالات بہتر ہو سکتے ہیں اور اگر عوام کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ جب قومی خزانہ بھر جائے گا تو ان کے سارے مسائل حل ہو جائیں
اس کے باوجود کہ ملک میں بے چینی ہے ۔ معیشت کا حالت دگر گوں ہے۔ سرمایہ کاری ہو نہیں رہی۔ صنعتیں بند ہو تی جا رہی ہیں ۔ توانائی کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید ہوتا جا رہا ہے۔انصاف کے ترازو میں لرزش ہے اور احساس بیگانگی گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے حکمران اپنے بیانوں اور گفگوؤں سے عوام کو مطمئن کرنا چاہ رہے ہیں اوریہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ابھی بھی سن انیس سو نوے کے دور میں سانس لے رہے ہیں جبکہ وہ دوہزار چھبیس میں جی رہے ہیں۔ ان کا شعور بہت اوپر جا چکا ہے لہذا انہیں اہل اختیار و اقتدار کی باتوں سے سکون و اطمینان نہیں دے سکتے ۔ کیونکہ ان کے مسائل ان کی مشکلات اور ان کی پریشانیاں حد سے آگے جا چکی ہیں۔ ان پر تاریخ کے ایسےانداز حکمرانی کا سایہ ہے جس پر کسی التجا و فریاد کا اثر نہیں ہوتا مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ خزاں کے بعد بہار آتی ہے اور تاریکی میں سے اجالا نمودار ہوتا ہے لہذا مایوسی کے بھنور میں نہیں الجھنا۔
بہرحال حکومت عوام کو سہولتیں دینے سے قاصر ہے کیونکہ خزانہ اس پوزیشن میں نہیں لہذا اس نے اسے بھرنے کے لئے دو تین کام کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے ایک یہ کہ تیل کی قیمتیں بڑھا دی جائیں دوسرے ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ یہ جو حالیہ تیل کی قیمتیں بڑھائی ہیں ان کا کوئی تُک نہیں بنتا تھا کہ ابھی جنگ شروع ہوئی تھی جبکہ جنگ سے پہلے تیل کی قیمتوں میں کمی پچاس ساٹھ روپے کرنا چاہیے تھی جو نہیں کی گئی اور ایسا اس لئے نہیں کیا گیا کہ لیوی کے ذریعے خزانہ بھرا جا سکے ۔ہم خزانہ بھرنے کے حق میں ہیں مگر حکمران طبقہ کیوں اپنی جیب سے نہیں اسے بھرتا یہ اربوں کھربوں روپے اِدھر سے اُدھر کر لیتے ہیں ان میں سے ملک کی خاطر تھوڑا بہت ہی دے دیں تو ہمارے حالات بہتر ہو سکتے ہیں اور اگر عوام کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ جب قومی خزانہ بھر جائے گا تو ان کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے تو وہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس دینے کو تیار ہوں گے مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ اہل سیاست اپنی ذات پر بے دریغ قومی دولت کا استعمال کرتے ہیں تو وہ بد دل ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ان میں بد دلی کی انتہا ہے کیونکہ حکومتی عہدیدار موجیں کر رہے ہیں عیش کر رہے ہیں انہیں کسی کا کوئی خیال نہیں اور جب ان کے اخراجات میں کمی کا امکان ہوتا ہے تو وہ نئے نئے ٹیکس لگا دیتے ہیں امور مملکت کے لئے بھی انہیں ایسا کرنا پڑتا ہے ۔ مگر بات سوچنے کی ہے کہ یہ ان کی نااہلی نہیں کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری نہیں کروا سکے صنعتوں کی بندش کو نہیں روک سکے۔ نئے پیداواری ذرائع تخلیق نہیں کر سکے بس اور آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر عوام کو خوش کرنے کے کوشش میں ہیں مگر انہیں معلوم ہے کہ آئی ایم ایف کی قسطیں ادا کرنے کے لئے جو ان کے ساتھ سلوک ہو رہا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے جانے یا کسی رد و بدل کی باتیں ہو نے لگی ہیں کہ موجودہ حکومت وہ کچھ نہیں کر سکی جس کا اس نے وعدہ کیا تھا وہ اربوں ڈالر کا ملک میں لانا‘ معیشت کو مستحکم و مضبوط بنا کر ایشیا کا ٹائیگر بنانا اور دودھ و شہد کی نہریں بہانا۔ وہ سب ایک لولی پاپ تھا اور مقصد اقتدار حاصل کرنا تھا جس میں وہ کامیاب رہے۔ اب ملک پر اتنا قرضہ چڑھ چکا ہے کہ جسے اتارنے کے لئے ملک کے قیمتی ترین اثاثے بیچے جا رہے ہیں وہ بھی اونے پونے اور یہ آسان کام ہے مگر پھر بھی قرضوں کا بوجھ نہیں اترے گا کیونکہ سود ہی اتنا ہے کہ اصل رقم سے کئی گنا ہو چکا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ نیا سیٹ اپ اس قابل ہو گا کہ جس کا چہرہ دیکھ کر غیر ملکی پیسا یہاں کھنچا چلا آئےگا یہ کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا ختم ہو جائے گی۔ ہمیں نہیں لگتا کہ ایسا ممکن ہو سکے گا کیونکہ جب تک ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ زنداں میں ہیں اس وقت تک ملکی سیاست میں ٹھہراؤ پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں لہذا ضروری ہے کہ اس پہلو پر توجہ دی جائے تاکہ سیاسی استحکام آسکے مگر ردوبدل سے حالات کو بہتر کرنے کا پروگرام بنایا جارہا ہے۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ جو بھی طریقہ اپنایا جائے جب تک پی ٹی آئی کے لئے اقتدار میں کوئی جگہ نہیں سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی کیونکہ دنیا کو معلوم ہے کہ حکومت کے پیچھے عوام کا جم غفیر نہیں لہذا وہ اس کی طرف پوری طرح متوجہ نہیں ہو رہی اگر ایسا نہیں ہے تو اب تک سرمایہ کاری کیوں نہیں ہو سکی۔ اب تو چین بھی کچھ بدلا بدلا سا دکھائی دے رہا ہےلہذا دُور اندیشی یہی ہے کہ پی ٹی آئی کو بھی ساتھ لے کر چلا جائے مگر حقائق کو جانتے ہوئے بھی خاموشی ہے کہ لوگ پی ٹی آئی کو نہیں چھوڑ رہے بلکہ جو دوسری جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں بھی پریشانیوں کا سامنا ہے وہ بھی نکونک آئے ہوئے ہیں لہذا سیاست میں عوامی خواہشات کا احترام لازم ہے مگر ہمارے کرتا دھرتا انہیں اہمیت نہیں دے رہے اور ان کے بارے میں یہ کہنا شروع کر دیا گیا ہے کہ وہ تبدیل ہو چکے ہیں یعنی پی ٹی آئی سے منہ موڑ چکے ہیں مگر اب جب خان کی بہن محترمہ علیمہ خان احتجاج کے لئے باہر نکلی ہیں تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ لوگ پی لوگ ہیں جو پُر جوش ہیں مگر وہ جنہوں نے اپنا فرض نبھانا تھا ان پر تنقید کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی موروثی جماعت نہیں تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے خان کی رہائی کے لئے کیا کیا ؟ چلئے وہ حکومت سے بہتر تعلقات رکھتے تھے یا ہیں تو اسے کہتے کہ وہ ہتھ ہولا رکھتے ہوئے خان کو سہولتیں دے اور انہیں رہا کرنے کے لئے کچھ لے دے کا راستہ اختیار کرے مگر ایسا نہیں ہو سکا لہذا خان کی بہن کو خود آگے آنا پڑا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ حکومت پر اس کا اثر ہوتا ہے یا نہیں ؟
بہر کیف مزاکرات ہی بہتر ہوتے ہیں مگر وہ دیانت داری اور سنجیدگی سے ہونےچاہئیں تب ہی مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں لہذا فریقین کو چاہیے کہ وہ اپنی جگہ جمے نہیں رہیں تھوڑا تھوڑا آگے بڑھیں ۔ ویسے کچھ کچھ لگ رہا ہے کہ صورت حال بہتری کی طرف جا رہی ہے وی لاگروں کی اکثریت یہی کہہ رہی ہے مگر ان کی باتوں پر زیادہ یقین بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہم نے بعض ایسے بھی وی لاگرز کہتے ہوئے دیکھے ہیں جو خان کی رہائی کی تاریخ تک بتاتے رہے ہیں اب بھی کچھ ایسی ہی پیشین گوئی کر رہے ہیں اور نئے سیٹ اپ کا نقشہ بھی کھینچ رہے ہیں وزیر اعظم تک کا نام بھی بتا رہے ہیں کہ فلاں فلاں ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی ہو اس ملک کو پسماندگی غربت جہالت بیماری اور مہنگائی سے نجات دلائے۔ اور یہ جو غلط فہمیوں نے ایک دوسرے کو فاصلے پر کھڑا کر دیا ہے دوبارہ انہیں قریب لے آئے کیونکہ ہم انتہائی خراب صورت حال سے دو چار ہیں۔



