
پاکستانیو ! ھوشیار باش ۔!! پیر مشتاق رضوی
پاکستان کو ڈیجٹل دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے ہمیں ایک نئے قومی بیانیے کی ضرورت ہے
پاکستان آجکل ایک نئے اور خاموش محاذ پر بھی جنگ لڑ رہا ہے جسے ڈیجٹلائزڈ دہشت گردی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو بندوق اور بم کے بجائے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو جسمانی طور پر نقصان پہنچانا نہیں بلکہ قوم کے ذہنوں پر حملہ کر کے انہیں آپس میں لڑوانا اور ریاست پر سے اعتماد ختم کرنا ہے۔ ڈیجٹل دہشت گردی کی مختلف شکلیں ہیں جن میں سائبر حملے شامل ہیں جن کے تحت بینکوں، ہسپتالوں اور سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کر کے مفلوج کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر زہریلا پروپیگنڈا اور ذہن سازی کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے، جعلی خبریں اور افواہیں پھیلا کر فرقہ وارانہ اور سیاسی فساد برپا کیا جاتا ہے، شخصیات کی کردار کشی کے لیے ان کا ذاتی ڈیٹا لیک کیا جاتا ہے اور آن لائن چندوں کے نام پر دہشت گردی کے لیے فنڈ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ روایتی دہشت گردی ایک علاقے تک محدود رہتی ہے جبکہ ڈیجٹل دہشت گردی ایک سیکنڈ میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے اور اس کے پیچھے چھپے لوگوں کی شناخت کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ جو فیک نیوز وائرل ہوتی ہیں ان میں فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر پھیلائی جانے والی خبریں سرفہرست ہیں جن میں پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات کے طور پر پیش کر کے عوام کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے۔ اس کے بعد سیاست اور ریاستی اداروں کے خلاف جعلی آڈیو اور ویڈیوز کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ عوام کا حکومت اور فوج پر سے اعتماد اٹھ جائے۔ تیسری قسم ان خبروں کی ہے جو خوف اور کرائم کے نام پر پھیلائی جاتی ہیں جیسے بچہ چور گینگ یا ڈکیتی کی نئی وارداتیں، جن کا مقصد معاشرے میں بے چینی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ چوتھی قسم صحت اور امداد کے نام پر فراڈ ہے جس میں جعلی لنکس کے ذریعے لوگوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں یا ان کا ڈیٹا چوری کیا جاتا ہے۔ ان خبروں کے تیزی سے وائرل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ براہ راست انسان کے غصے، خوف اور مذہبی جذبات سے کھیلتی ہیں اور انہیں شیئر کرنے کے لیے زیادہ سوچ بچار کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔جب یہ جعلی خبریں مسلسل پھیلائی جاتی ہیں تو اس سے قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلا اور بڑا نقصان قومی اتحاد کا ٹوٹنا ہے کیونکہ فیک نیوز کا نشانہ ہی "ہم پاکستانی ہیں” کے تصور کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ لسانیت، فرقہ واریت اور صوبائیت کے نام پر عوام کو تقسیم کر کے دشمن کو جنگ لڑے بغیر ہی کامیابی مل جاتی ہے۔ دوسرا بڑا خطرہ ریاست اور اداروں پر اعتماد کے خاتمے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب عوام یہ سمجھنے لگے کہ ان کی اپنی فوج، عدالت اور حکومت بھی قابل اعتماد نہیں تو بحران کے وقت وہ ریاست کا ساتھ دینے کے بجائے بدظن ہو جاتے ہیں۔ تیسرا خطرہ معاشی تباہی ہے۔ ایک جھوٹی خبر جیسے "بینک بند ہو جائیں گے” پورے شہر میں افراتفری اور ذخیرہ اندوزی کا باعث بن سکتی ہے۔ چوتھا خطرہ داخلی سیکیورٹی ہے کیونکہ دہشت گرد تنظیمیں انہی جعلی ویڈیوز کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلا کر انتہا پسندی کی طرف دھکیلتی ہیں۔ اور آخر میں بیرونی دشمن ان حالات سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کا عالمی سطح پر امیج خراب کرتے ہیں اور ملک کو سفارتی اور معاشی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں۔اس صورتحال سے نجات کے لیے ایک مربوط اور قومی سطح کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ چوبیس گھنٹے کام کرنے والا فیکٹ چیک سیل قائم کرے جو کسی بھی وائرل جھوٹ کی فوری تردید جاری کرے اور سائبر کرائم کے خلاف قانون پر سختی سے عمل درآمد کرے۔ ساتھ ہی سکولوں میں ڈیجیٹل لٹریسی کو لازمی مضمون بنایا جائے تاکہ نئی نسل سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا سیکھے۔ میڈیا کا کردار بھی اس میں کلیدی ہے۔ میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ ریٹنگ اور سنسنی کے چکر سے نکل کر مصدقہ معلومات فراہم کریں اور ہر خبر کو نشر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کو یقینی بنائیں بدقسمتی سے پاکستان میں صحافت اس وقت انحطاط کا شکار ہے۔ اشتہارات اور ریٹنگ کی دوڑ نے میڈیا کو جھوٹ اور سنسنی خیزی کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ پیشہ وارانہ تربیت کی کمی، مالکان کا دباؤ اور سوشل میڈیا کی رفتار نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جب میڈیا خود سچائی کا معیار قائم نہیں کرے گا تو عوام کا اس پر سے اعتماد اٹھ جائے گا اور وہ کسی بھی خبر کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے اس بحران کا ایک بڑا سبب ہمارا معاشرتی رویہ بھی ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ اکثر منافقت کا شکار ہے اور کم پڑھے لکھے لوگ جہالت اور سماجی برائیوں میں مبتلا ہیں۔ منفی سوچ کا دور دورہ ہے اور سیاسی عدم استحکام اور کرپشن نے اداروں کو کمزور کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ ڈیجٹل دہشت گردی کے خاتمے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم مایوسی کا کوئی جواز نہیں۔ اس جنگ کو جیتنے کے لیے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے ہمیں "اسٹاپ، سوچو، شیئر” کے اصول کو اپنانا ہوگا یعنی کوئی بھی خبر آگے بھیجنے سے پہلے تیس سیکنڈ رک کر اس کی تصدیق کرنا ہوگی۔ نفرت انگیز مواد پر بحث کرنے کے بجائے اسے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو رپورٹ کرنا ہوگا۔ علماء کو منبر سے اور اساتذہ کو کلاس روم سے ،صحافی اپے قلم اور کیمرے سے عوام کو جھوٹ کے گناہ اور فتنہ کی قباحت کے بارے میں آگاہی دینی ہوگی۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی چاہیے کہ وہ جعلی اکاؤنٹس بند کریں اور وائرل ہونے والے مواد پر تصدیق کا الرٹ جاری کریں۔
پاکستان کو ڈیجٹل دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے ہمیں ایک نئے قومی بیانیے کی ضرورت ہے جو نفرت کے بجائے امید، تقسیم کے بجائے اتحاد اور مایوسی کے بجائے تعمیر کی بات کرے۔ یہ جنگ صرف حکومت یا ادارے نہیں جیت سکتے۔ اس کا فیصلہ گھروں میں ہوگا، سکولوں میں ہوگا، مساجد میں ہوگا اور سب سے بڑھ کر ہمارے موبائل کی سکرین پر ہوگا۔ جس دن اکثریت نے فیصلہ کر لیا کہ وہ جھوٹ پر کلک نہیں کرے گی اور جھوٹے کو سپورٹ نہیں کرے گی اسی دن یہ فتنہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ کیونکہ سچ آہستہ چلتا ہے لیکن دیرپا ہوتا ہے جبکہ جھوٹ تیز بھاگتا ہے لیکن جلدی گر جاتا ہے۔#


