اہم خبریںتازہ ترین

یومِ قراردادِ الحاقِ پاکستان: کشمیر سنٹر لاہور کے زیر اہتمام ریلی، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور پاکستان سے تاریخی وابستگی کا اعادہ

جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت ملنے تک ان کی سیاسی، سفارتی اور جمہوری جدوجہد جاری رہے گی

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور: یومِ قراردادِ الحاقِ پاکستان کے موقع پر کشمیر سنٹر لاہور کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب کے سامنے ایک بڑی الحاقِ پاکستان ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی، مذہبی، سماجی اور کشمیری تنظیموں کے رہنماؤں، کارکنوں اور کشمیری کمیونٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت، مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور پاکستان کے ساتھ تاریخی و نظریاتی وابستگی کے عزم کا اعادہ کیا۔

ریلی کے شرکاء نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے، جبکہ اس موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی، حقِ خودارادیت کی حمایت اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے۔

مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت

ریلی میں سابق مشیر صدر آزاد جموں و کشمیر اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی نائب صدر سید نصیب اللہ گردیزی، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما غلام عباس میر، کشمیر سنٹر کے انچارج انعام الحسن، کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما انجینئر مشتاق محمود، استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما بلال بٹ، مذہبی رہنما علامہ فداء الرحمان حیدری، مقصود چغتائی، سماجی رہنما کیپٹن مشتاق، مسلم لیگ (ن) لاہور ڈویژن کے جنرل سیکرٹری مرزا فاروق، معروف ادیب نذر بھنڈر، نذیر میر، نثار بیگ سمیت مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یومِ الحاقِ پاکستان کی تاریخی اہمیت

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یومِ الحاقِ پاکستان کشمیری عوام کے لیے ایک تاریخی، نظریاتی اور سیاسی اہمیت کا حامل دن ہے، جو پاکستان کے ساتھ ان کے مضبوط اور غیر متزلزل تعلق کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال 19 جولائی کو دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس دن کو اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت ملنے تک ان کی سیاسی، سفارتی اور جمہوری جدوجہد جاری رہے گی۔

19 جولائی 1947 کی قرارداد کا حوالہ

مقررین نے کہا کہ 19 جولائی 1947 کو، قیامِ پاکستان سے قبل، سرینگر میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے تاریخی اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی، جس میں ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی حمایت کی گئی۔

ان کے مطابق اس وقت کشمیری قیادت نے خطے کے جغرافیائی، مذہبی، ثقافتی اور معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں فیصلہ کیا، جسے کشمیری عوام کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔

مسئلہ کشمیر پر مؤقف

ریلی کے مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے دیرینہ تنازعات میں سے ایک ہے، جس کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے حقِ خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کی جدوجہد مختلف شکلوں میں جاری ہے۔

عالمی برادری سے مطالبہ

تقاریر میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر توجہ دیں اور مسئلے کے پرامن اور دیرپا حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

امن اور سفارت کاری پر زور

شرکاء نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایک منصفانہ حل کی جانب پیش رفت کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔

ریلی کا اختتام

ریلی کے اختتام پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی، خطے میں امن، استحکام اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے اور مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ 19 جولائی کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مختلف تنظیموں کی جانب سے یومِ قراردادِ الحاقِ پاکستان کے حوالے سے سیمینارز، ریلیوں، کانفرنسوں اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں کشمیر کی تاریخ، مسئلے کے مختلف پہلوؤں اور خطے میں امن کے امکانات پر گفتگو کی جاتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button