
بھارتی نوجوانوں کی تحریک کا اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ''ہمیں گزشتہ روز احتجاج ختم کرنا پڑا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ مزید نوجوان زخمی ہوں۔‘‘
دہلی پولیس کے مطابق پیر کے روز وسطی دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب ہونے والی جھڑپوں کے دوران تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اور سکیورٹی اہلکار جبکہ 60 مظاہرین شامل تھے۔ تاہم آزادانہ ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مارچ کے دوران مظاہرین نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، پتھراؤ کیا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ دہلی پولیس نے پیر کی شب جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خیال رہے کہ کل پیر 20 جولائی کے روز دہلی اور اس کے گرد و نواح کے شہروں اور قصبوں سے ہزاروں افراد پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہوئے۔ یہ احتجاجی تحریک ابتدا میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، تاہم اب یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے لیے سب سے بڑے عوامی چیلنج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
چند ماہ قبل شروع ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے نام سے فعال اس تحریک کو لاکھوں نوجوانوں خصوصاً جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے بھارتی شہریوں کی حمایت حاصل ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مئی میں ہونے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر، جس سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

احتجاج دوبارہ شروع
منگل کی صبح نئی دہلی کے وسط میں واقع جنتر منتر کے احتجاجی مقام پر تقریباً 150 سے 200 تک مظاہرین جمع ہوئے، جہاں ہلکی بارش کے باوجود انہوں نے نعرے بازی جاری رکھی۔ اس دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ نیم فوجی دستے وسطی دہلی کے مختلف علاقوں میں گشت کرتے رہے اور جگہ جگہ لگائے گئے بیریکیڈز کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہمیں گزشتہ روز احتجاج ختم کرنا پڑا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ مزید نوجوان زخمی ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”ہم دوبارہ پارلیمنٹ کی جانب مارچ نہیں کریں گے کیونکہ پولیس ایک بار پھر نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنائے گی۔‘‘ ان کے مطابق 150 سے زائد مظاہرین اس وقت مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ابھیجیت دیپکے نے مبینہ پولیس کارروائی پر اپنے حامیوں، خصوصاً خواتین مظاہرین، سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی انہیں بہتر تحفظ فراہم کر سکتی تھی۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں انہوں نے لکھا، ”میں اپنے تمام حامیوں، بالخصوص ان لڑکیوں سے معذرت خواہ ہوں جنہیں مرد پولیس اہلکاروں نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔‘‘

’حکومت وزیر تعلیم کو بچانا چاہتی ہے‘
دیپکے نے مودی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا، ”صرف دھرمیندر پردھان کو بچانے کے لیے حکومت نوجوان طلبہ پر طاقت استعمال کرنے پر آمادہ ہو گئی۔‘‘
دیپکے نے مزید کہا، ”20 سے زائد طلبہ کی ہلاکتوں کے ذمہ دار وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بچانے کے لیے حکومت کئی مزید نوجوان طلبہ کا خون بہانے پر تیار تھی۔ اگر آپ احتجاج کے دوران زخمی ہوئے ہیں اور میرا یہ پیغام دیکھ رہے ہیں تو براہ کرم مجھے براہ راست پیغام (ڈی ایم) بھیجیں۔ میں آپ سے ذاتی طور پر بات کرنا اور معذرت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر شدید تنقید
بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور تشدد کی وجہ سے بی جے پی کی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ معاملہ کل پیر کو پارلیمنٹ میں بھی گرم رہا، جس کے سبب ایوان کی کارروائی ملتوی کرنا پڑ گئی تھی۔
آج منگل کو اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کے ایک وفد نے پارلیمنٹ کے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی اور پولیس کارروائی پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔
راہول گاندھی نے بعد میں ایکس پر لکھا، ”ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے کہ گزشتہ روز طلبہ پر کیے گئے مبینہ تشدد اور امتحانی بحران پر حکومت کی مکمل جواب دہی نہ ہونے کے معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کرائی جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”طلبہ نے اپنے مستقبل سے متعلق جائز سوالات اٹھائے تھے، لیکن انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر پارلیمنٹ میں بھارت کے نوجوانوں کے مستقبل پر بحث نہیں ہو سکتی، تو پھر اس پارلیمنٹ کا مقصد کیا ہے؟‘‘
کانگریس پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس معاملے کو دبانے نہیں دے گی، ”ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ طلبہ کی آواز سڑکوں پر بھی سنی جائے اور پارلیمنٹ کے اندر بھی۔‘‘



