
بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں مہنگائی کا سبب ؟…..ناصف اعوان
پچھلی بار جب جنگ ہوئی تھی تو کسی بھی ملک نے تیل میں ایک دو روپے سے زیادہ اضافہ نہیں کیا تھا مگر ہماری ”عوام دوست” حکومت نے ڈیڑھ سو روپے کا اضافہ کر دیا تھا
ایک بار پھر مہنگائی کے عفریت کے سائے غریب عوام پر گہرے ہو گئے ہیں ۔ جنگ بندی کے دوران جب تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو اشیائے ضروریہ و غیر ضروریہ کی قیمتیں بھی نیچے آگئیں مگر جوں ہی دوبارہ جنگ کا آغاز ہوا تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں تو مہنگائی مافیا نے اپنی مصنوعات کے دام بڑھانا شروع کر دئیے ۔ٹرانسپورٹروں نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ۔ اگر کچھ بڑھا نہیں تو سرکاری و غیر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھیں ۔پنشروں کی پنشنیں نہیں بڑھیں جو بڑھی ہیں وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر ہیں ۔ سات دس فیصد اضافہ کوئی اضافہ نہیں کیونکہ مہنگائی ہر روز بڑھتی ہے ہر روز نئے نرخ مقرر کیے جاتے ہیں۔ اب جب جنگ کی شدت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے تو تیل کی قیمتیں روانہ کی بنیاد پر طے کی جا رہی ہیں اور اضافہ کے ساتھ کی جا رہی ہیں ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہو رہا مگر یہاں پورے دھڑلے سے ہو رہا ہے ۔ جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ جنگی صورت حال ہے۔ بندہ پوچھے کہ ایک ہفتہ کے لئے کیوں اکٹھا قیمتوں کا تعین نہیں کر دیا جاتا۔ حکومت بڑی دور اندیش ہے اسے بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ کتنا اضافہ کرنا ہے مگر وہ لوگوں کی جیبوں سے دھیرے دھیرے پیسے ”کھسکا“ رہی ہے کہ انہیں محسوس نہ ہو یعنی سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے خزانہ بھی بھرتا جائے اور لوگ بھی بوجھ نہ سمجھیں جبکہ اس اقدام سے جو چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں وہ انہیں (عوام) احساس دلا رہی ہیں کہ تیل‘ ان کا تیل نکال رہا ہے۔
پچھلی بار جب جنگ ہوئی تھی تو کسی بھی ملک نے تیل میں ایک دو روپے سے زیادہ اضافہ نہیں کیا تھا مگر ہماری ”عوام دوست” حکومت نے ڈیڑھ سو روپے کا اضافہ کر دیا تھا دلچسپ بات یہ کہ اُس وقت پاکستان کے جہازوں کو نہیں روکا گیا بلکہ بعض ملکوں نے پاکستان کا جھنڈا لگا کر اپنے ٹینکر پاس کرا لیے۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداق حکومت کو بہانہ چاہیے تھا لہذا اس نے تیل کی قلت کی آڑ میں اپنا پیٹ بھرنا شروع کر دیا۔ اب جب تیل موجود ہے اس کی قلت نہیں قلت ہو گی بھی نہیں جو ہو گی وہ مصنوعی ہو گی کیونکہ تیل کی سپلائی دیگر راستوں سے بھی ہو سکتی ہے مگر عوام کا درد جب کسی کے سینے میں نہ ہو تو دریا بھی تیل کے ہوں اور خزانے اوپر تک بھرے بھی ہوئے ہوں تو بھی عوام کی زندگیوں میں سکون و آسائش نہیں آسکتے۔
بات سمجھ سے باہر ہے کہ حکمران طبقہ لوگوں کو غربت مہنگائی اور بے روزگاری کے بھنور میں ہی کیوں گھماتا رہتا ہے ۔ دراصل ہمارے حکمران ”سٹیٹس کو“ قائم رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اس میں ان کی بقا ہے ان کے مالوں دولت کا تحفظ ہے اسی لئے بہت سی خرابیاں ہیں اور معیشت لرزاں ہے۔ جسے آئی ایم ایف سے بھاری قرضے لے کر گرنے سے بچایا جا رہا ہے مگر توانائی اس میں تب بھی نہیں آرہی جو اُس وقت آئے گی جب ہمارے حکمرانوں کی نیت صاف ہوگی۔ وہ ڈکٹیشن لینا چھوڑ دیں گے اپنی تجوریاں بھرنا ترک کر دیں گے۔ مگر وہ خود ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ دولت کے ڈھیر لگاتے لگاتے کسی دیکھی ان دیکھی دلدل میں دھنس چکے ہیں جہاں سے ان کا باہر نکلنا مشکل ہو چکا ہے لہذا عوام کو خود آگے آنا ہو گا انہیں اس نظام سے توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ جو ہانپ رہا ہے اور لوگوں کو دی گئی سہولتیں بھی واپس لے رہا ہے۔ بنیادی ضروریات پر کّٹ لگا رہا ہے اور سرمایے کا ارتکاز چند ہاتھوں میں دے کر انہیں مضبوط بنا رہا ہے مگر جب یورپ میں لوگوں کا استحصال کیا جا رہا تھا تو تبدیلی کی آندھیاں بھی چلنے لگی تھیں اگرچہ یورپ کو دو صدیاں لگ گئں استحصالی نظام سے نجات حاصل کرنے میں مگر انہوں نے اپنی جد و جہد جاری رکھی تھی اسی طرح چین کے عوام نے بھی کیا تھا آج وہ دنیا کی سپر طاقت ہیں۔ ان کی حیرت انگیز ترقی دیکھ کر دماغ چکرا جاتا ہے۔ اب جب ایران کی امریکا سے پنجہ آزمائی ہو رہی ہے تو چین کی ٹیکنالوجی نے اس کی سپر میسی کو اڑا کر رکھ دیا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اہل زر نہیں چاہتے ہوتے کہ ان کے برابر غریب غربا آکر کھڑے ہو جائیں لہذا وہ انہیں ہر طرح سے پریشان رکھتے ہیں ان کے مسائل کو تھوڑا تھوڑا کرکے ختم یا کم کرتے ہیں اور جب وہ انہیں حل کرتے ہیں تو اور سامنے آن موجود ہوتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا ہوتا آیا ہے مگر جب دھرتی جاگتی ہے تو اداس منظر بدل جاتے ہیں۔
بہرحال ملک بھر میں بے چینی کی ایک نئی لہر اٹھ رہی ہے۔ جس کے پیچھے عام لوگوں کے حالات زندگی ہی ہیں کیونکہ ان کو اب بھی جب کہ وہ پل پل کی خبر سے آگاہ ہیں اور حقائق آگاہی رکھتے ہیں توبھی انہیں بیوقوف بنانے کے کوشش کی جا رہی ہے اگرچہ وہ بیوقوف بننے کو تیارنہیں مگر مختلف طریقوں سے انہیں بیوقوف بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
بہرحال یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اب عوام کی قوت خرید ہو یا قوت برداشت دونوں ہی جواب دے چکی ہیں لہذا وہ طوہا کرہأ اجتماعی چیخ بلند کرنے جا رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ارباب اختیار اسے سنتے ہیں کہ نہیں مگر کچھ کچھ لگ رہا ہے کہ وہ ”سٹیٹس کو“ کو بچانے کے لیے تھوڑی نرمی اور لچک دکھا سکتے ہیں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کہ پانی پلوں کے نیچےسے گزر چکا ہے۔ اب لوگ حکمرانوں کی کسی بات پر یقین نہیں کریں گے لہذا وہ روایتی ہوشیاریاں اور چالاکیاں سب جان چکے ہیں جو اب تک ان کو دکھائی جاتی رہی ہیں لہذا اشرافیہ کو نئے دور اور نئی سوچ سے ہم آہنگ ہونا ہو گا کیونکہ جب ہر طرف شعور و آگہی کے سائیکلون چلنے لگیں تو وہ بہت کچھ اپنی لپیٹ میں لےلیتے ہیں۔ عقلمند ایسی صورت حال کا مقابلہ حکمت و دانائی سے کرتے ہیں لہذا اہل اقتدار کو چاہیے کہ وہ عوامی
مشکلات میں اضافہ کرنے کے بجائےانہیں کم کرنے کی سبیل نکالیں مگر دکھائی یہ دے رہا ہے کہ روایتی سیاسی جماعتیں مسائل کی طرف طائرانہ نظر ہی دوڑا رہی ہیں جبکہ انہیں چاہیے کہ وہ عوامی دکھوں کا مداوا کرنے کا سوچیں مگر انہیں اپنی پڑی ہوئی ہے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وہ آزاد کشمیر اور جی بی میں حکومتیں بنانے کے لئے تو کچھ سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ کر رہی ہیں مگر جہاں وہ پہلے سے حکمران ہیں وہاں کے عوام کو یکسر نظر انداز کررہی ہیں۔ وہ کیسے جیتے ہیں کس طرح اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں انہیں اس کی کوئی فکر نہیں۔ ان کا یہ طرز عمل اب ایک لاوہ کی شکل اختیار کر رہا ہے اگر چہ اس کا رخ موڑنے کے لئےسوچ بچار کی جارہی ہے مگر رات ہمیشہ نہیں رہتی اس کی جگہ روشنی کو آنا ہی ہوتا ہے!

