بین الاقوامیاہم خبریں

ایران کے خلاف جنگ کو وسعت دینے کا فیصلہ صرف صدر ٹرمپ کر سکتے ہیں، اسرائیلی عہدیدار؛ امریکی حملے گیارہویں رات بھی جاری

اسرائیل خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی پالیسی پر قائم ہے اور موجودہ حالات اس مقصد کے لیے معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

تل ابیب / واشنگٹن / تہران: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کو مزید وسعت دینا صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہے، جبکہ اسرائیل اس مرحلے پر امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ میں شامل ہونے کا خواہاں نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر کسی بھی نوعیت کا حملہ کیا تو اس کا انتہائی سخت اور وسیع پیمانے پر جواب دیا جائے گا۔

اسرائیلی ویب سائٹ وائی نیٹ کے مطابق بدھ کے روز ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسرائیل اپنی دفاعی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان جاری براہِ راست فوجی محاذ آرائی کا حصہ بننے سے گریز کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی اولین ترجیح اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کا تحفظ ہے، لیکن اگر ایران یا اس کے اتحادی اسرائیلی سرزمین، فوجی تنصیبات یا شہری علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں تو اسرائیلی افواج اپنی مکمل عسکری صلاحیت استعمال کرتے ہوئے بھرپور جواب دیں گی۔

ایران کی معاشی مشکلات اسرائیل کے مفاد میں قرار

اسرائیلی عہدیدار نے ایران کی موجودہ اقتصادی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو درپیش مالی دباؤ اور اقتصادی مشکلات اسرائیل کے اسٹریٹجک مفادات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق معاشی کمزوری ایران کی فوجی اور علاقائی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی پالیسی پر قائم ہے اور موجودہ حالات اس مقصد کے لیے معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

نیتن یاہو کے واشنگٹن دورے کی تاریخ تاحال طے نہیں

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ممکنہ دورۂ واشنگٹن کے حوالے سے بھی عہدیدار نے بتایا کہ ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ دورہ ہوتا ہے تو اس میں ایران کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، خطے کی سلامتی، امریکی فوجی تعاون، دفاعی معاہدوں اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

امریکہ کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے

دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل گیارہویں رات بھی جاری رہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب گرین وچ وقت کے مطابق رات 11 بجے حملوں کا آغاز کیا گیا، جبکہ کارروائیاں رات 12 بج کر 15 منٹ تک جاری رہیں۔

سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا تھا جو مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

کن اہداف کو نشانہ بنایا گیا؟

امریکی فوج کے مطابق تازہ فضائی کارروائیوں میں ایران کے متعدد اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں شامل ہیں:

  • فوجی آپریشن سینٹرز
  • بحری اثاثے اور تنصیبات
  • جنگی طیاروں کے گودام
  • ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز
  • فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر
  • سپلائی اور مواصلاتی نظام

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی سمندری کارروائیوں اور فوجی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی تجارتی راستوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

جنگ بندی معاہدہ کیوں ٹوٹا؟

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک عارضی جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، تاہم یہ معاہدہ 7 جولائی کو اس وقت ختم ہو گیا جب امریکہ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔

واشنگٹن کے مطابق انہی حملوں کے جواب میں امریکی فضائیہ نے ایران کے مختلف فوجی مراکز پر کارروائیاں شروع کیں، جو اب مسلسل کئی راتوں سے جاری ہیں۔

ایران کا سخت ردعمل

امریکی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت میں شدید بے یقینی پیدا ہوگئی۔

اس کے ساتھ ہی امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر مزید پابندیاں نافذ کرتے ہوئے بحری محاصرہ سخت کر دیا، جبکہ تہران نے الزام لگایا کہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی کو جان بوجھ کر بڑھا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک اور اردن کی جانب بھی اپنی عسکری سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی تشویش

دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ اسرائیل اس وقت براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے، تاہم اسرائیلی عہدیدار کے حالیہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی ایرانی حملے کی صورت میں تل ابیب فوری اور بھرپور فوجی کارروائی کرے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی کارروائیاں، آبنائے ہرمز کی صورتحال، اسرائیل کی ممکنہ شمولیت اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع علاقائی تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button