مشرق وسطیٰتازہ ترین

ہم واشنگٹن سے مذاکرات کے خواہاں نہیں، ایران کا ٹرمپ کے دعوؤں پر دوٹوک جواب؛ سفارتی کشیدگی برقرار، فوجی کارروائیاں اور ثالثی کی کوششیں جاری

انہوں نے کہا کہ ایران نے نہ تو امریکہ سے نئی ملاقات کی درخواست کی ہے اور نہ ہی مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی باضابطہ پیغام بھیجا ہے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

تہران / واشنگٹن / اسلام آباد: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے واضح کیا ہے کہ ایران اس وقت واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور امریکی صدر کے بیانات کو حقیقت کے منافی قرار دیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، امریکی افواج ایران میں متعدد اہداف پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان سمیت کئی ممالک سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایران نے ٹرمپ کے دعوؤں کی تردید کر دی

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران نے مذاکرات کی درخواست کی ہے، سراسر بے بنیاد اور حقیقت کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے نہ تو امریکہ سے نئی ملاقات کی درخواست کی ہے اور نہ ہی مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی باضابطہ پیغام بھیجا ہے۔

قشقاوی کے مطابق امریکی قیادت کو ایسے بیانات دینے کے بجائے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے کوئی مؤثر اور حقیقت پسندانہ راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل جھوٹ پر مبنی بیانات اب عالمی مالیاتی اور تیل کی منڈیوں کو بھی مطمئن نہیں کر سکتے، بلکہ ان سے سرمایہ کاروں میں مزید بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔

ٹرمپ کا سخت مؤقف

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک نئی ملاقات کا خواہش مند ہے، تاہم واشنگٹن اس وقت تک مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا جب تک تہران اپنے طرزِ عمل میں عملی تبدیلی نہیں لاتا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ابھی تک امریکہ کی مکمل طاقت نہیں دیکھی اور واشنگٹن کا ایران کے ساتھ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی برقرار رکھے گا تاکہ ایران کی فوجی اور اقتصادی صلاحیت مزید محدود کی جا سکے۔

"ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے”

امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں بھی ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے یا اس سے متعلق سرگرمیوں کی کوشش کرے گا، امریکہ ایسی تمام تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ جلد ہی ایران کے علاقے جبل الفأس میں بھی فوجی کارروائی کرے گا، اگرچہ اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکی فضائی حملے مسلسل دسویں رات جاری

اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے تحت ایران میں فوجی کارروائیاں مسلسل دسویں رات بھی جاری رہیں۔

امریکی فوج کے مطابق جنوبی اور مغربی ایران میں متعدد فوجی اہداف، لاجسٹک مراکز، اسلحہ گوداموں، ڈرون تنصیبات، مواصلاتی نظام اور دیگر عسکری انفراسٹرکچر کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا اور خطے میں امریکی و اتحادی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

پاکستان نے ثالثی کا عزم دہرایا

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ بات چیت، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے اور موجودہ بحران میں بھی یہی مؤقف برقرار رکھا جائے گا۔

مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی کوششیں

پاکستانی حکومت اس سے قبل بھی اعلان کر چکی ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان جون کے وسط میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی برقرار رکھنے اور تکنیکی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان، قطر، عمان اور دیگر علاقائی ممالک بھی پس پردہ رابطوں کے ذریعے بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کا اہم انکشاف

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ اگرچہ امریکہ کی جانب سے ایران پر فوجی حملے جاری ہیں، اس کے باوجود ثالث ممالک کے ذریعے دونوں حکومتوں کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم موجودہ حالات میں براہِ راست مذاکرات کی بحالی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

امریکی فضائی حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی نمایاں طور پر دیکھنے میں آئے۔

جنوبی اور مغربی ایران میں تازہ امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، خلیجی بندرگاہوں اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

ایران کے جوابی حملے

دوسری جانب ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے، اگرچہ ان حملوں کے نقصانات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

علاقائی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ فوجی کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی گہرے مرتب ہو سکتے ہیں۔

خطے کی صورتحال مزید نازک

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکہ فوجی دباؤ بڑھا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایران مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں پاکستان سمیت علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سفارتی پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button