کالمزپیر مشتاق رضوی

پاکستان کے سیاسی مستقبل کے بارے پیش گوئی۔۔۔۔!!پیر مشتاق رضوی

پیپلز پارٹی کی سیاست ہمیشہ تین ستونوں پر کھڑی رہی ہے۔ پہلا ستون بنیادی نظریہ ہے: "روٹی، کپڑا اور مکان" کا نعرہ اور "جمہوریت بہترین انتقام ہے" کا فلسفہ

پاکستان کی سیاست اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے مایوس ہیں تو دوسری طرف روایتی سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی کا دفاع کرنے سے قاصر دکھائی دے رہی ہیں۔ 2024ء کے عام انتخابات کے بعد بننے والی وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکیں اور نتیجتاً سسٹم کے اندر "نئے فارمولے” کی تلاش شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ آئندہ تین سال کی سیاست کا محور معاشی مجبوریاں ہوں گی اور اسی کے تناظر میں سیاسی سیٹنگ طے پائے گی۔
مسلم لیگ ن کا معاملہ اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ میاں محمدنواز شریف پاکستان کی تاریخ کے واحد بڑے ترقیاتی سیاستدان تصور کیے جاتے تھے۔ 2013ء سے 2018ء تک ان کے دور میں موٹروے، سی پیک _ میگا پروجیکٹس اور توانائی کے منصوبوں نے انہیں "ہیرو” کا درجہ دیا۔ لیکن 2024ء میں جب انہیں مکمل موقع دے کر اقتدار سونپا گیا تو کارکردگی مایوس کن رہی۔ مہنگائی، بجلی کے بھاری بل اور آئی ایم ایف کی شرائط نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ سیاست کا اصول ہے کہ عوام "ماضی کا کریڈٹ” زیادہ عرصہ یاد نہیں رکھتے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ "ابھی کیا کیا ہے”۔ اور ابھی کے جواب میں ن لیگ کے پاس دینے کو کچھ نہیں۔ اسی لیے پارٹی قیادت کے پاس اب "ماننے یا نہ ماننے” کا آپشن بھی محدود ہو چکا ہے۔ آئندہ الیکشن لڑنے کا مطلب 2028ء میں عبرتناک شکست ہے جیسا کہ ماضی میں پاکستان مسلم لیگ ق کے ساتھ ہوا۔پاکستان کی سیاست اس وقت تین بڑی جماعتوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی ہے جو "مفاہمت” کے نعرے کے ساتھ مرکز میں کردار ادا کر رہی ہے، دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف ہے جو "مزاحمت” کے بیانیے پر کھڑی ہے۔ دونوں کا ماضی مختلف، حال مشکل اور مستقبل غیر یقینی ہے۔
پیپلز پارٹی کی سیاست ہمیشہ تین ستونوں پر کھڑی رہی ہے۔ پہلا ستون بنیادی نظریہ ہے: "روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ اور "جمہوریت بہترین انتقام ہے” کا فلسفہ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی سیاست کی بنیاد رکھی اور بے نظیر بھٹو آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بنیں۔ دوسرا ستون جغرافیائئ ہے۔ سندھ پیپلز پارٹی کا قلعہ ہے جہاں 2008ء کے بعد مسلسل تیسری بار حکومت ہے۔ جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں بھی اس کا روایتی ووٹ بینک موجود ہے۔ تیسرا ستون حکومتی تجربہ ہے۔ 2008ء سے 2013ء تک آصف زرداری نے "سب کو ساتھ لے کر چلنے” کی پالیسی اپنائی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی، 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ آج بھی پیپلز پارٹی کے بڑے کارنامے گنے جاتے ہیں۔ جب پیپلز پارٹی "مفاہمت اور کارکردگی” کرتی ہے تو وفاق میں جگہ بناتی ہے، اور جب صرف احتجاج کرتی ہے تو اپوزیشن تک محدود رہ جاتی ہے۔2024ء کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کا کردار بدل چکا ہے۔ سیاسی طاقت کے طور پر اس کے پاس سندھ کی مکمل حکومت ہے جہاں پیپلز کارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ جیسے پروگرام چل رہے ہیں۔ مرکز میں وہ "کنگ میکر” بنی ہوئی ہے۔ ن لیگ کی حکومت کو پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے اور وزارتیں نہ لے کر بھی وہ پالیسی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس کا نیا بیانیہ "محاذ آرائی نہیں، حل چاہیے” ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں سے مختلف ہے۔لیکن 2013ء کے بعد پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیٹیں بہت کم ہو گئیں اور وہاں ن لیگ و تحریک انصاف نے جگہ لے لی۔ نوجوان ووٹر اب "شہیدوں کی جماعت” کے نعرے سے آگے بڑھ کر "روزگار اور مہنگائی” کا جواب مانگتا ہے۔ سب سے بڑا سوال "بی ٹیم” کا ٹیگ ہے۔ کارکن پوچھتے ہیں کہ جب ہم حکومت کو سپورٹ کر رہے ہیں تو خود حکومت میں کیوں نہیں؟اب سوال مستقبل کا ہے۔ 2028ء تک پیپلز پارٹی کے پاس تین راستے ہیں۔ پہلا جنوبی پنجاب ماڈل ہے۔ تحریک انصاف کے ناراض الیکٹبلز اور استحکام پاکستان پارٹی کے گروپ کو ساتھ ملا کر سرائیکی نعرے کے ذریعے جنوبی پنجاب سے 30 سے 40 سیٹیں لینا۔ اگر پیپلز پارٹی پنجاب میں 50 سیٹیں لے گئی تو "کنگ میکر” سے "کنگ” بن جائے گی اور بلاول وزیراعظم کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ اس کا رسک یہ ہے کہ پرانے جیالے ناراض ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کا دوسرا راستہ "مفاہمت کا مرکز” ہے۔ زرداری کا پرانا فارمولا۔ تمام جماعتوں کو ساتھ بٹھا کر "چارٹر آف اکانومی” کرانا۔ اگر معیشت بہتر ہوئی تو کریڈٹ پیپلز پارٹی کو جائے گا، ورنہ عوام کہے گی "سب ملے ہوئے ہیں”۔تیسرا آپشن "سندھ کارڈ اور اپوزیشن” ہے۔ مرکز سے الگ ہو کر صرف سندھ پر توجہ اور وفاق میں اپوزیشن کا کردار۔ اس سے نظریاتی ووٹر خوش ہوگا لیکن وفاق میں اثر اور فنڈز کا مسئلہ پیدا ہوگا۔غیر جانبدارانہ نتیجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا مستقبل تین چیزوں پر ہے: معیشت، پنجاب اور بلاول کی قیادت۔ اگر مہنگائی کم ہوئی تو "مفاہمت” کا بیانیہ جیتے گا۔ پیپلز پارٹی کا اصل امتحان اب سندھ سے نکل کر پنجاب میں ہے۔ اور بلاول کو "نوجوان قیادت اور کارکردگی” ثابت کرنا ہوگی، صرف نام کافی نہیں۔اب عملی طور عوام کو ریلیف دینا ہے اور معشیت کو بحال کرنا ہے جبکہ تحریک انصاف کی سیاست بھی تین چیزوں پر کھڑی ہوئی۔ اس کا بیانیہ "نظام کے خلاف جنگ”۔ عمران خان نے 1996ء سے "کرپشن کے خلاف، نئے پاکستان” کا نعرہ دیا جو 2018ء میں ووٹ میں بدلا۔ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک نوجوان، مڈل کلاس اور شہری ووٹر پر مشتمل ہے۔ خیبرپختونخوا اس کا مضبوط قلعہ ہے اور پنجاب کے شہری حلقوں میں بھی اس کی جڑیں ہیں۔ پی ٹی آئی کا حکومتی تجربہ 2018ء سے 2022ء تک رہا۔ صحت کارڈ،احساس پروگرام اور خارجہ پالیسی پر بیانیہ تحریک انصاف کے بڑے پوائنٹ تھے۔ جب تحریک انصاف "بیانیے اور سڑک چھاپ سیاست” پر رہی تو مقبول ہوئی، لیکن جب "حکومت اور کارکردگی” کا امتحان آیا تو مشکلات بڑھ گئیں۔اور قوم کو مایوس کیا
2024ء کے بعد تحریک انصاف بالکل نئی آزمائش میں ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاسی طاقت یہ ہے کہ جیل، پابندیوں اور کیسز کے باوجود وہ سوشل میڈیا اور سب سے پاپولر جماعت ہے۔ 2024ء میں آزاد امیدواروں کی صورت میں اس نے سب سے زیادہ ووٹ لیے خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت ہے جو اب تحریک انصاف کی "لیبارٹری” ہے۔ اس کا بیانیہ "ووٹ چوری ہوا، مینڈیٹ واپس دو” نوجوانوں میں بہت مضبوط ہے۔ پی ٹی آئی کی کمزوریاں بھی سنگین ہیں۔ سیاسی جگہ تنگ ہے۔ پارلیمنٹ، مذاکرات اور میڈیا کے دروازے بند ہیں۔ "پہلے معافی، پھر بات” والا تعطل ہے۔ تنظیمی طور پر بہت سے الیکٹبلز پارٹی چھوڑ چکے یا خاموش ہیں۔ لیڈرشپ کا ایک حصہ جیل میں اور دوسرا زیرِ زمین ہے۔ سب سے بڑا دباؤ خیبرپختونخوا کی کارکردگی کا ہے۔ 10 سال سے حکومت ہے،اب لوگ پوچھیں گے "صوبے میں کیا بدلا؟”
2028ء تک تحریک انصاف کے لیے بھی تین منظر ہیں۔ پہلا منظر نامہ مزاحمت کی سیاست” ہے۔ سڑک، سوشل میڈیا اور عدالتوں کے ذریعے دباؤ۔ "ہم جھکیں گے نہیں” کا بیانیہ برقرار رہے گا۔ اس سے ووٹ بینک اور مضبوط ہوگا لیکن اگر 2-3 سال ریلیف نہ ملا تو کارکن تھک جائیں گے۔ دوسرا منظر نامہ "تقسیم اور انضمام”* ہے۔ تحریک انصاف کے وہ الیکٹبلز جو سیاست بچانا چاہتے ہیں وہ پیپلز پارٹی یا استحکام میں چلے جائیں۔ اس سے کچھ لوگ اقتدار میں رہیں گے لیکن تحریک انصاف کی شناخت ختم ہونے کا خطرہ ہے۔تیسرا منظر نامہ "کارکردگی کا امتحان” ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت میں اگلے دو سال میں تعلیم، صحت اور پولیس میں بڑی کارکردگی دکھانا۔ اگر یہ ہو گیا تو 2028ء میں "بیانیہ اور ریکارڈ” دونوں ہوں گے۔ ورنہ وفاقی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ مشکل ہے۔
تحریک انصاف کا مستقبل تین سوالوں کا جواب ہے۔ کیا ووٹر بیانیے کے ساتھ رہے گا یا امیدوار کے ساتھ؟ کیا 2025-2026ء میں پس پردہ مذاکرات ہوں گے؟ اور معیشت کس طرف جاتی ہے؟ اگر مہنگائی رہی تو "تبدیلی” کا بیانیہ پھر مقبول ہوگا۔ایک طرف پیپلز پارٹی ہےجو مفاہمت سے واپسی چاہتی ہے، دوسری طرف تحریک انصاف ہے جو مزاحمت سے واپسی چاہتی ہے۔ دونوں کے لیے 2028ء کا راستہ جنوبی پنجاب اور معیشت سے ہو کر گزرتا ہے۔اسی سیاسی پس منظر میں اسلام آباد میں ایک نئے سیاسی فارمولے پر بات ہو رہی ہے جسے "عزت دار ایگزٹ اورقومی سیٹنگ” کہا جا سکتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت صدر کا عہدہ شہباز شریف کو، وزارت عظمیٰ بلاول بھٹو کو اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ علیم خان کو دینے کی تجویز ہے۔ اس کی منطق نہایت سادہ ہے۔ ذمہ داری بانٹ دو تاکہ کوئی ایک جماعت اکیلی نشانہ نہ بنے۔ مسلم لیگ ن کوصدرکا پروٹوکول دے کر پارٹی کا ڈھانچہ بچا لیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کو وفاق دے کر "نوجوان قیادت اور مفاہمت” کا بیانیہ آگے بڑھایا جائے گا۔ جبکہ پنجاب میں استحکام پاکستان پارٹی اور پیپلز پارٹی کے الیکٹبلز کے اشتراک سے علیم خان کو وزیر اعلیٰ بنایا جا سکتا ہے۔لیکن اس سارے کھیل کی اصل ڈرائیونگ فورس معیشت ہے۔ آئی ایم ایف کی تین سالہ شرائط، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکسوں کا بوجھ کوئی ایک حکومت اکیلے نہیں اٹھا سکتی۔ اگر صرف ن لیگ یہ کڑوی دوائی پلائے گی تو وہ 2028ء میں سیاسی طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس لیے بہتر یہ سمجھا جا رہا ہےکہ تمام بڑی جماعتیں مل کر مشکل فیصلے کریں۔ باہر کی دنیا کو "استحکام” کا پیغام جائے اور اندرعوام کو”قومی حکومت” کا بیانیہ دیاجائےاس فارمولے کے آگے دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ پہلی رکاوٹ نواز شریف اور مریم نواز کی "انا” ہے۔ کیا تین بار وزیر اعظم رہنے والی فیملی اپنے چھوٹے بھائی کو صدر بنتا دیکھ کر مرکزی سیاست سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ دوسری رکاوٹ عوامی ردعمل ہے۔ اگر دو سال میں معیشت بہتر نہ ہوئی تو یہ سارا اتحاد "ناکام گٹھ جوڑ” کہلائے گا اور تحریک انصاف کو نیا بیانیہ مل جائے گا۔جنوبی پنجاب بالخصوص راجن پور جیسے اضلاع اس سارے کھیل میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں پیپلز پارٹی اور استحکام کے امیدوار مل کر پنجاب اسمبلی میں اکثریت بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے علیم خان کا نام وزیر اعلیٰ کے لیے سامنے آیا ہے۔ گراؤنڈ پر عوام کا سوال صرف ایک ہے کہ کیا وہ مزید دو سال سختی برداشت کریں گے اس وعدے پر کہ اس کے بعد معیشت ٹھیک ہو جائے گی۔مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاست ایک بار پھر اسی دائرے میں گھوم رہی ہے جہاں "سیاست پہلے اور معیشت بعد میں” ہوتی ہے۔ نواز شریف "زیرو” نہیں ہوئے بلکہ وہ سسٹم کی مجبوری کا شکار ہوئے ہیں۔ جب کارکردگی نہ ہو تو بڑے سے بڑے لیڈر کو بھی عزت دار ایگزٹ لینا پڑتا ہے۔ اب فیصلہ ن لیگ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ مان گئے تو پارٹی 2033ء تک ری سیٹ ہو سکتی ہے۔ اگر نہ مانے تو مہنگائی انہیں 2028ء سے پہلے ہی سیاسی منظر سے باہر کر دے گی۔ آنے والے میں یہی دیکھنا ہے کہ ملک کی سیاست "مفاہمت”یا "تصادم” کی طرف جاتی ہے؟ اس سارے سیاسی تناظر میں پاکستان کی سیاست میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ اس. کا مختصر جواب یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست "محاذ آرائی سے مفاہمت کی طرف” دھکیلی جا رہی ہے، لیکن عوام اب ‘بیانیے’ نہیں بلکہ "ریلیف” اور ‘ڈیلیوری’ مانگ رہی ہے۔2024ء کے انتخابات کے بعد ہم ایک بالکل نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس نئی حقیقت کو تین لفظوں میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اب سیاست کسی ایک کی نہیں، سب کی مجبوری بن گئی ہے۔پہلے سیاست کا محور "اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ سیاسی جماعتیں” ہوا کرتا تھا۔ اب وہ منظر نامہ بھی بدل رہا ہے۔ آج کا فارمولا کچھ یوں ہے: ن لیگ کا کام حکومت چلانا ہے،پیپلز پارٹی کا کام حکومت کو بچانا ہے، پی ٹی آئی کا کام حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہے، اور اسٹیبلشمنٹ کا کام سسٹم کو چلانا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جماعت اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اسی مجبوری نے سب کو "مفاہمت” کے میز پر بٹھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی مرکز میں وزارتیں نہ لینے کے باوجود ن لیگ کی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر یہ حکومت گری تو متبادل بھی کوئی نہیں۔اگلے 18 ماہ میں 4 چیزیں ہونے جا رہی ہیں پہلی: معیشت ہی اصل الیکشن ہے۔ 2025ء اور 2026ء میں کوئی بڑا سیاسی مارچ یا دھرنا متوقع نہیں۔اصل جنگ اب مہنگائی، بجلی کے بلوں اور آئی ایم ایف کی شرائط کے خلاف لڑی جائے گی۔ جس پارٹی نے عوام کو "ریلیف” دے دیا وہی 2028ء کی فیورٹ بن جائے گی۔ ن لیگ کریڈٹ لینا چاہے گی، پیپلز پارٹی پیچھے سے سپورٹ کر کے حصہ مانگے گی، اور پی ٹی آئی باہر سے کہے گی کہ "یہ سب جعلی ہے”۔ واضح رہے کہ اگلے الیکشن کا فیصلہ اب لاہور اور کراچی سے نہیں ہوگا۔ فیصلہ ملتان، بہاولپور اور راجن پور سے ہوگا۔ پیپلز پارٹی یہاں "سرائیکی کارڈ” کھیلے گی، ن لیگ "ترقیاتی کاموں” کا بیانیہ لے کر آئے گی، پی ٹی آئی "عمران خان کا نام” بیچے گی، اور استحکام پاکستان پارٹی "الیکٹبلز کا بازار” لگائے گی۔ جو بھی جنوبی پنجاب جیتا، وہ مرکز کے قریب ہوگا۔جبکہ پی ٹی آئی کے پاس اب دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ 2026ء تک مزاحمت کی سیاست کرے اور "مظلوم” کے بیانیے سے اپنا ووٹ بینک اور بڑا کرے۔ یا پھر کسی "بیک ڈور” ڈیل کے ذریعے پارلیمنٹ اور مین سٹریم میں واپس آئے۔ تیسرا خطرہ "تقسیم” کا ہے۔ اگر لیڈرشپ کا ایک حصہ نرم پڑ گیا تو پی ٹی آئی مزید دھڑوں میں بٹ سکتی ہے۔ اس حقیقت کو قطعی نظر انداز نہیں کیا سکتا کہ 2018ءمیں نوجوان "تبدیلی” کے لیے نکلا تھا۔ 2024ء میں وہ "انصاف” کے لیے نکلا۔ 2028ء میں وہ سیدھا "نوکری” مانگے گا۔ جس جماعت نے 20 لاکھ نوکریاں پیدا کر دیں، وہی الیکشن جیتے گی۔ اب خالی بیانیے نہیں بکیں گے۔اس کے علاوہ بڑے رسک جو سب کو ڈرا رہے ہیں سب سے پہلا "معاشی رسک” ہے۔ اگر آئی ایم ایف کا پروگرام کسی وجہ سے پٹری سے اترا تو مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ اس دن ساری "مفاہمت” ختم اور "احتجاج” کی سیاست دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
دوسرا "سیکیورٹی رسک” ہے۔ اگر KPK اور بلوچستان میں حالات مزید خراب ہوئے تو حکومت کا سارا وقت اور وسائل ادھر لگ جائیں گے اور معیشت پیچھے رہ جائے گی۔تیسرا "سیاسی رسک” ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان کوئی بڑا تصادم ہوا تو "مفاہمت” کا نازک بیانیہ ایک ہی دن میں دفن ہو جائے گا۔مجموعی طور پر پاکستان کی سیاست "شدت” سے نکل کر "انتظام” کی طرف جا رہی ہے۔ پہلے کا دور "ہم یا وہ” کا تھا۔ اب کا دور "سب کو تھوڑا تھوڑا” کا ہے۔ اسی لیے اگلے دو سال میں نہ کوئی بڑی حکومت گرتی نظر آئے گی اور نہ کوئی انقلاب آئے گا۔ اس کے بجائے آپ کو تین منظر ملیں گے۔ ن لیگ کام کر کے ووٹ مانگے گی۔ پیپلز پارٹی کام کروا کر کریڈٹ لے گی۔ اور پی ٹی آئی کام نہ ہونے دے کر الزام لگائے گی۔ پاکستان کی سیاست اب "بیانیوں” سے نکل کر "بلوں” پر آ گئی ہے۔ جس کے دور میں بجلی کا بل کم ہوا، آٹا سستا ہوا، وہی 2028ء کا وزیراعظم بنے گا۔………!!

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button