
برلن/یورپ: یورپ میں موسمیاتی تبدیلی اور مسلسل خشک سالی کے اثرات ایک مرتبہ پھر نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں براعظم کے اہم دریاؤں میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم ہوگئی ہے۔ رائن، ڈینیوب اور دریائے پو کے بعض حصوں میں پانی تاریخی طور پر نچلی سطح تک پہنچنے سے آبی نقل و حمل، صنعت، زراعت، توانائی اور قدرتی ماحولیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق مسئلہ صرف دریاؤں میں پانی کی کمی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پینے کے صاف پانی کی فراہمی، زیرِ زمین پانی، صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اور یورپی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔ اگر خشک سالی اور درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں پانی کے بحران کی شدت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
رائن اور ڈینیوب کی سطح میں غیر معمولی کمی
جرمنی سمیت یورپ کے متعدد علاقوں میں دریاؤں کی سطح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔ رائن یورپ کے اہم ترین تجارتی آبی راستوں میں شامل ہے جبکہ ڈینیوب متعدد یورپی ممالک کے لیے نقل و حمل، زراعت، صنعت اور توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔
دونوں دریاؤں میں پانی کی کمی کے باعث بعض مقامات پر بڑے بحری جہازوں کی آمدورفت مشکل ہوگئی ہے۔ کئی جہازوں کو اپنی معمول کی گنجائش سے کہیں کم سامان لے کر سفر کرنا پڑ رہا ہے تاکہ کم گہرے پانی میں ان کے پھنسنے کا خطرہ کم کیا جاسکے۔
صورتحال کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض علاقوں میں دریا کے وہ حصے جہاں عام حالات میں پانی کی گہری تہہ موجود ہوتی ہے، اب اتنے کم گہرے ہوگئے ہیں کہ لوگ بعض مقامات پر پیدل ان حصوں کو عبور کرنے کے قابل دکھائی دیتے ہیں۔
ڈینیوب میں دوسری جنگِ عظیم کا ملبہ دوبارہ نمودار
ڈینیوب میں پانی کی سطح کم ہونے کے نتیجے میں طویل عرصے سے زیرِ آب موجود تاریخی ملبہ بھی دوبارہ سطح پر دکھائی دینے لگا ہے۔
ہنگری، رومانیہ اور کروشیا کے بعض علاقوں میں پانی کم ہونے سے ماضی میں ڈوبنے والے جہازوں اور دیگر اشیا کے آثار دوبارہ نمایاں ہوگئے ہیں۔
خصوصاً ڈینیوب پر قائم جرداپ ٹو ڈیم کے قریب دوسری عالمی جنگ کے دور سے تعلق رکھنے والے ایک جرمن جنگی بحری جہاز کا ملبہ پانی کم ہونے کے باعث دوبارہ سامنے آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے تاریخی ملبے کا ظاہر ہونا دریاؤں میں پانی کی سطح میں آنے والی غیر معمولی کمی کا ایک نمایاں بصری ثبوت ہے۔
رائن کے کنارے بھی خشک سالی کے اثرات نمایاں
جرمنی میں دریائے رائن کے متعدد حصوں میں پانی کی انتہائی کم سطح نے صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔
کولون، ڈسلڈورف اور دیگر علاقوں میں رائن کی سطح معمول سے نمایاں کم دکھائی دے رہی ہے، جبکہ صنعتی مراکز کے لیے خام مال اور تیار مصنوعات کی نقل و حمل بھی متاثر ہورہی ہے۔
جرمنی کی معیشت میں رائن کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کے ذریعے اسٹیل، کیمیکلز، پٹرولیم مصنوعات، کوئلہ اور دیگر صنعتی سامان کی بڑی مقدار ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کی جاتی ہے۔
بحری جہازوں کی گنجائش کم، مال برداری مہنگی
پانی کی سطح کم ہونے کا براہ راست اثر اندرونِ ملک آبی نقل و حمل پر پڑ رہا ہے۔
کم گہرائی کی وجہ سے بڑے مال بردار جہاز اپنی مکمل گنجائش کے ساتھ سفر نہیں کرسکتے۔ بعض جہازوں کو معمول کی گنجائش کے مقابلے میں انتہائی کم سامان لادنا پڑ رہا ہے۔
اس صورتحال کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی مقدار کا سامان منتقل کرنے کے لیے زیادہ تعداد میں جہاز یا متبادل ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں، جس سے نقل و حمل کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق اگر پانی کی سطح مزید کم ہوئی تو جرمنی کی صنعتی سپلائی چین پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
اسٹیل اور کیمیکل صنعت کو مشکلات
جرمنی کی اسٹیل، کیمیکل اور پٹرولیم صنعتیں دریاؤں میں کم پانی سے خاص طور پر متاثر ہورہی ہیں۔
خام مال کی ترسیل میں تاخیر کے باعث بعض صنعتی پلانٹس کو پیداوار کے شیڈول میں تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے۔
دریائی نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ بالآخر صنعتی مصنوعات کی قیمتوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے، جس کے اثرات صارفین اور یورپی معیشت دونوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
ڈوئسبرگ کے قریب رائن میں انتہائی کم پانی
جرمنی کے صنعتی مرکز ڈوئسبرگ کے قریب رائن میں پانی کی انتہائی کم سطح نے بھی تشویش بڑھا دی ہے۔
ڈوئسبرگ یورپ کے بڑے اندرونِ ملک بندرگاہی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور رائن کے ذریعے یہاں پہنچنے والا سامان جرمنی کی صنعتی سرگرمیوں کے لیے اہم ہے۔
پانی کی کمی کے باعث بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا ہونے سے بندرگاہوں اور صنعتوں کے درمیان سامان کی روانی متاثر ہوسکتی ہے۔
صاف پانی کی فراہمی بھی خطرے میں
ماہرین کے مطابق دریاؤں میں پانی کی کمی کا سب سے اہم اور طویل مدتی اثر پینے کے صاف پانی پر پڑ سکتا ہے۔
جرمنی میں متعدد علاقوں میں دریاؤں کے کنارے موجود پودے، مٹی اور دیگر قدرتی عناصر زیرِ زمین پانی اور دریائی پانی کی صفائی کے قدرتی عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ قدرتی نظام پانی میں موجود بعض آلودگیوں کو جذب اور فلٹر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
لیکن خشک سالی کے باعث جب دریاؤں میں پانی کم ہوجاتا ہے تو یہ قدرتی فلٹریشن سسٹم بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔
قدرتی فلٹریشن کا نظام دباؤ میں
جرمنی کے پوٹسڈام انسٹیٹیوٹ فار کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ سے وابستہ ماہر ہاگن کوخ کے مطابق جرمنی کے بڑے حصے میں پینے کے پانی کی فراہمی کا ایک اہم عنصر دریاؤں کے کنارے موجود قدرتی فلٹریشن کا نظام ہے۔
ان کے مطابق اگر پانی صاف کرنے والے قدرتی ماحولیاتی نظام میں موجود پودے اور جانور متاثر ہوتے ہیں تو پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے مصنوعی صفائی اور اضافی ٹریٹمنٹ کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔
اس کا براہ راست اثر پانی کی قیمت پر پڑ سکتا ہے۔
کم پانی، زیادہ آلودگی کا خدشہ
خشک سالی کی صورتحال میں ایک اور بڑا مسئلہ آلودگی کا ہے۔
اگرچہ دریاؤں میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے، لیکن صنعتوں، شہروں اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس سے خارج ہونے والے پانی کی مقدار میں اسی تناسب سے کمی ضروری نہیں ہوتی۔
نتیجتاً کم مقدار کے دریائی پانی میں آلودگی کی شرح نسبتاً زیادہ ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دریاؤں کے قدرتی ماحولیاتی نظام کی پانی صاف کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی تو انسانی استعمال کے لیے پانی کو صاف کرنے کے لیے مزید جدید اور مہنگے طریقے اختیار کرنا پڑیں گے۔
پینے کے پانی کی قیمت بڑھنے کا خدشہ
پانی کی صفائی کے اضافی اخراجات بالآخر صارفین تک منتقل ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قدرتی فلٹریشن کا عمل کمزور ہوتا گیا تو واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کو زیادہ توانائی، زیادہ کیمیکل اور اضافی انفراسٹرکچر استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں لاکھوں یورپی شہریوں کے لیے پینے کے صاف پانی کی قیمت میں اضافہ ممکن ہے۔
توانائی کا شعبہ بھی متاثر
دریاؤں میں پانی کی کمی صرف نقل و حمل اور صنعت کے لیے مسئلہ نہیں بلکہ توانائی کی پیداوار کے لیے بھی چیلنج بن سکتی ہے۔
خاص طور پر وہ بجلی گھر جو دریا کے پانی پر کولنگ یا دیگر ضروریات کے لیے انحصار کرتے ہیں، کم پانی کی صورتحال میں مشکلات کا سامنا کرسکتے ہیں۔
ہنگری میں دریائے ڈینیوب کی کم ہوتی سطح نے پاکس جوہری بجلی گھر کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔
اگر پانی کی سطح اور درجہ حرارت میں مزید ناموافق تبدیلیاں آئیں تو بجلی کی پیداوار اور توانائی کے نظام پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
یورپی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی
رائن اور ڈینیوب میں پانی کی کمی یورپ کے لیے صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اہم معاشی چیلنج بھی بنتی جارہی ہے۔
دریاؤں کے ذریعے کم لاگت پر منتقل ہونے والا سامان اگر سڑک یا ریل کے ذریعے منتقل کرنا پڑے تو نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں صنعتوں کے پیداواری اخراجات، خام مال کی قیمتیں اور بالآخر صارفین کے لیے مصنوعات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
جرمنی میں ہنگامی اقدامات پر غور
صورتحال سے نمٹنے کے لیے جرمنی میں حکام نے مختلف قلیل اور طویل مدتی اقدامات پر غور شروع کردیا ہے۔
جرمنی کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے صنعتوں، بندرگاہوں اور اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے شعبے سے وابستہ نمائندوں کے ساتھ مشاورت کی ہے تاکہ موجودہ بحران سے نمٹنے اور مستقبل کے لیے قابلِ عمل حکمتِ عملی تیار کی جاسکے۔
دریاؤں کو مزید گہرا کرنے کی تجویز
زیرِ غور تجاویز میں رائن کے بعض حصوں کو مزید گہرا کرنا بھی شامل ہے تاکہ کم پانی کی صورتحال میں بھی بحری جہازوں کی آمدورفت جاری رکھی جاسکے۔
حامیوں کے مطابق دریائی راستوں کی گہرائی بڑھانے سے کم پانی میں بھی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم ماحولیاتی ماہرین اس حل کے طویل مدتی اثرات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
مزید کھدائی سے مسئلہ بڑھنے کا خدشہ
ناقدین کا کہنا ہے کہ دریاؤں کو مسلسل گہرا کرنے سے پانی کا بہاؤ تیز ہوسکتا ہے اور زیرِ زمین پانی کی سطح مزید نیچے جاسکتی ہے۔
اسی طرح سیلابی میدانوں کے خشک ہونے کا عمل تیز ہوسکتا ہے، جس سے وہ قدرتی علاقے کمزور پڑ سکتے ہیں جو بارش اور سیلاب کے دوران پانی کو جذب کرکے خشک موسم میں اسے آہستہ آہستہ واپس فراہم کرتے ہیں۔
اس لیے ماہرین کے مطابق صرف دریائی راستوں کو گہرا کرنا مستقل حل نہیں بلکہ بعض حالات میں یہ مستقبل کے پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ کرسکتا ہے۔
کم پانی میں چلنے والے جہاز متبادل حل
کچھ ماہرین کم گہرے پانی میں سفر کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ بحری جہازوں کے استعمال کو بڑھانے کی تجویز دے رہے ہیں۔
ایسے جہاز کم پانی میں بھی نسبتاً زیادہ مؤثر طریقے سے سامان منتقل کرسکتے ہیں اور دریاؤں کی مسلسل کھدائی کی ضرورت کو کم کرسکتے ہیں۔
اسی طرح صنعتی سامان کی ایک بڑی مقدار کو دریاؤں کے بجائے ریلوے کے ذریعے منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
ریلوے پر منتقل ہوسکتی ہے مال برداری
ریلوے یورپ میں بڑے پیمانے پر صنعتی سامان کی نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دریاؤں میں پانی کی سطح مستقل طور پر کم رہنے لگی تو صنعتوں کو اپنی سپلائی چین میں دریائی راستوں کے ساتھ ساتھ ریل کو بھی زیادہ مؤثر متبادل کے طور پر استعمال کرنا ہوگا۔
اس سے دریائی نظام پر دباؤ کم کرنے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی خطرات کے دوران صنعتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کہیں سیلاب، کہیں خشک سالی؛ مسئلہ کہاں ہے؟
یورپ میں ایک طرف بعض علاقوں کو شدید سیلابوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف کچھ خطے غیر معمولی خشک سالی کی زد میں ہیں۔
یہ بظاہر متضاد صورتحال دراصل موسمیاتی تبدیلی کے پیچیدہ اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ پانی کے بخارات بننے کی شرح بڑھاتا ہے، جبکہ بارشوں کے انداز میں تبدیلی سے بعض علاقوں میں شدید بارشیں اور دوسرے علاقوں میں طویل خشک ادوار پیدا ہوسکتے ہیں۔
دریاؤں کی قدرتی حالت بحال کرنے کی ضرورت
جرمنی کی وفاقی ماحولیاتی ایجنسی سے وابستہ سائنس دان جینیٹ فوئلکر کے مطابق یورپی دریاؤں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کے قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی پر توجہ دینا ضروری ہے۔
ماضی میں متعدد دریاؤں کو شہری اور صنعتی ضروریات کے تحت تبدیل کیا گیا، ان کے کناروں کو مضبوط کیا گیا اور سیلابی میدانوں کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ جہاں ممکن ہو وہاں دریاؤں کو زیادہ قدرتی شکل میں واپس لایا جائے۔
سیلابی میدان اور دلدلی علاقوں کی بحالی
ماہرین کے مطابق سیلابی میدانوں کو دوبارہ دریاؤں سے جوڑنا اور دلدلی علاقوں کا تحفظ پانی کے ذخیرے کے قدرتی نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
ایسے علاقے بارش یا سیلاب کے دوران اضافی پانی جذب کرتے ہیں اور خشک موسم میں اسے آہستہ آہستہ ماحول میں واپس منتقل کرتے ہیں۔
اس طرح وہ خشک سالی کے دوران دریاؤں اور زیرِ زمین پانی کے لیے قدرتی ذخیرے کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ڈیم اور آبی ذخائر بھی کردار ادا کرسکتے ہیں
ماہرین کے مطابق مناسب مقامات پر آبی ذخائر اور ڈیم بھی پانی کے بحران سے نمٹنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم ان کی تعمیر ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے۔
پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے خشک موسم میں پانی کی دستیابی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن اگر انہیں غلط انداز میں استعمال کیا جائے تو دریائی ماحولیاتی نظام کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
صرف موافقت کافی نہیں، اخراج میں کمی بھی ضروری
ماہرین کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے تحفظ کے لیے صرف خشک سالی سے نمٹنے کے اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔
اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا بنیادی مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے بیشتر اقدامات مستقل دباؤ کا شکار رہیں گے۔
اس لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، پانی کے بہتر انتظام اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی کو ایک جامع حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔
یورپ کے لیے مستقبل کا بڑا چیلنج
رائن اور ڈینیوب جیسے دریاؤں کی کم ہوتی سطح یورپ کو ایک اہم انتباہ فراہم کررہی ہے۔
یہ دریا صرف پانی کے ذخائر نہیں بلکہ یورپی معیشت، تجارت، صنعت، توانائی، زراعت، پینے کے پانی اور قدرتی ماحول کے بنیادی ستون ہیں۔
اگر خشک سالی کے دورانیے طویل اور زیادہ شدید ہوتے گئے تو یورپ کو مستقبل میں پانی کی تقسیم، صنعت، توانائی اور خوراک کے شعبوں میں بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اختتامیہ
رائن، ڈینیوب اور دیگر بڑے یورپی دریاؤں میں پانی کی غیر معمولی کمی نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا ہے۔ کم پانی نے بحری نقل و حمل اور صنعتی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جبکہ قدرتی فلٹریشن کے نظام، زیرِ زمین پانی اور پینے کے صاف پانی کی مستقبل کی دستیابی کے بارے میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق دریاؤں کو صرف تجارتی آبی راستوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں ایک مکمل ماحولیاتی نظام سمجھنا ہوگا۔ سیلابی میدانوں اور دلدلی علاقوں کی بحالی، پانی کے قدرتی ذخائر کا تحفظ، کم پانی میں چلنے والی نقل و حمل، ریلوے کے استعمال میں اضافہ اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ہی ایسے اقدامات ہیں جو یورپ کو بڑھتے ہوئے آبی بحران کے طویل مدتی اثرات سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ورنہ مستقبل میں رائن اور ڈینیوب میں پانی کی کمی محض ایک ماحولیاتی خبر نہیں رہے گی بلکہ یورپ کی معیشت، صنعت، توانائی اور عام شہری کے پینے کے پانی سے جڑا ہوا ایک بڑا بحران بن سکتی ہے۔



