پاکستانتازہ ترین

پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے دوگنا قیدی: حوالاتیوں کا بڑھتا بوجھ اور اصلاحات کا امتحان

جس کمرے میں انہیں رکھا گیا وہاں 36 افراد کی گنجائش تھی، لیکن ان کے پہنچنے کے وقت وہاں 68 افراد موجود تھے۔

ارمغان ظفر-ادارت
کراچی: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کی موجودگی نے ملک کے نظامِ انصاف، عدالتی تاخیر اور جیل اصلاحات پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ملک بھر میں زیرِ استعمال 128 جیلوں کی مجموعی گنجائش تقریباً 68 ہزار 832 افراد ہے، جبکہ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد سوا لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔نتیجتاً کئی جیلوں میں قیدیوں کو ایسی بیرکوں اور کوٹھریوں میں رکھا جا رہا ہے جہاں ایک وقت میں تمام افراد کے لیے لیٹنا یا سونا بھی ممکن نہیں۔ چھوٹے کمروں میں درجنوں افراد کی موجودگی، محدود واش رومز، صفائی کے مسائل اور بنیادی سہولیات پر بڑھتا ہوا دباؤ جیلوں کے اندر انسانی حالات کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی پرزن ڈیٹا رپورٹ 2026 کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک کی جیل آبادی میں تقریباً 10.5 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ 2023 سے 2024 کے دوران ہونے والے اضافے کے مقابلے میں چھ گنا سے بھی زیادہ ہے۔

پانچ بائی آٹھ فٹ کی کوٹھری، چھ قیدی

پنجاب کی مختلف جیلوں میں تقریباً آٹھ سال گزارنے والے عبدالرؤف اعوان کے لیے میانوالی جیل میں گزاری گئی پہلی رات آج بھی ایک تلخ یاد ہے۔

چند ماہ قبل رہا ہونے والے عبدالرؤف اعوان بتاتے ہیں کہ انہیں شام پانچ بجے بیرک میں بند کیا گیا۔ جب وہ اپنے کمرے میں پہنچے تو ایک کونے میں بمشکل لیٹنے کی جگہ موجود تھی۔ نیند آنے کا سوال ہی نہیں تھا۔

رات کے وقت جب انہیں واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہیں اندازہ ہوا کہ کمرے میں موجود افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنا بھی مشکل ہے۔ ان کے مطابق واش روم کمرے کے دوسرے کونے میں تھا اور وہاں تک جانے کے لیے کوئی مناسب راستہ موجود نہیں تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ انہیں لوگوں کے درمیان سے گزرنے کے بجائے پنجوں کے بل دوسرے قیدیوں کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے واش روم تک پہنچنا پڑا، جہاں پہلے ہی کئی قیدی اپنی باری کے انتظار میں موجود تھے۔

عبدالرؤف کے مطابق جس کمرے میں انہیں رکھا گیا وہاں 36 افراد کی گنجائش تھی، لیکن ان کے پہنچنے کے وقت وہاں 68 افراد موجود تھے۔

یعنی تقریباً دوگنا قیدی ایک ہی جگہ پر موجود تھے۔

شام پانچ بجے سے صبح پانچ بجے تک اتنی بڑی تعداد کے افراد کے لیے صرف دو واش روم دستیاب تھے۔

یہ صرف ایک قیدی کی انفرادی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی کئی جیلوں میں موجود گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کی ایک واضح تصویر ہے۔

جیلوں میں رش کی اصل وجہ کیا ہے؟

جیلوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں موجود افراد کی بڑی تعداد ابھی تک اپنے مقدمات کے فیصلے کی منتظر ہے۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں جیلوں میں موجود حوالاتی قیدیوں، یعنی ایسے افراد جن کے مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہیں، کی شرح تقریباً 27 فیصد ہے۔

پاکستان میں یہ تناسب تقریباً 74 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جیلوں میں موجود ہر چار میں سے تقریباً تین افراد ایسے ہیں جن کے مقدمات ابھی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچے۔

یہ صورتحال نہ صرف جیلوں پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے بلکہ عدالتی نظام کی رفتار اور فوجداری انصاف کے پورے ڈھانچے پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔

پنجاب پرزن ریفارم کمیٹی کی ڈپٹی چیئرپرسن عفت کوثر اعوان کے مطابق جیلوں میں رش کی بنیادی وجہ صرف جیلوں کی کمی نہیں بلکہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہے۔

ان کے مطابق کئی مقدمات برسوں تک زیرِ سماعت رہتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی مقدمے میں تین یا چار افراد جیل میں رہتے ہیں اور کئی سال بعد فیصلہ ہونے پر ان میں سے بعض افراد بری ہو جاتے ہیں۔

یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر کوئی شخص بالآخر بے گناہ قرار پاتا ہے تو وہ اپنی زندگی کے کئی سال جیل میں گزارنے کے بعد واپس آنے کے نقصان کا ازالہ کیسے حاصل کرے گا؟

ضمانت اور متبادل سزاؤں کا محدود استعمال

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایسے افراد بھی جیلوں میں موجود ہیں جنہیں لازماً حراست میں رکھنے کی ضرورت نہیں۔

رپورٹ میں اس مسئلے کے ساتھ ضمانت، ڈائیورژن، پروبیشن، پیرول اور قید کے دیگر متبادل طریقۂ کار کے مؤثر استعمال کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث یا کم خطرہ رکھنے والے افراد کے لیے قانون میں موجود متبادل راستوں کو مؤثر طور پر استعمال کیا جائے تو جیلوں پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اس کے لیے صرف جیلوں کے اندر اصلاحات کافی نہیں ہوں گی۔ پولیس، استغاثہ، عدالتوں اور جیل انتظامیہ سمیت پورے فوجداری نظام میں مربوط اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔

جیل اصلاحات کے اعلانات اور عملی اقدامات

جیلوں کی صورتحال کے پیش نظر حال ہی میں اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت جیل اصلاحات کے موضوع پر ایک کانفرنس بھی منعقد ہوئی، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔

کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں ملک میں جیل اصلاحات کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔

تاہم سابق ممبر بار کونسل حبیب نواز ٹوانہ کے خیال میں محض اعلانات اور کمیٹیوں کے قیام سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق وہ کئی مرتبہ جیل اصلاحات سے متعلق کمیٹیوں کا حصہ رہے ہیں، لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جیل اصلاحات کو عدالتی اصلاحات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب تک عدالتوں میں مقدمات برسوں تک زیرِ سماعت رہیں گے، جیلوں میں رش برقرار رہے گا اور جب تک جیلیں گنجائش سے زیادہ بھری رہیں گی، قیدیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے رہیں گے۔

سندھ میں کچھ اصلاحات، مگر مسائل برقرار

سندھ جیل خانہ جات کے ترجمان بلاول کنبھار بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ گنجائش سے زیادہ قیدی جیل انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

تاہم ان کے مطابق جیلوں کے نظام میں گزشتہ برسوں کے دوران بعض مثبت تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کے کھانے کے مینو میں باقاعدگی سے تبدیلی کی جاتی ہے اور طبی سہولیات کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کے مطابق ہر ماہ ایسے قیدیوں کی فہرست تیار کی جاتی ہے جو اپنی سزا مکمل کر چکے ہوں لیکن جرمانہ یا ہرجانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے جیل میں موجود ہوں۔

کم جرمانے والے قیدیوں کی محکمہ جاتی سطح پر مدد کی جاتی ہے، جبکہ دیگر معاملات وزارتِ انسانی حقوق کو بھیجے جاتے ہیں۔

بلاول کنبھار کے مطابق سندھ کی کسی جیل میں ایسا قیدی نہیں رہنے دیا جاتا جو صرف معمولی جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے قید ہو۔

یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جیل اصلاحات صرف عمارتوں کی تعمیر یا گنجائش بڑھانے تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ قیدیوں کے قانونی، طبی اور انسانی حقوق بھی اس کا بنیادی حصہ ہونے چاہئیں۔

قیدیوں کے لیے صورتحال ماضی سے بہتر، مگر مسائل ختم نہیں ہوئے

پاکستان کی جیلوں میں رہنے والے بعض سابق قیدیوں کے مطابق وقت کے ساتھ جیلوں کی کچھ سہولیات میں بہتری آئی ہے۔

بابا یاسر کھچی، جو پہلی بار 1970 کی دہائی میں اور آخری بار 2023 میں جیل گئے، کہتے ہیں کہ آج جیل میں رہنا ماضی کے مقابلے میں کچھ آسان ضرور ہوا ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں جیلوں میں ایسی مشقت بھی کرائی جاتی تھی جس میں قیدیوں کو عمارتوں کی مرمت اور دیگر سخت کاموں میں مصروف رکھا جاتا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ملاقاتیوں کے لیے سہولیات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کھانے پینے کا نظام بھی پہلے سے بہتر ہے۔

لیکن ان کے مطابق سہولیات میں بہتری کے باوجود جیلوں میں قیدیوں کی صورتحال کی آزادانہ نگرانی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب مجسٹریٹ یا اعلیٰ حکام جیل کا دورہ کرتے ہیں تو بعض اوقات قیدیوں سے عملے کی موجودگی میں حالات پوچھے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں قیدی کے لیے عملے کے خلاف شکایت کرنا آسان نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق اگر کوئی قیدی کھل کر شکایت کرے تو بعد میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آزادانہ نگرانی کا سوال

جیلوں کے اندر تشدد، بدعنوانی، رشوت اور دیگر شکایات کی موجودگی میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ قیدی اپنی شکایت کس حد تک محفوظ اور آزادانہ ماحول میں درج کرا سکتا ہے۔

عفت کوثر اعوان کے مطابق قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے آزادانہ انسپیکشن نہ ہونے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔

ان کے مطابق محکمہ جاتی سطح پر اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے۔

سندھ میں قیدیوں اور دیگر افراد کے لیے شکایات درج کرانے کے نظام میں واٹس ایپ سمیت بعض ذرائع بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق شکایات کے نظام کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب شکایت کرنے والے کو انتقامی کارروائی کے خوف سے آزاد ماحول فراہم کیا جائے۔

جب سونے کے لیے بھی جگہ نہ ہو

جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا سب سے فوری اثر رہائش پر پڑتا ہے۔

عفت کوثر اعوان کے مطابق بعض جگہوں پر پانچ فٹ چوڑی اور آٹھ فٹ لمبی کوٹھری میں چھ قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔

اتنی محدود جگہ میں ایک ہی وقت میں تمام قیدیوں کا لیٹنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

ایسی صورتحال میں قیدیوں کو اپنی نیند کا وقت باہم تقسیم کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ واش روم اور پانی جیسی بنیادی ضروریات بھی مزید مشکل ہو جاتی ہیں۔

ایک چھوٹی سی جگہ میں درجنوں افراد کی موجودگی کا مطلب صرف بے آرامی نہیں بلکہ صفائی، بیماریوں کے پھیلاؤ، ذہنی دباؤ اور انسانی وقار کے حوالے سے بھی سنگین خدشات ہیں۔

راولپنڈی جیل کے قیدیوں کی شکایات

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی جانب سے راولپنڈی جیل کے 51 قیدیوں سے رہائش کے حوالے سے معلومات حاصل کی گئیں۔

ان میں سے 50 قیدیوں نے مناسب بستر یا سونے کے لیے مخصوص جگہ نہ ہونے کی شکایت کی۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف جیلوں کی مجموعی گنجائش کا نہیں بلکہ دستیاب جگہ کے اندر قیدیوں کو بنیادی رہائشی سہولیات فراہم کرنے کا بھی ہے۔

اگر کسی جیل میں قیدیوں کی تعداد اس حد تک بڑھ جائے کہ انہیں سونے کے لیے مناسب جگہ نہ ملے تو جیل کا بنیادی مقصد، یعنی قانونی حراست کے ساتھ انسانی وقار کا تحفظ، شدید متاثر ہوتا ہے۔

جیل کی آبادی بڑھنے کا وسیع تر اثر

جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کا مسئلہ صرف قیدیوں تک محدود نہیں رہتا۔

زیادہ آبادی کا مطلب جیل عملے پر اضافی دباؤ، طبی سہولیات پر بوجھ، خوراک اور پانی کی زیادہ ضرورت، صفائی کے مسائل اور سکیورٹی کے اضافی تقاضے بھی ہیں۔

ایک ہی جگہ پر بہت زیادہ افراد کی موجودگی میں معمولی تنازع بھی بڑے مسئلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اسی طرح اگر بیمار افراد کو صحت مند قیدیوں کے ساتھ بھیڑ والی جگہوں میں رکھا جائے تو بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس صورتحال میں جیل انتظامیہ کے لیے ہر قیدی کو مناسب توجہ دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

مسئلہ صرف نئی جیلیں بنانے سے حل نہیں ہوگا

جیلوں کی گنجائش بڑھانا بظاہر فوری حل معلوم ہوتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ مستقل حل نہیں۔

اگر نئے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد بڑھتی رہے اور پرانے مقدمات کے فیصلے تاخیر کا شکار رہیں تو نئی جیلیں بھی کچھ عرصے بعد بھر سکتی ہیں۔

اسی لیے جیلوں کے بحران کو عدالتی نظام کی کارکردگی سے الگ دیکھنا ممکن نہیں۔

مقدمات کے جلد فیصلے، ضمانت کے نظام کی مؤثر کارکردگی، غیر ضروری حراست میں کمی، پروبیشن اور پیرول کا استعمال، معمولی جرائم کے لیے متبادل سزائیں اور کم خطرہ رکھنے والے قیدیوں کے لیے متبادل قانونی راستوں کو فعال بنانا جیلوں پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اصلاحات کا اصل امتحان

پاکستان میں جیل اصلاحات کے حوالے سے متعدد اعلانات، کمیٹیاں اور پالیسی اقدامات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن موجودہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بنیادی بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔

ایک طرف جیلوں میں خوراک، ملاقات، طبی سہولیات اور ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے شعبوں میں بہتری کے دعوے اور اقدامات موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کی موجودگی بنیادی انسانی ضروریات کو متاثر کر رہی ہے۔

خاص طور پر حوالاتی قیدیوں کی غیر معمولی تعداد اس مسئلے کی جڑ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اگر تقریباً تین چوتھائی قیدی ایسے ہوں جن کے مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہیں تو جیلوں کے بحران کو صرف جیل انتظامیہ کی ناکامی قرار دینا کافی نہیں ہوگا۔

یہ مسئلہ پولیس، استغاثہ، عدالتوں، قانون سازی، ضمانت کے طریقۂ کار اور جیل انتظامیہ سمیت پورے نظامِ انصاف کی مشترکہ ذمہ داری بنتا ہے۔

ایک بڑے سوال کا جواب باقی ہے

میانوالی جیل کے ایک کمرے میں 36 افراد کی گنجائش کے مقابلے میں 68 قیدیوں کا رہنا، راولپنڈی جیل میں 51 میں سے 50 قیدیوں کا مناسب بستر نہ ہونے کی شکایت کرنا اور ملک بھر میں حوالاتی قیدیوں کا تناسب تقریباً 74 فیصد تک پہنچ جانا ایک ہی مسئلے کے مختلف پہلو ہیں۔

یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کا جیل بحران محض جیلوں کی کمی کا بحران نہیں۔

یہ عدالتی تاخیر، غیر ضروری حراست، متبادل سزاؤں کے محدود استعمال، نگرانی کے کمزور نظام اور قیدیوں کے بنیادی حقوق کا بھی بحران ہے۔

جیل اصلاحات کے لیے حالیہ اعلیٰ سطحی عزم اگر عملی اقدامات میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف جیلوں کی دیواروں کے اندر محدود نہیں رہیں گے۔ تیز تر انصاف، مؤثر ضمانت، انسانی بنیادوں پر حراست، آزادانہ نگرانی اور قیدیوں کے حقوق کا تحفظ پورے فوجداری انصاف کے نظام کو زیادہ مؤثر اور انسانی بنا سکتا ہے۔

لیکن جب تک مقدمات برسوں تک زیرِ سماعت رہیں گے اور ہزاروں افراد فیصلوں کے انتظار میں جیلوں میں رہیں گے، ملک کی جیلوں میں بھیڑ کم کرنا ایک مشکل چیلنج رہے گا۔

پاکستان کی جیلوں کا بحران دراصل اس سوال کا امتحان ہے کہ ریاست کسی شخص کو سزا دینے سے پہلے اور سزا کے دوران اس کے بنیادی انسانی وقار کو کس حد تک محفوظ رکھ سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button