
پنجاب کو صاف، سرسبز اور صحت مند بنانا اولین ترجیح، ’صفائی حکومت کی ذمہ داری، برقرار رکھنا شہریوں کا فرض‘: مریم نواز
’’ستھرا پنجاب‘‘ نئے اور صحت مند پنجاب کی بنیاد ہے؛ 25 ہزار دیہات میں صفائی کا منظم پروگرام، سیف سٹی کیمروں سے سڑکوں اور گلی محلوں کی نگرانی، ری سائیکلنگ اور ویسٹ مینجمنٹ پر توجہ
انصار ذاہد سیال-پاکستان
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کو صاف، سرسبز اور اس کے عوام کو صحت مند بنانا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ صاف ستھرا ماحول نہ صرف بیماریوں سے بچاؤ اور بہتر معیار زندگی کی بنیاد ہے بلکہ ایک صحت مند، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
عالمی یومِ صفائی کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے شہریوں پر زور دیا کہ حکومت صفائی کے نظام کو بہتر بنانے، کچرا اٹھانے، ویسٹ مینجمنٹ اور عوامی مقامات کو صاف رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی ہے، تاہم صفائی کو مستقل برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کا تعاون بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلی محلوں کی صفائی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن صفائی برقرار رکھنا شہریوں کا فرض ہے اور ایک صاف پنجاب کی تشکیل حکومت اور عوام دونوں کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
’’ستھرا پنجاب‘‘ کو نئے پنجاب کی بنیاد قرار دے دیا
مریم نواز شریف نے کہا کہ صاف ستھرا پنجاب دراصل صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے اور ’’ستھرا پنجاب‘‘ پراجیکٹ آنے والے وقت میں نئے اور صحت مند پنجاب کی بنیاد بنے گا۔
ان کے مطابق اس پروگرام کا مقصد صفائی کو محض وقتی مہم کے بجائے ایک منظم اور مسلسل نظام میں تبدیل کرنا ہے تاکہ شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی آبادیوں میں بھی صفائی کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔
وزیراعلیٰ نے ’’ستھرا پنجاب‘‘ کو وسیع پیمانے پر صفائی کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت پنجاب کے شہروں کے علاوہ ہزاروں دیہات کو بھی صفائی کے منظم نظام میں شامل کیا گیا ہے۔
پہلی مرتبہ 25 ہزار دیہات کی صفائی کا منظم پروگرام
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پہلی مرتبہ شہروں کے ساتھ 25 ہزار گاؤں کی صفائی کا منظم پروگرام شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی بڑی آبادی شہری مراکز کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی رہتی ہے، اس لیے صوبے میں صفائی کا جامع نظام صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔
دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے سے نہ صرف رہائشی ماحول بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ کھلے مقامات پر کچرے کے ڈھیروں، گندگی اور ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل میں بھی کمی لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
صفائی کو صحت عامہ سے جوڑ دیا
مریم نواز شریف نے صاف ستھرے ماحول کو صحت عامہ کے ساتھ براہ راست منسلک کرتے ہوئے کہا کہ صاف ستھرا ماحول بیماریوں سے بچاؤ اور بہتر معیار زندگی کی ضمانت ہے۔
ماحولیاتی آلودگی، گندگی اور کچرے کے نامناسب انتظام سے شہری علاقوں میں مختلف صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے جدید ویسٹ مینجمنٹ نظام کو شہری سہولیات کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کی پالیسی کا بھی اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس تناظر میں عوام پر زور دیا کہ وہ صفائی کو صرف حکومت کی ذمہ داری نہ سمجھیں بلکہ اپنے گھروں، گلیوں اور محلوں کو صاف رکھنے میں بھی فعال کردار ادا کریں۔
سیف سٹی کیمروں سے صفائی کی صورتحال کی نگرانی
وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب کے مختلف روڈز، گلی محلوں اور شہری علاقوں میں سیف سٹی کیمروں کے ذریعے صفائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
اس طریقہ کار کے ذریعے صفائی کے عمل کی نگرانی، مسائل کی نشاندہی اور متعلقہ اداروں کو بروقت کارروائی کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
شہری انتظامی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے صفائی کے روایتی طریقہ کار کے ساتھ نگرانی اور کارکردگی جانچنے کا ایک اضافی نظام بھی تشکیل دیا جاسکتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری، شہریوں کا فرض
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صفائی کے معاملے میں حکومت اور شہریوں کی ذمہ داریوں کو الگ الگ واضح کرتے ہوئے کہا کہ گلی محلوں کی صفائی کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم صفائی برقرار رکھنا شہریوں کا فرض ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کچرا اٹھانے اور صفائی کا انتظام کرے لیکن شہری سڑکوں، گلیوں اور عوامی مقامات پر کچرا پھینکتے رہیں تو مستقل بنیادوں پر صاف ماحول برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔
اسی لیے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کچرے کو مقررہ اور مناسب مقامات پر پھینکیں اور صفائی کے نظام کے ساتھ تعاون کریں۔
کچرے کی ری سائیکلنگ پر توجہ
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ’’ستھرا پنجاب‘‘ پروگرام کے تحت کچرے کی ری سائیکلنگ، ویسٹ مینجمنٹ اور پبلک مقامات کی صفائی کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
ری سائیکلنگ کے ذریعے قابل استعمال مواد کو دوبارہ استعمال میں لایا جاسکتا ہے، جس سے لینڈ فلز اور کچرے کے ڈھیروں پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کاغذ، پلاسٹک، شیشہ اور دھات سمیت متعدد اقسام کے کچرے کو مناسب طریقے سے الگ کرکے ری سائیکل کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے شہریوں کی جانب سے کچرے کو مناسب طریقے سے تلف کرنا اور انتظامی نظام کا مؤثر ہونا ضروری ہے۔
پلاسٹک کے استعمال میں کمی کی اپیل
مریم نواز شریف نے عوام سے پلاسٹک کا استعمال کم کرنے اور کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کی اپیل بھی کی۔
پلاسٹک کا غیر ضروری استعمال شہری صفائی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی کا بھی ایک اہم مسئلہ ہے، خصوصاً جب پلاسٹک کے تھیلے اور دیگر اشیا نالوں، سیوریج لائنوں، کھلے مقامات اور آبی گزرگاہوں میں پھینک دی جائیں۔
حکومت کی جانب سے صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ شہریوں سے پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی اپیل اسی وسیع تر ماحولیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ماحول کا تحفظ اجتماعی ذمہ داری ہے
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کرہ ارض کو صاف ستھرا رکھنا ماحول کی حفاظت اور انسانی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری معاشرتی سطح پر مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہر فرد اپنے گھر، گلی، محلے، بازار اور کام کی جگہ کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے تو اجتماعی طور پر صفائی کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
صاف پاکستان، صحت مند اور ترقی یافتہ پاکستان
مریم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’صاف پاکستان ہی صحت مند اور ترقی یافتہ پاکستان ہے‘‘۔
انہوں نے صاف ماحول کو ملک کے مستقبل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کا نام نہیں بلکہ شہریوں کو صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنا بھی ترقی کا بنیادی تقاضا ہے۔
صاف ستھرے شہروں اور دیہات سے شہریوں کے معیار زندگی میں بہتری کے ساتھ کاروباری، تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں کے لیے بھی بہتر ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔
عالمی یومِ صفائی کا پیغام
عالمی یومِ صفائی کے موقع پر وزیراعلیٰ کا پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں صفائی، کچرے کے بہتر انتظام، پلاسٹک آلودگی میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ کو اہم عالمی چیلنجز میں شمار کیا جارہا ہے۔
پاکستان جیسے بڑی آبادی والے ملک میں شہری آبادی میں اضافے، تیزی سے پھیلتے شہروں اور بڑھتے ہوئے کچرے کے باعث مؤثر ویسٹ مینجمنٹ کی ضرورت مزید اہم ہوگئی ہے۔
پنجاب، ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہونے کے باعث اس مسئلے میں خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے لیے بھی مؤثر صفائی نظام کی ضرورت ہے۔
شہری رویوں میں تبدیلی پر زور
صفائی کے نظام کو کامیاب بنانے کے لیے صرف کچرا اٹھانے کی سہولت کافی نہیں بلکہ شہری رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔
گھروں سے کچرا مناسب طریقے سے باہر نکالنا، اسے مقررہ جگہ پر ڈالنا، سڑکوں پر گندگی نہ پھینکنا، پلاسٹک کا غیر ضروری استعمال کم کرنا اور عوامی مقامات کی صفائی کا خیال رکھنا ایسے اقدامات ہیں جن میں براہ راست شہری شرکت ضروری ہے۔
اسی لیے وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں حکومت کی ذمہ داری کے ساتھ شہریوں کے فرض کو بھی نمایاں کیا ہے۔
’’ستھرا پنجاب‘‘ میں ٹیکنالوجی کا کردار
سیف سٹی کیمروں کے ذریعے صفائی کی صورتحال کی نگرانی کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ صوبائی حکومت صفائی کے انتظام میں روایتی طریقہ کار کے ساتھ ٹیکنالوجی کو بھی استعمال کرنا چاہتی ہے۔
کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے صفائی کی صورتحال کا مشاہدہ، شکایات کی نشاندہی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نشاندہی کیے گئے مسائل پر متعلقہ ادارے کتنی تیزی اور مستقل مزاجی سے کارروائی کرتے ہیں۔
پائیدار اور ماحول دوست اقدامات
وزیراعلیٰ نے ’’ستھرا پنجاب‘‘ کے تحت پائیدار اور ماحول دوست اقدامات جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
ماحولیاتی طور پر پائیدار صفائی نظام میں کچرے کو کم کرنا، ری سائیکلنگ کو فروغ دینا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، کچرے کو مناسب طریقے سے تلف کرنا اور عوامی مقامات کی مستقل دیکھ بھال جیسے اقدامات اہم سمجھے جاتے ہیں۔
اس حوالے سے پنجاب میں صفائی کے نظام کو محض کچرا اٹھانے کی سرگرمی کے بجائے وسیع تر ویسٹ مینجمنٹ کے تصور سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
صفائی سے شہری معیارِ زندگی میں بہتری
صاف سڑکیں، گلیاں، بازار، پارکس اور عوامی مقامات کسی بھی شہر کے مجموعی معیار زندگی کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔
کچرے کے ڈھیروں، بند نالوں اور آلودہ عوامی مقامات سے نہ صرف شہری ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی، صحت اور شہر کے مجموعی تاثر پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے صفائی کے بہتر نظام کو شہری سہولیات کے بنیادی اجزا میں شمار کیا جاتا ہے۔
مذہبی اور معاشرتی ذمہ داری
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے پیغام میں صفائی کی اہمیت کو مذہبی حوالے سے بھی اجاگر کیا اور کہا کہ صفائی ہر مسلمان کے لیے نصف ایمان کا درجہ رکھتی ہے۔
انہوں نے صفائی کو مذہبی تصور کے ساتھ ساتھ ایک اجتماعی اور معاشرتی ذمہ داری بھی قرار دیا، جس کے لیے حکومت، اداروں، کاروباری طبقے اور عام شہریوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
پنجاب کے لیے طویل مدتی ماحولیاتی چیلنج
پنجاب میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، صنعتی سرگرمیوں اور روزمرہ پیدا ہونے والے کچرے کے باعث ویسٹ مینجمنٹ مستقبل میں بھی ایک اہم انتظامی چیلنج رہے گا۔
’’ستھرا پنجاب‘‘ جیسے پروگراموں کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار صفائی کے مستقل نظام، مؤثر نگرانی، مناسب وسائل، ویسٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر، ری سائیکلنگ کی صلاحیت اور شہریوں کے تعاون پر ہوگا۔
وزیراعلیٰ کا عالمی یومِ صفائی پر پیغام اسی تناظر میں صفائی کو ایک مستقل حکومتی ترجیح اور اجتماعی شہری ذمہ داری کے طور پر پیش کرتا ہے۔
عوام سے وزیراعلیٰ کی اپیل
مریم نواز شریف نے پنجاب کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں، گلیوں اور محلوں کو صاف رکھنے میں بھرپور کردار ادا کریں، کوڑا کرکٹ مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں اور پلاسٹک کے استعمال سے حتی الامکان گریز کریں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پنجاب کو صاف، سرسبز اور صحت مند بنانے کے لیے ماحول دوست اور پائیدار اقدامات جاری رکھے گی۔
ان کے مطابق صاف ستھرا پنجاب صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ ایسا اجتماعی مقصد ہے جس میں حکومت اور عوام دونوں کی شمولیت ضروری ہے۔



