
ماسکو/کیف: روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے ماسکو اور اس کے گردونواح کو ایک بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، جس کے دوران روسی فضائی دفاعی نظام نے 1,600 سے زائد ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا۔ حکام کے مطابق حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ ماسکو کی ایک بڑی آئل ریفائنری کو بھی نقصان پہنچا۔
حملہ ایسے وقت میں ہوا جب روس میں پارلیمانی انتخابات کے تین روزہ عمل کا آخری دن تھا۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے حملے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کا مقصد انتخابی عمل میں خلل ڈالنا تھا۔ تاہم یوکرین کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
450 ڈرونز کا رخ ماسکو کی جانب تھا
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق روسی فضائی دفاع نے مختلف دفاعی حدود میں 1,600 سے زیادہ یوکرینی ڈرونز کو روکا یا تباہ کیا، جن میں تقریباً 450 ڈرونز ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔
روسی حکام نے اسے دارالحکومت کے خلاف اب تک کے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں شمار کیا ہے۔
روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ الگ اعداد و شمار میں کہا گیا کہ رات کے دوران 1,110 یوکرینی ڈرونز کو روکا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف روسی ادارے حملے کے مختلف اوقات اور علاقوں کے اعداد و شمار رپورٹ کررہے تھے۔
ماسکو آئل ریفائنری بھی نشانے پر
روسی حکام کے مطابق متعدد ڈرونز ماسکو آئل ریفائنری کے علاقے تک پہنچے، جس کے نتیجے میں ریفائنری کے ایک حصے کو نقصان پہنچا۔
یہ ریفائنری ماسکو کے ایندھن کے نظام میں اہم کردار رکھتی ہے اور اس سے قبل بھی ڈرون حملوں کا سامنا کرچکی ہے۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ڈرون جنگ کا ایک اہم پہلو بن چکا ہے۔
رہائشی عمارت میں آگ، 400 افراد کا انخلا
ماسکو کے گردونواح میں بھی ڈرون حملوں کے اثرات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ماسکو ریجن کے گورنر آندرے ووروبیوف کے مطابق رامنسکوئے کے علاقے میں ایک ڈرون کے رہائشی عمارت سے ٹکرانے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ حکام نے عمارت سے تقریباً 400 افراد، جن میں 70 بچے بھی شامل تھے، کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ عمارت 21 منزلہ بتائی گئی ہے۔
روسی حکام کے مطابق ماسکو ریجن میں حملوں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔
روسی حکام کا انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کا الزام
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے الزام عائد کیا کہ ڈرون حملہ روس کے پارلیمانی انتخابات کو متاثر کرنے کے مقصد سے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حملہ غیر معمولی نوعیت کا تھا تاہم روسی حکام کے مطابق انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔
یہ حملہ روسی پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ہوا، جس کے باعث ماسکو پر ہونے والے ڈرون حملے کو انتخابی ماحول کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
یوکرین پر روسی ڈرون حملہ بھی جاری
دوسری جانب یوکرین کی فضائیہ نے کہا ہے کہ روس نے ہفتے کی شام سے اتوار کی صبح تک یوکرین کے خلاف 138 ڈرونز استعمال کیے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے 101 ڈرونز کو تباہ یا الیکٹرانک ذرائع سے ناکارہ بنا دیا۔ یوکرینی حکام نے 17 مقامات پر فضائی حملوں کے اثرات اور پانچ مقامات پر ملبہ گرنے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملے میں شاہد، گیربرا اور دیگر اقسام کے ڈرونز استعمال کیے گئے۔
ڈرون جنگ میں شدت
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے کے ساتھ ڈرونز دونوں جانب سے جنگی کارروائیوں کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔
یوکرین طویل فاصلے تک پہنچنے والے ڈرونز کے ذریعے روس کے توانائی اور فوجی و لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے، جبکہ روس بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کے ذریعے یوکرین کے توانائی، صنعتی اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق فضائی دفاعی نظام کو بڑی تعداد میں ڈرونز کے ذریعے دباؤ میں لانے کی حکمت عملی بھی اختیار کررہے ہیں۔
توانائی کا بنیادی ڈھانچہ جنگ کا اہم محاذ
ماسکو کی آئل ریفائنری کو پہنچنے والا نقصان اس لیے بھی اہم ہے کہ روسی توانائی کا شعبہ جنگ کے دوران یوکرینی ڈرون حملوں کا بارہا ہدف بنتا رہا ہے۔
آئل ریفائنریوں اور دیگر توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے ایندھن کی پیداوار، مقامی سپلائی اور قیمتوں پر دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث ملک کے بعض علاقوں میں ایندھن کی دستیابی سے متعلق مسائل بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
فضائی دفاع پر بڑھتا دباؤ
ایک ہی حملے میں سیکڑوں یا ہزاروں ڈرونز کے استعمال نے جدید جنگ میں فضائی دفاع کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کردیا ہے۔
مہنگے میزائلوں کے مقابلے میں نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز کی بڑی تعداد دفاعی نظام کے لیے اس لحاظ سے مشکل پیدا کرسکتی ہے کہ انہیں روکنے کے لیے مسلسل نگرانی، ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر اور مختلف نوعیت کے دفاعی ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں۔
روس اور یوکرین دونوں نے حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں اور ان کے مقابل فضائی دفاعی کارروائیوں کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
انتخابی دن ماسکو پر حملہ، جنگ کا نیا سیاسی پہلو
ماسکو پر تازہ حملہ روسی پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ہوا، جس نے اس واقعے کو عسکری کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی تناظر بھی دے دیا ہے۔
روسی حکام نے اسے انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ یوکرین نے فوری طور پر اس الزام کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس لیے حملے کے مبینہ سیاسی مقصد سے متعلق روسی مؤقف کو فی الحال روسی حکام کا دعویٰ ہی قرار دیا جا رہا ہے۔
جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود حملے جاری
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنانے سے متعلق سفارتی کوششوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایسے کسی سمجھوتے کے اعلان کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔
اس کے باوجود دونوں جانب سے توانائی اور دیگر اہم تنصیبات کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
روس اور یوکرین کا متوازی فضائی محاذ
تازہ واقعات نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ اب صرف زمینی محاذ تک محدود نہیں رہی۔ بڑے پیمانے پر ڈرون حملے، فضائی دفاع، الیکٹرانک وارفیئر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جنگ کی موجودہ حکمت عملی کے اہم حصے بن چکے ہیں۔
ماسکو پر 1,600 سے زائد ڈرونز کے روسی دعوے اور اسی دوران یوکرین پر 138 روسی ڈرونز کے یوکرینی اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف بڑے پیمانے پر بغیر پائلٹ فضائی نظام استعمال کررہے ہیں۔ البتہ دونوں جانب سے جاری کردہ جنگی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق مشکل ہوتی ہے۔



