
ایران: بہائی مذہب کے افراد کے اثاثوں کی بڑے پیمانے پر ضبطی
''یہ طریقہ، جسے اسلامی جمہوریہ نے پہلے معاشرے کے ایک حصے پر آزمایا تھا، اب اس کے مخالفین کے خلاف وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘
ایرانی حکام نے بیرون ممالک مقیم 400 سے زائد افراد کے اثاثے ضبط کرنے کے عدالتی احکامات کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان افراد میں فن کار، کھلاڑی اور بیرون ممالک کام کرنے والے صحافی شامل ہیں، جنہیں حکام نے ”دشمن کے حامی‘‘ قرار دیا ہے۔
بہائی مذہب 19ویں صدی کے فارس (موجودہ ایران) میں وجود میں آیا اور اسلامی جمہوریہ ایران اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ ایرانی آئین کا آرٹیکل 13 صرف مسیحیوں، یہودیوں اور زرتشتیوں کو بطور مذہبی اقلیت تسلیم کرتا ہے، تاہم بہائی اس میں شامل نہیں۔ اس لیے وہ طویل عرصے سے امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کا شکار ہیں۔
’اسرائیل کا جاسوس‘ ہونے کے الزامات
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ‘ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی ان ایران‘ (HRANA) نے رپورٹ کیا کہ اگست کے آخر میں ”بہائی شہریوں کی گرفتاریوں، گھروں اور کاروباری مراکز کی تلاشی اور ان کی املاک کی ضبطی کی ایک لہر‘‘ سامنے آئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد سے بہائی کمیونٹی کے خلاف کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ ”نفرت، تشدد، امتیازی سلوک اور غلط معلومات پھیلانے کی ایک مربوط ریاستی مہم‘‘ ہے، جس میں بہائیوں پر جھوٹا الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے جاسوسی اور اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
انٹرنیشنل بہائی کمیونٹی کی ترجمان پدیدہ ثابتی نے کہا، ”موجودہ حالات میں ایران میں تمام لوگ اقتصادی مشکلات اور انتہائی دشوار زندگی کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے خاندانوں کے لیے بمشکل کھانے کا انتظام کر پا رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بہائی برادری کو ملک کی اقتصادی صورتِ حال کا مزید سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ”حکومت کے امتیازی اقدامات انہیں روزگار کمانے کے مواقع سے محروم کر دیتے ہیں۔‘‘
ثابتی کے مطابق عدلیہ غربت کو دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرتی ہے اور بھاری ضمانتی رقم طلب کرتی ہے، جو بعض اوقات ”ایک اوسط شہری کی سو سال کی آمدنی کے برابر‘‘ ہوتی ہے۔
اثاثوں کی ضبطی کی معیشت
پیرس میں مقیم صحافی سجاد خداکرمی نے کہا کہ حکومت مخالف افراد کو نشانہ بنانا واضح نفسیاتی دباؤ کا پیغام ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ طریقہ، جسے اسلامی جمہوریہ نے پہلے معاشرے کے ایک حصے پر آزمایا تھا، اب اس کے مخالفین کے خلاف وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘
خداکرمی نے مزید کہا، ”آج جبر کا یہ ہتھیار صرف بہائی برادری کے کچھ حصوں کو ہی نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات، جن میں صحافی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن اور حکمران سیاسی نظام کی مخالفت کرنے والے فن کار بھی شامل ہیں، اس کی زد میں ہیں۔‘‘
ان کے بقول، ”جب اسلامی جمہوریہ سینکڑوں لوگوں کے اثاثوں کو نشانہ بناتا ہے تو یہ انہیں پیغام دیتا ہے کہ جسمانی طور پر ہماری پہنچ سے باہر ہونے کے باوجود ہم ہر طرف سے آپ پر دباؤ ڈالتے رہیں گے۔‘‘

چھاپوں میں کھلونے اور شادی کی انگوٹھیاں بھی ضبط
بین الاقوامی انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق حالیہ گھروں پر چھاپوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے سونا، برقی آلات، کام کے اوزار، شادی کی انگوٹھیاں اور بچوں کے کھلونے تک قبضے میں لے لیے۔
سجاد خداکرمی کے نزدیک روزمرہ گھریلو اشیا کی ضبطی حکومت کی ایک تشویش ناک پالیسی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا، ”جب حکومتی اہلکار کسی جوڑے کی شادی کی انگوٹھیاں یا کسی بچے کے کھلونے تک ضبط کرنے کی حد تک گر جائیں تو یہ بربریت کی علامت ہے۔‘‘
ان کے مطابق یہ رویہ صرف بہائی برادری کے لیے پیغام نہیں بلکہ تمام اختلاف رائے رکھنے والوں کے لیے ایک وسیع تر انتباہ بھی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ذاتی اثاثوں کی ضبطی اگرچہ خوف پیدا کرنے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے اور سکیورٹی کے نظام کے لیے محدود مالی وسائل پیدا کر سکتی ہے، تاہم اس سے ایران کے بنیادی اقتصادی مسائل حل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی عام ایرانی شہریوں کو درپیش مالی دباؤ میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے۔



